نئی دہلی:میڈیا میں ایسی کئی رپورٹس آ رہی ہیں جن میں یہ دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ امریکہ نے بھارت کو 31 MQ-9A گارڈین اور اسکائی گارڈین ڈرون کی ترسیل پر پابندی لگا دی ہے۔ اطلاعات کے مطابق امریکہ نے اس وقت تک ہتھیاروں کی ترسیل پر روک لگا دی ہے جب تک ہندوستان خالصتانی دہشت گرد گروپتونت سنگھ پنوں کے قتل کی سازش کے الزامات کی تحقیقات مکمل نہیں کر لیتا۔
نیوز چینل آج تک کی رپورٹ کے مطابق درحقیقت امریکہ کا الزام ہے کہ ایک نامعلوم بھارتی سرکاری ملازم کے کہنے پر نکھل گپتا نے نیویارک میں امریکی شہری پنو کو قتل کرنے کی سازش رچی تھی۔ امریکی محکمہ انصاف کا کہنا ہے کہ 52 سالہ بھارتی شہری جو بھارتی حکومت کا ملازم بھی ہے۔ اس نے نیویارک شہر کے ایک رہائشی کو قتل کرنے کی سازش کی تھی جو شمالی ہندوستان میں الگ سکھ قوم کی وکالت کرتا تھا۔ محکمہ نے پنوں کا نام نہیں لیا تھا لیکن اس کا اشارہ پنوں کی طرف ہے کیونکہ گروت پنت سنگھ پنوں امریکی شہر نیویارک میں رہتا ہے۔
بھارت سرکار نے جواب دیا۔
جمعرات کو وزارت خارجہ کی باقاعدہ پریس کانفرنس کے دوران جب وزارت خارجہ کے ترجمان رندھیر جیسوال سے پوچھا گیا کہ ’’بھارت اور امریکہ کے درمیان ڈرون ڈیل کے حوالے سے موجودہ صورتحال کیا ہے؟ ہندوستان اور امریکہ کے درمیان بات چیت کس حد تک پہنچی ہے؟ کیونکہ یہ ڈیل دونوں حکومتوں کے درمیان ہونی ہے۔اس کا اعلان گزشتہ سال وزیر اعظم مودی کے دورہ امریکہ کے دوران بھی کیا گیا تھا۔اسی دوران کئی ایسی خبریں آرہی ہیں کہ اس وقت یہ معاہدہ بلاک ہو گیا ہے۔اس بارے میں آپ کا کیا خیال ہے؟ پنوں کے قتل کی سازش کے الزام نے اتنے بڑے دفاعی معاہدے کو متاثر کیا؟
اس کا جواب دیتے ہوئے رندھیر جیسوال نے کہا، "یہ مسئلہ خاص طور پر امریکہ سے متعلق ہے۔ اس (ڈرون ڈیل) کے حوالے سے ان کا اپنا اندرونی عمل ہے اور ہم اس کا احترام کرتے ہیں۔ میں ابھی اپنی طرف سے یہی کہہ سکتا ہوں۔”
واضح ہو رپورٹس میں دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ امریکہ نے بھارت کے ساتھ ڈرون ڈیل کی فراہمی روک دی ہے۔ امریکہ نے یہ پابندی اس وقت تک لگائی ہے جب تک ہندوستان خالصتانی دہشت گرد اور سکھ فار جسٹس کے رہنما اور بانی گروپتونت سنگھ پنوں کے قتل کی بامعنی تحقیقات نہیں کرتا۔








