اردو
हिन्दी
مارچ 11, 2026
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں

جنگی ذہنیت امن کی خواہش پوری نہیں کر سکتی!

5 سال پہلے
‏‏‎ ‎‏‏‎ ‎|‏‏‎ ‎‏‏‎ ‎ فکر ونظر, مضامین
A A
0
جنگی ذہنیت امن کی خواہش پوری نہیں کر سکتی!
76
مشاہدات
Share on FacebookShare on TwitterShare on Whatsapp

عبدالسلام عاصم

دنیا میں سب امن چاہتے ہیں لیکن اپنی شرطوں پر اور یہی بیشتر جنگوں کی بنیادی وجہ ہے۔ قومیں کسی نہ کسی رُخ پر سبھی مکار ہوتی ہیں! کچھ خوش تدبیر تو کچھ بد اندیش۔ جو قومیں مکر سے علمی استفادہ کرتی ہیں وہ پنچایتی راج قائم کر کے ایک سے زیادہ حلقوں پر راج کرتی ہیں اور جو نظریاتی سوچ اور غیر سائنسی عقیدے سے کام لیتی ہیں انہیں اپنی جسمانی طاقت اور دوسرے کی دماغی طاقت کی نت نئی اسلحہ جاتی پیداوار پر انحصار کرنا پڑتا ہے۔

تاریخی دستاویزات ایسی کہانیوں سے بھری پڑی ہے جنہیں چھان پھٹک کر پڑھنے والے مرحلہ وار اپنی راہ بدل کر پنچایتی حلقوں میں شامل ہوتے رہتے ہیں لیکن جو حلقے یا قومیں اُسی تاریخ کے محض پسند آنے والے حصے کو پریوں کی کہانی کی طرح انجوائے کرتی ہیں وہ ماضی پر مستقبل کی تعمیر کی بے ہنگم کوشش میں اپنا حال تباہ کئے رہتی ہیں۔ زیر ترتیب ایسے ہی واقعات اور سانحات کا ایک سلسلہ ان دنوں ہمارے گھر سے چند گھر دور ہمسائے افغانستان میں جاری ہے جہاں زندگی کا تقدس بُری طرح پامال ہو رہا ہے۔

دشواری یہ ہے کہ اِس بات کی تفہیم کہ نفرت اور دشمنی کا جذبہ کیسے پیدا ہوتا ہے! صرف بذریعہ علم ممکن ہے۔ یہ دونوں جذبے اختلاف سے عدم اتفاق کی پیداوار ہیں اور جو لوگ کسی بھی معاملے میں بس جامد اتفاق پر یقین رکھتے ہیں وہ ہر اختلاف کو دشمنی کا نام دے دیتے ہیں۔ نفرت کا بیج بونے کا یہ غیر سائنسی خودکار طریقہ ہے کچھ ایسا ہے جسے صرف علمی دائرے میں ہی سمجھا اور سمجھایا تو جا سکتا ہے۔ حالات سے منفی طور پر متاثر ہونے والوں کو اِس رخ پر بھی کچھ سمجھانا ناممکن نہیں تو انتہائی مشکل ضرور ہے۔

اس کے ایک زیادہ اسباب میں دو اسباب نمایاں ہیں جن کا تعلق ’’اطلاع‘‘ اور’’ افواہ‘‘ سے ہے۔ معتبر طور پر ریکارڈ ڈیڑھ دو سوبرس کی تاریخ میں یہ سلسلہ جوڈو فوبیا سے گزرتا ہوا اب اسلاموفوبیا سے گزر رہا ہے۔ اصل میںکشیدہ ماحول کی ’’ناخوشگوار‘‘ باتیں دو طرح کی ہوتی ہیں۔ ایک جو سُننے والے سے منسوب ہوتی ہیں، اُسے سُننے والے اکثر ’’افواہ‘‘ قرار دیتے ہیں، اور جو دوسروں کے خلاف ہوتی ہیں وہ باتیں سننے والوںکے لئے ’’اطلاع‘‘ کا درجہ رکھتی ہیں۔ اِس فرق کی بنیادی وجہ وہ بدگمانی ہے جو علم سے محروم حلقوں میں ایک دوسرے کے خلاف صدیوں سے چلی آرہی ہے۔ بلکہ یہ کہا جائے تو یکسر غلط نہیں ہوگا کہ اِس بدگمانی کی اِن حلقوں میں باقاعدہ پرورش کی جاتی ہے۔ ہم میں سے بیشتر اِس بد گمانی کے بری طرح شکار ہیں اور ہم میں ہی کچھ لوگوں کے ذہن اِس قدر کنڈیشنڈ ہو چکے ہیں کہ اُنہیں ایکدم سے نہیں بدلا جا سکتا۔

افغانستان میںحالات کے نئے موڑ پر آنے والی تبدیلی کی نوعیت کیا ہے! اِس بارے میں بھانت بھانت کی خبریں چلی آ رہی ہیں۔ سب کو اپنی پسند کے وسیلے یا ذرائع کی خبریں درست لگ رہی ہیں۔ اس میں کوئی اشتباہ نہیں کہ افغانستان میں طالبان کے پھر سے سیاہ و سفید کا مالک بن جانے سے جستجو رخی زندگی گزارنے والے خوش نہیں اور وہ لوگ بے حد خوش ہیں جو رضائے الٰہی کے نام پر کسی بھی ایک سے زیادہ مروج طور طریقے کے مطابق جیتے ہیں اور اُسی مناسبت سے سامنے والے نتائج کو حق سمجھتے ہیں۔دوسری جانب سچ کیا ہے اور غلط کیا ہے! یہ تجسس ”ماننے” پر ”جاننے” کو ترجیح دینے والے لوگوں کو حالات کا تقابلی اور معروضی جائزہ لینے کی تحریک دیتا ہے۔

ایسی ہی ایک تحریک مجھے پچھلے ہفتے کوویڈ 19 کی تیسری لہر کی آمد کی خبر گرم ہونے کے باوجود گھر سے باہر لے گئی۔ شہر کے ایک مخلوط تجارتی و رہائشی حلقے میں کچھ افغانیوں سے ملا۔ اُن سے بات چیت کی۔ ایسا کوئی سوال نہیں کیا جس کا دوٹوک جواب دینے سے وہ گھبرائیں۔ امکانات اور اندیشوں کے رُخ پر جو باتیں ہوئیں۔ اُن سے میں اِس نتیجے پر پہنچا کہ افغانستان میں طالبان کی پہلی اور دوسری آمد اُس مقامی تہذیب (رواج) سے متصادم نہیں جس نے زندگی اور موت کے سوا کبھی کسی ’’تبدیلی‘‘ سے کوئی دوسرا مفہوم اخذ ہی نہیں کیا۔دوسری طرف سوویت قبضے والے ببرک کرمال کے عہد اور پھر امریکی مداخلت کے نتیجے قائم ہونے والی دو دہائیوں کے نظم نے افغان شہر اور گاوں میں زندگی گزارنے والوں کی قابل لحاظ آبادی کو ایک ایسی آزادی کا عادی بنا دیا جو بیشتر اقوامِ عالم میں جمہور کی دین ہے۔ اس بین معاشرت تبدیلی نے افغانستان کے جامد معاشرے کو تبدیلی کے رخ پر کچھ اس طرح متحرک کر رکھا ہے کہ انقلاب پسند اور رجعت پسند دونوں بالترتیب اس کی تاب و ضبط نہیں لا پا رہے ہیں۔

حالات کا یہ موڑ طالبان کے لئے ہی نہیں فارغین کیلئے بھی سخت آزمائشی ہے۔امریکہ، روس، چین اوربعض دیگرحقیقی معنوں میں خود انحصار ممالک زندگی کی کشاکش کی اُس دوڑ سے نکل چکے ہیں جہاںکبھی اُنہیں بھی یہ سبق پڑھایا گیا تھا کہ ظلم کی کہانیوں اور مظلومیں کے دکھ درد کی داستانوں کے درمیان ارتقاء کا سفر طے کرنے والی دنیا میں غور و فکر سے کام لینے والوں کو جو پہلا سبق ملتاہے وہ سبق استحکام کا ہے۔ استحکام ہی وہ کیفیت ہے جس میں مبتلا ہونے والے کیلئے امکانات کے در کھلتے ہیں۔ اُس در کے قابلِ گزر حد تک وا ہونے تک سانس لینے میں کامیاب رہنے والے ہی پھر سے جینا شروع کر پاتے ہیں۔ طبی معالجین اسپتالوں کے خصوصی شعبوں میں’’ استحکام‘‘ کی کیفیت سے گزرنے والے کو بچانے کی ہر ممکن کوشش کرتے ہیں اور اس کوشش میں کبھی کبھی ایسی کامیابیاں بھی ملتی ہیں کہ عقل حیران رہ جاتی ہے۔ دراصل یہ جستجو اور جدوجہد اپنے آپ میں ایک جنون ہے اور اس جنون کیلئے ذہنی وسعت سے زیادہ ایک ایسی کشادہ دلی چاہئے جس میں گنجائش کی ہر حدپر امکان کا کوئی کسی نیا در وازہ کھلتا ہو۔

عصری دنیا کے ایک قابل لحاظ حلقے میں ایک سے زیادہ ممالک اس کشاکش سے گزر رہے ہیں۔جہاں کے نام نہاد اہل معاملہ قوموں کے عروج و زوال کو سلطنتوں کی قوت و شوکت سے ناپنے کے عادی ہو گئے ہیں۔سرد جنگ کے خاتمے کے بعد کی دنیا کو اگر صف بندیوں سے نجات نہیں مل سکی تو اس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ پچھلی صدی کے وسط سے ہی مغرب سے غیر فطری طور پر متصادم یساریوں کی جگہ یمینیوں نے لے رکھی ہے۔اس کا ایک سے زیادہ حلقوں نے بساط بھر ادراک کیا ہے۔ فرانسس فوکویاما نے جہاں اپنی تھیوری‘ تاریخ کی انتہا‘کے ذریعہ یہ باور کرانے کی کوشش کی کہ روشن خیال مغربی جمہوریت ہی انسانی نظریات کے ارتقاء کی انتہا ہے وہیں سیموئیل ہنگٹنگٹن نے اپنی تھیوری ’تہذیبوں کے تصادم‘ کے ذریعہ یہ تاثر دینے کی کوشش کی کہ اب تصادم بالخصوص مغربی تہذیب اور اسلامی تمدن کے درمیان ہے۔

دیکھا جائے توبظاہراِن دونوں کے اخذ کردہ نتائج سے ہی ایک نئے رُخ پر بٹی ذوقطبی دنیا استفادہ کر رہی ہے ۔ مغربی ایشیامیں ایک طرف جہاں آل ابراہیم نے ماننے اور منوانے کی ضد پر ایک بار پھر ایک دوسرے کو جاننے اور سمجھنے کو ترجیح دینا شروع کر دیا ہے وہیں بعض حلقوں میں اب بھی متصادم حلقے اسی خیال سے الجھے ہوئے ہیں کہ تہذیبوں کے تصادم میں کوئی ایک حلقہ ہی بالاخر کامیاب ہوگا۔یہ ہے وہ نظریاتی بحران جو ہمیں لے ڈوبنے پر تُلاہوا ہے۔ دیکھنا ہے کہ رفتارِ زمانہ سے غیر ہم آہنگ اقوام کی نئی نسل کا بڑا حلقہ کب تک روشن خیال جمہوریت کے علمی ماڈل کو اپناتا ہے اور جنگ کے راستے سے ہی امن کی منزل کی طرف بڑھنے کی ضد رکھنے والوں کو کوئی ایسا قابل عمل نسخہ پیش کر تا ہے جونسلی افتخار، مذہبی اور مسلکی تفرقات،تنازعات،جامد اتفاق اوربے ہنگم نفاق سے نجات کے رُخ پر واقعی اثر انگیز ہو۔بظاہرسرد جنگ کے بعد کی موجودہ دنیا ثقافتی بنیادوں پر منقسم ہے اور غالب امکان ہے کہ یہی تقسیم مستقبل کی جنگ اور امن کے سلسلے کو فیصلہ کن بنائے گی۔

قارئین سے ایک گزارش

سچ کے ساتھ آزاد میڈیا وقت کی اہم ضرورت ہےـ روزنامہ خبریں سخت ترین چیلنجوں کے سایے میں گزشتہ دس سال سے یہ خدمت انجام دے رہا ہے۔ اردو، ہندی ویب سائٹ کے ساتھ یو ٹیوب چینل بھی۔ جلد انگریزی پورٹل شروع کرنے کا منصوبہ ہے۔ یہ کاز عوامی تعاون کے بغیر نہیں ہوسکتا۔ اسے جاری رکھنے کے لیے ہمیں آپ کے تعاون کی ضرورت ہے۔

سپورٹ کریں سبسکرائب کریں

مزید خبریں

Modi Israel Gaza Questions Debate
مضامین

پی ایم مودی کے دورہ اسرائیل میں غزہ کے مصائب کا ذکر تک نہ ہونے پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔ کیا چاہتا ہے بھارت ؟

28 فروری
Sanjeev Srivastava Kachori Controversy Debate
مضامین

بی بی سی نیوز کے انڈیا ہیڈ رہے سنجیو سریواستو کے کچوری کی دکان کھولنے پر اتنا ہنگامہ کیوں ہے؟

24 فروری
Bhagwat Commentary Critical Analysis
مضامین

ملاحظات: بھاگوت بھٹکاؤ کی راہ پر

23 فروری
  • ٹرینڈنگ
  • تبصرے
  • تازہ ترین
Mohammed bin Salman Iran Role Claim

ایران پر حملہ میں محمد بن سلمان کا کا ا ہم رول؟ واشنگٹن پوسٹ کا دعویٰ

مارچ 2, 2026
Trump Warning Iran Military Claim

لڑائی میں مزید امریکی فوجی مارے جاسکتے ہیں ٹرمپ کی وارننگ، ایران کی ملٹری کمانڈ ختم کرنے کا دعویٰ

مارچ 2, 2026
Jamiat Iran Solidarity Statement News

اسرائیلی بربریت سے عالمی امن تہہ و بالا، جمعیتہ کا دکھ میں ایرانی عوام کے ساتھ اظہار یکجتی

مارچ 2, 2026
US Bases Missile Attacks Middle East

مڈل ایسٹ میں 27 امریکی فوجی اڈوں پر میزائل حملے ،کرا چی میں امریکی سفارتخانہ میں توڑ پھوڑ ،دس مظاہرین مادے گئے، تہران میں دھماکے

مارچ 1, 2026
Iran War Secret Briefing

ایران جنگ پر امریکی کانگریس کی ‘خفیہ بریفنگ نے دنیا کی نیند اڑادی٫ جانیں ایسا کیا ہے رپورٹ میں؟

Iran Israel Strikes Damage

اسرائیل کو کھنڈر بنارہا ہے ایران،بن گورین ایئرپورٹ ،فوج کا کمیونکیشن سسٹم تباہ، بینک، مالیاتی ادارے نشانے پر

تنقید جرم ,سرکار کا حکم؟ایکس اور انسٹاگرام نے پی ایم مودی پر تنقیدی پوسٹس کو ہٹا دیا ،

تنقید جرم ,سرکار کا حکم؟ایکس اور انسٹاگرام نے پی ایم مودی پر تنقیدی پوسٹس کو ہٹا دیا ،

Uttam Nagar Incident Jamiat News

اتم نگر واقعہ پر جمعیتہ آگے بڑھی، جوائنٹ پولیس کمشنر سے ملاقات، وزیر داخلہ کو مکتوب

Iran War Secret Briefing

ایران جنگ پر امریکی کانگریس کی ‘خفیہ بریفنگ نے دنیا کی نیند اڑادی٫ جانیں ایسا کیا ہے رپورٹ میں؟

مارچ 11, 2026
Iran Israel Strikes Damage

اسرائیل کو کھنڈر بنارہا ہے ایران،بن گورین ایئرپورٹ ،فوج کا کمیونکیشن سسٹم تباہ، بینک، مالیاتی ادارے نشانے پر

مارچ 11, 2026
تنقید جرم ,سرکار کا حکم؟ایکس اور انسٹاگرام نے پی ایم مودی پر تنقیدی پوسٹس کو ہٹا دیا ،

تنقید جرم ,سرکار کا حکم؟ایکس اور انسٹاگرام نے پی ایم مودی پر تنقیدی پوسٹس کو ہٹا دیا ،

مارچ 11, 2026
Uttam Nagar Incident Jamiat News

اتم نگر واقعہ پر جمعیتہ آگے بڑھی، جوائنٹ پولیس کمشنر سے ملاقات، وزیر داخلہ کو مکتوب

مارچ 10, 2026

حالیہ خبریں

Iran War Secret Briefing

ایران جنگ پر امریکی کانگریس کی ‘خفیہ بریفنگ نے دنیا کی نیند اڑادی٫ جانیں ایسا کیا ہے رپورٹ میں؟

مارچ 11, 2026
Iran Israel Strikes Damage

اسرائیل کو کھنڈر بنارہا ہے ایران،بن گورین ایئرپورٹ ،فوج کا کمیونکیشن سسٹم تباہ، بینک، مالیاتی ادارے نشانے پر

مارچ 11, 2026
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein

روزنامہ خبریں مفاد عامہ ‘ جمہوری اقدار وآئین کی پاسداری کا پابند ہے۔ اس نے مختصر مدت میں ہی سنجیدہ رویے‘غیر جانبدارانہ پالیسی ‘ملک و ملت کے مسائل معروضی انداز میں ابھارنے اور خبروں و تجزیوں کے اعلی معیار کی بدولت سماج کے ہر طبقہ میں اپنی جگہ بنالی۔ اب روزنامہ خبریں نے حالات کے تقاضوں کے تحت اردو کے ساتھ ہندی میں24x7کے ڈائمنگ ویب سائٹ شروع کی ہے۔ ہمیں یقین ہے کہ یہ آپ کی توقعات پر پوری اترے گی۔

اہم لنک

  • ABOUT US
  • SUPPORT US
  • TERMS AND CONDITIONS
  • PRIVACY POLICY
  • GRIEVANCE
  • CONTACT US
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے

.ALL RIGHTS RESERVED © COPYRIGHT ROZNAMA KHABREIN

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password?

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In

Add New Playlist

کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے

.ALL RIGHTS RESERVED © COPYRIGHT ROZNAMA KHABREIN