اردو
हिन्दी
مارچ 11, 2026
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں

نئی دہلی -کابل کے درمیان باضابطہ مذاکرات کے معنی

5 سال پہلے
‏‏‎ ‎‏‏‎ ‎|‏‏‎ ‎‏‏‎ ‎ فکر ونظر, مضامین
A A
0
نئی دہلی -کابل کے درمیان باضابطہ مذاکرات کے معنی
60
مشاہدات
Share on FacebookShare on TwitterShare on Whatsapp

عباس دھالیوال،مالیر کوٹلہ

گزشتہ 15 کے بعد کابل میں طالبان کے قبضے کے بعد جب ان کے افغانستان میں بر سرِ اقتدار میں آنے کے چرچے شروع ہوئے ہیں تب سے دنیا کے الگ الگ ممالک میں طالبان کو لیکر مختلف حکمت عملیاں سامنے آ رہی ہیں. اس ضمن میں پاکستان، ترکی، روس، چین اور ایران وغیرہ نے ایک طرح سے یہ واضح اشارہ دیئے ہیں کہ وہ افعانستان کی نئی حکومت کے ساتھ اپنے تعلقات اور مضبوط کرنے کے خواہاں ہیں ۔ یہی وجہ ہے کہ ان ملکوں کے سفارت خانے بھی فعال طریقے سے اپنے کام کر رہے ہیں۔

ادھر مختلف تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ 15 اگست کو کابل پر طالبان کے قبضے سے لے کر اب تک بھارت دیکھو اور انتظار کرو کی پالیسی اپنائے ہوئے ہے۔ لہٰذابیرونی دنیا کے ردِعمل سے قبل بھارت بھی طالبان سے متعلق کوئی دو ٹوک پالیسی نہیں اپنانا چاہے گا۔

افغان طالبان کے سینئر رہنما شیر محمد عباس ستانکزئی نے بھارت کو تجارتی اور اقتصادی تعلقات استوار کرنے کی پیش کش کی ہے جس پر تاحال بھارت کی جانب سے کوئی ردِعمل سامنے نہیں آیا۔

جبکہ گزشتہ دنوں دوحہ میں طالبان کے سیاسی دفتر کے نائب سربراہ شیر محمد عباس ستانکزئی کا کہنا تھا کہ برِصغیر کے لیے بھارت ایک اہم ملک ہے۔ طالبان اس کے ساتھ ثقافتی، اقتصادی، تجارتی اور سیاسی رشتے رکھنا چاہتے ہیں۔ ستانکزئی نے یہ بھی کہا تھا کہ بھارت کے ساتھ فضائی اور تجارتی راہداری کو بھی کھلا رکھنے کی ضرورت ہے۔

ذرائع کے مطابق طالبان رہنما بھارت اور افغانستان کے درمیان اس فضائی راہداری کی طرف اشارہ کر رہے تھے جو دونوں ملکوں کی باہمی تجارت کو فروغ دینے کے لیے قائم کی گئی تھی۔جبکہ افغان خبر رساں ایجنسی ’طلوع نیوز‘ نے ستانکزئی کے حوالے سے کہا ہے کہ طالبان قیادت فی الحال مختلف نسلی گروپس اور سیاسی جماعتوں کے ساتھ مشاورت کر رہی ہے تاکہ ایک ایسی حکومت قائم کی جائے جو افعانستان کے اندر اور باہر بھی قابل قبول ہو… ذرائع کے مطابق ستنکزئی کے بھارت کے ساتھ سیاسی، اقتصادی و تجارتی رشتے کو اہمیت دینے اور ان رشتوں کو برقرار رکھنے کے بیان کو بھارت میں اہمیت تو دی جارہی ہے مگر اسے محتاط انداز میں دیکھا جا رہا ہے۔

تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ طالبان رہنما عباس ستانکزئی کا یہ بیان طالبان کے تعلق سے تمام فریقوں کے ساتھ بھارت کی خفیہ یا اعلانیہ سفارت کاری کے بارے میں مہینوں کی قیاس آرائیوں کے درمیان آیا ہے۔ان کے مطابق ستانکزئی کے ویڈیو بیان سے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ بھارت اور طالبان کے درمیان رشتوں میں کچھ بہتری آئی ہے۔یہاں قابل ذکر ہے کہ کابل پر طالبان کے قبضے کے بعد سلامتی کونسل کی جانب سے 15 اگست کو ایک بیان جاری کیا گیا تھا جس میں واضح طور پر طالبان کا نام لیا گیا تھا۔اس بیان میں یہ اپیل کی گئی تھی کہ طالبان اپنی سرزمین کو دہشت گردی کے لیے استعمال کرنے کی اجازت نہ دیں۔

رپورٹس کے مطابق اب 27 اگست کو سلامتی کونسل کی جانب سے جو بیان جاری کیا گیا ہے اس میں طالبان کا نام شامل نہیں ہے۔ بلکہ یہ کہا گیا ہے کہ کسی بھی افغان گروپ یا انفرادی شخص کو دہشت گردوں کی حمایت نہیں کرنی چاہیے۔تجزیہ کاروں کے مطابق سلامتی کونسل کے بیان میں یہ تبدیلی طالبان کے متعلق بھارت کے بدلتے نظریے کی جانب اشارہ کرتی ہے۔

ادھر سابق سفارت کار راجیو ڈوگرہ نے ایک نیوز چینل سے گفتگو میں کہا کہ ماضی کے واقعات کے پیشِ نظر بھارت بہت ہی سنبھل کر چل رہا ہے۔تاہم ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ اس بار ایسا محسوس ہوتا ہے کہ موجودہ طالبان سابقہ طالبان سے مختلف ہیں۔ ابھی تک ان کے جو بیانات سامنے آئے ہیں وہ اسی جانب اشارہ کرتے ہیں۔

اس حوالے سے ڈوگرہ نے شیر محمد ستانکزئی کے بیان کو بہت اہم قرار دیا اور کہا کہ ایسا لگتا ہے کہ طالبان بھارت کے ساتھ تمام قسم کے رشتے استوار کرنا چاہتے ہیں۔ حالاں کہ بھارت کو بہت محتاط ہو کر آگے بڑھنا ہے لیکن اسے طالبان کی اس پیش کش کو مسترد بھی نہیں کرنا چاہیے۔

دریں اثناء سابق سفارت کار راجیو ڈوگرہ نے اس بات پر زور دیا ہے کہ بھارت کو افغانستان کی نئی حکومت کے ساتھ رشتے استوار کرنے چاہئیں۔ کیونکہ اس نے افغانستان کی تعمیر نو میں تین ارب ڈالر سے زائد کی سرمایہ کاری کی ہے۔ان کا مزید کہنا تھا کہ افغانستان میں بھارت کے مفادات ہیں۔ ان مفادات کے تحفظ کے لیے ضروری ہے کہ بھارت قندھار واقعہ کو فراموش کر کے نئی حکومت کے ساتھ اپنے تعلقات بحال کرے۔

30 اگست کی شب کو جیسے ہی امریکی افواج کا انخلا مکمل ہوا تو مانو افغانستان میں ایک جشن کا ماحول بننے لگا اور طالبان نے کابل ہوائی اڈے کی سیکورٹی مکمل طور پر پر اپنے ہاتھوں میں لے لی۔ چنانچہ بدلتی صورتحال کے پیش نظر منگل کے روز قطر میں ہندوستانی سفیر نے طالبان کے ایک اعلیٰ رہنما سے گفتگو کی ۔ اس ضمن میں بھارتی وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ سخت گیر اسلام پسند گروپ کے افغانستان پر قبضہ کرنے کے بعد یہ ان سے پہلا باضابطہ سفارتی رابطہ ہے۔ اس سلسلے میں سفیر دیپک متل نے طالبان کی درخواست پر دوحہ میں طالبان کے سیاسی دفتر کے سربراہ شیر محمد عباس ستانکزئی سے ملاقات کی۔

ہندوستان کو جو ایک لمبے عرصے سے طالبان کے بارے میں خدشات لاحق ہیں ان خدشات کی بڑی وجہ یہ ہے کہ طالبان کے اس کے قریبی حریف پاکستان سے نزدیکی تعلقات ہیں۔ وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ متل نے ستانکزئی کو ہندوستان کے اس خدشے سے آگاہ کروایا ہے کہ بھارت مخالف عسکریت پسند افغانستان کی سرزمین کو حملوں کے لیے استعمال کر سکتے ہیں۔ گفتگو کے بعد وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ ’طالبان کے نمائندے نے سفیر کو یقین دلایا کہ ان مسائل کو مثبت طور پر حل کیا جائے گا۔‘

یہاں قابل ذکر ہے کہ ہندوستان نے گزشتہ سالوں کے دوران افغانستان میں ترقیاتی کاموں میں تقریباً 3 ارب ڈالر سے زیادہ کی سرمایہ کاری کی ہے جبکہ دریں اثناء امریکہ کی حمایت یافتہ کابل حکومت کے ساتھ بھی بھارت نے قریبی تعلقات استوار کیے تھے۔ لیکن گزشتہ 15 اگست کے بعد جس طرح سے طالبان کی تیزی سے پیش قدمی ہوئی ہے اور اس کے نتیجے میں طالبان جیسے افغانستان پر قبضے کے جمانے میں کامیاب ہوئے ہیں اس کے بعد سے بھارتی حکومت کو عسکریت پسندوں کے ساتھ رابطے کا کوئی چینل نہ کھولنے پر ملک میں لگاتار تنقید کا سامنا کرنا پڑ رہا تھا ۔

وزارت خارجہ نے کہا،سفیر متل نے بھارت کی تشویش کا اظہار کیا کہ افغانستان کی سرزمین کسی بھی طرح بھارت مخالف سرگرمیوں اور دہشت گردی کے لیے استعمال نہیں ہونی چاہیے۔

یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ ستانکزئی نےبھارتی فوجی اکیڈمی میں تربیت حاصل کی. جن کے متعلق بھارتی حکام کہتے ہیں کہ انہوں نے 1980 کی دہائی میں ایک بھارتی فوجی اکیڈمی میں افغان افسر کی حیثیت سے تربیت حاصل کی تھی، گزشتہ ماہ غیر رسمی طور پر بھارت سے رابطہ کیا تھا اور اس سے کہا تھا کہ وہ اپنا سفارت خانہ بند نہ کرے۔

اب کل ملا کر اگر طالبان کی بات کریں تو اس بار ان کے لب و لہجے اور باڈی لینگویج کافی حد تک بدلی بدلی سی نظر آتی ہے شاید یہی وجہ ہے کہ مختلف ممالک جن میں روس، چین ترکی ایران پاکستان اور یورپی یونین وغیرہ افغانستان کے ضمن میں طالبان سے حسنِ ظن والے خیالات و تاثرات رکھتے ہوئے محسوس ہوتے ہیں. اب دیکھتے ہیں آنے والے دنوں میں حالات کس طرف کروٹ لیتے ہیں اور طالبان کا اقتدار افغانستان و عالمی برادری کو کس قدر راس آتا ہے…

قارئین سے ایک گزارش

سچ کے ساتھ آزاد میڈیا وقت کی اہم ضرورت ہےـ روزنامہ خبریں سخت ترین چیلنجوں کے سایے میں گزشتہ دس سال سے یہ خدمت انجام دے رہا ہے۔ اردو، ہندی ویب سائٹ کے ساتھ یو ٹیوب چینل بھی۔ جلد انگریزی پورٹل شروع کرنے کا منصوبہ ہے۔ یہ کاز عوامی تعاون کے بغیر نہیں ہوسکتا۔ اسے جاری رکھنے کے لیے ہمیں آپ کے تعاون کی ضرورت ہے۔

سپورٹ کریں سبسکرائب کریں

مزید خبریں

Modi Israel Gaza Questions Debate
مضامین

پی ایم مودی کے دورہ اسرائیل میں غزہ کے مصائب کا ذکر تک نہ ہونے پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔ کیا چاہتا ہے بھارت ؟

28 فروری
Sanjeev Srivastava Kachori Controversy Debate
مضامین

بی بی سی نیوز کے انڈیا ہیڈ رہے سنجیو سریواستو کے کچوری کی دکان کھولنے پر اتنا ہنگامہ کیوں ہے؟

24 فروری
Bhagwat Commentary Critical Analysis
مضامین

ملاحظات: بھاگوت بھٹکاؤ کی راہ پر

23 فروری
  • ٹرینڈنگ
  • تبصرے
  • تازہ ترین
Mohammed bin Salman Iran Role Claim

ایران پر حملہ میں محمد بن سلمان کا کا ا ہم رول؟ واشنگٹن پوسٹ کا دعویٰ

مارچ 2, 2026
Trump Warning Iran Military Claim

لڑائی میں مزید امریکی فوجی مارے جاسکتے ہیں ٹرمپ کی وارننگ، ایران کی ملٹری کمانڈ ختم کرنے کا دعویٰ

مارچ 2, 2026
Jamiat Iran Solidarity Statement News

اسرائیلی بربریت سے عالمی امن تہہ و بالا، جمعیتہ کا دکھ میں ایرانی عوام کے ساتھ اظہار یکجتی

مارچ 2, 2026
US Bases Missile Attacks Middle East

مڈل ایسٹ میں 27 امریکی فوجی اڈوں پر میزائل حملے ،کرا چی میں امریکی سفارتخانہ میں توڑ پھوڑ ،دس مظاہرین مادے گئے، تہران میں دھماکے

مارچ 1, 2026
Iran War Secret Briefing

ایران جنگ پر امریکی کانگریس کی ‘خفیہ بریفنگ نے دنیا کی نیند اڑادی٫ جانیں ایسا کیا ہے رپورٹ میں؟

Iran Israel Strikes Damage

اسرائیل کو کھنڈر بنارہا ہے ایران،بن گورین ایئرپورٹ ،فوج کا کمیونکیشن سسٹم تباہ، بینک، مالیاتی ادارے نشانے پر

تنقید جرم ,سرکار کا حکم؟ایکس اور انسٹاگرام نے پی ایم مودی پر تنقیدی پوسٹس کو ہٹا دیا ،

تنقید جرم ,سرکار کا حکم؟ایکس اور انسٹاگرام نے پی ایم مودی پر تنقیدی پوسٹس کو ہٹا دیا ،

Uttam Nagar Incident Jamiat News

اتم نگر واقعہ پر جمعیتہ آگے بڑھی، جوائنٹ پولیس کمشنر سے ملاقات، وزیر داخلہ کو مکتوب

Iran War Secret Briefing

ایران جنگ پر امریکی کانگریس کی ‘خفیہ بریفنگ نے دنیا کی نیند اڑادی٫ جانیں ایسا کیا ہے رپورٹ میں؟

مارچ 11, 2026
Iran Israel Strikes Damage

اسرائیل کو کھنڈر بنارہا ہے ایران،بن گورین ایئرپورٹ ،فوج کا کمیونکیشن سسٹم تباہ، بینک، مالیاتی ادارے نشانے پر

مارچ 11, 2026
تنقید جرم ,سرکار کا حکم؟ایکس اور انسٹاگرام نے پی ایم مودی پر تنقیدی پوسٹس کو ہٹا دیا ،

تنقید جرم ,سرکار کا حکم؟ایکس اور انسٹاگرام نے پی ایم مودی پر تنقیدی پوسٹس کو ہٹا دیا ،

مارچ 11, 2026
Uttam Nagar Incident Jamiat News

اتم نگر واقعہ پر جمعیتہ آگے بڑھی، جوائنٹ پولیس کمشنر سے ملاقات، وزیر داخلہ کو مکتوب

مارچ 10, 2026

حالیہ خبریں

Iran War Secret Briefing

ایران جنگ پر امریکی کانگریس کی ‘خفیہ بریفنگ نے دنیا کی نیند اڑادی٫ جانیں ایسا کیا ہے رپورٹ میں؟

مارچ 11, 2026
Iran Israel Strikes Damage

اسرائیل کو کھنڈر بنارہا ہے ایران،بن گورین ایئرپورٹ ،فوج کا کمیونکیشن سسٹم تباہ، بینک، مالیاتی ادارے نشانے پر

مارچ 11, 2026
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein

روزنامہ خبریں مفاد عامہ ‘ جمہوری اقدار وآئین کی پاسداری کا پابند ہے۔ اس نے مختصر مدت میں ہی سنجیدہ رویے‘غیر جانبدارانہ پالیسی ‘ملک و ملت کے مسائل معروضی انداز میں ابھارنے اور خبروں و تجزیوں کے اعلی معیار کی بدولت سماج کے ہر طبقہ میں اپنی جگہ بنالی۔ اب روزنامہ خبریں نے حالات کے تقاضوں کے تحت اردو کے ساتھ ہندی میں24x7کے ڈائمنگ ویب سائٹ شروع کی ہے۔ ہمیں یقین ہے کہ یہ آپ کی توقعات پر پوری اترے گی۔

اہم لنک

  • ABOUT US
  • SUPPORT US
  • TERMS AND CONDITIONS
  • PRIVACY POLICY
  • GRIEVANCE
  • CONTACT US
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے

.ALL RIGHTS RESERVED © COPYRIGHT ROZNAMA KHABREIN

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password?

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In

Add New Playlist

کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے

.ALL RIGHTS RESERVED © COPYRIGHT ROZNAMA KHABREIN