نئی دہلی (آر کے بیورو) معروف ایکٹوسٹ اورسابق آئی اے ایس ہرش مندر کی زیر قیادت تنظیم کاروان محبت کے زیر اہتمام دہلی فسادات کی پانچویں برسی پر انڈیا اسلامک سینٹر میں ایک پروگرام ہوا ،جس میں سرکردہ دانشوروں نے شرکت کی ،نوجوان لڑکوں اور لڑکیوں کی موجودگی ان کے شعوری احساس کی ترجمانی کررہی تھی ـ متاثرین نے اپنی درد بھری بپتا سنائی
ایک متاثر سلیم قصار نے اپنی درد بھری کہانی سنانے کے دوران سنگین الزام لگایا کہ معروف وکیل محمود پراچہ نے ہمیں دھوکہ دیا ، ہمارے ساتھ فراڈ کیاـ کبھی کیس میں سامنے نہیں آئے، بس ہمیں بے وقوف بنا تے رہے چنانچہ مجبور ہوکر ہمیں وکیل بدلنا ہڑا ،انہوں نے یہ بھی الزام لگایا کہ جج ہماری بات نہیں سنتے ، کئی ملزموں کی ضمانت ہوگئی ہماری کہیں کوئی سنوائی نہیں ہے ،سرکار بھی نہیں سنتی ، میرا اپنا مکان تھا ،اس پر بھی قبضہ کرلیا گیا ،میرے کاغذ تباہ ہوگیے کاغذ میرے پاس نہیں ہیں اور اس کے فرضی پیپر بنالیے گیے ہیں کوئی مجھے میرا مکان واپس دلوادے ،ہمیں کسی سے امداد نہیں ملی
ایک متاثرہ خاتون نے بتایا کہ ہم ابھی تک فساد کی یادوں سے نہیں ابھرے ،ہمیں اب بھی ڈرایا دھمکایا جاتا
رفیق موج پور نے بتایا کہ کپل مشرا کے بھاشن کے بعد ماحول بگڑگیا تھا ہم نے بڑی مشکل سے جان بچائی ،24فروری کو ہماری دو منزلہ دکان گیس سیلنڈر کے دھماکہ سے اڑادی گئی ،ہمیں کوئی معاوضہ نہیں ملا
محمد شہزاد نے بتایا کہ فساد کے دن نعرے بازی ہوئی،میرے ہندوملازم نے بتایا کہ میرے دھرم کانٹا پر آگ لگادی گئی ،جب پولیس کو فون کیا تو پہلے میرا نام پوچھا پھر کوئی نہ آیا ،ہتھیار بند لوگوں نے اتنا پتھراؤ کیا کہ پورا گھر بھر گیا،میری گاڑیاں جلادی گئیں ،کبھی میں سوچتا ہوں کہ ہم یہاں کیوں پیدا ہوگیے۔ ہماری کیا غلطی ہے ،مجھے کوئی معاوضہ نہیں ملا ـ
شہزاد زیدی مصطفیٰ آباد نے بتایا کہ 25فروری کو میرے دوست نے بتایا کہ میری دکان میں آگ لگادی گئی ،میرے اوپر چاقو سے حملہ کرنے کی کوشش کی گئی ـ اور ایک ہندو نے ہی میری جان بچائی ـافسوس کی بات یہ ہے کہ انتظامیہ اور سرکار کی کوئی سپورٹ ملی -انہوں نے کہا کہ کسی نے ہماری مدد نہیں کی صرف باتیں کی ـ
ممتاز خاتون نے روتے یوئےبتایا کہ ان کے شوہر گھر پر تھے انہوں نے جھانک کر دیکھا فورا کسی نے بوتل پھینکی ،اس میں تیزاب تھا ،کافی علاج چلا ،اب وہ دیکھ نہیں پاتے ان کے شوہر وکیل کا لمبا علاج چلا ،کیرانہ کی دکان تھی ـ وہ اب نہیں چلتی وہی اکیلے کمانے والے تھے کوئی سہارا نہیں
نوخیز نوجوان محمد فیضان نے بتایا کہ میں دادی کے ساتھ رہتا تھا ۔ممی کا بچپن میں انتقال ہوگیا تھا ـ جب دقتیں بڑھنے لگیں تو پڑھائی چھوٹ گئی ،انہوں نے بتایا کہ اس د ن کپل کے بیان سے ماحول خراب ہوگیا تھا ـ میں سامان لینے گیا تو بھیڑ دیکھی مجھے بھی چوٹیں آئیں پیٹھ ہر گہرا گھاؤ تھا ،میں خون سے لت پت تھا خون رک نہیں رہا تھا، فسادی ایمبولینس والوں کو آنے نہیں دے رہے تھے تو ایک جلی ٹھیلی پر لے جایا گیا، فیضان نے بتایا کہ پولیس والے میرے اوپر ہنس رہے تھے ـ دودن بعد آپریشن ہوا ہتہ چلا کہ میری پیٹھ ہر گولی لگی تھی ،آج بھی میں ٹھیک سے نہیں چل پاتا ،اسپتال والوں کا رویہ بہت خراب تھا ،ہرش مندر جی نے بہت مدد کی مسلم تنظیموں نے کوئی مدد نہیں کی ، میری دادی 2021میں گزر چکی ہیں اب صرف میرا ایک بھائی ہے ـمعاوضہ کے لیے دھکے کھارہا ہوں الگ الگ بہانے کرکے بھگادیتے ہیں ـ ہم آئے دن الٹی سیدھی باتیں سنتے ہیں – ایک بار مجھے دکان ہر نہیں چڑھنے دیا پہلے ٹوپی اتارنے کو کہا ،مگر اچھی بات یہ ہے کہ سپورٹ کرنے والے بھی ہندو تھے
اس پروگرام میں کم و بیش متاثرین کا یہ احساس تھا کہ ہندو نے زیادتی کی تو بچانے والے بھی ہندو تھے ،ان کا یہ بھی کہنا تھا کسی مسلم تنظیم نے ہماری مدد نہیں کی ـ ہمارے پاس تو کورٹ جانے تک کے پیسے نہیں تو یہ سوال یہ ہے کہ آخر مسلم تنظیمیں کہاں پر خرچ کررہی ہیں اور یہ اصل متاثرین تک کیوں نہیں پہنچ پاتی ہیں اور آئے دن اخبارات میں مدد کا دعویٰ ہر مبنی خبریں کس بنیاد پر شائع کرائی جاتی ہیں ،اتنی بھیڑ میں مظلومین اگر یہ اس الزام لگارہے ہیں تو اس کی کچھ حقیقت ہوگی اگر غلط ہے تو اس کی تردیدکرنی چاہیئے،بہرحال ،