ممبئی : دنیا جھکتی ہے جھکانے والا چاہیے یہ بات آج پھر ثابت ہوگئی جب کے مطالبے کے آگے جھکتے ہوئے مراتھا ریزرویشن تحریک کے لیڈر جرانگے کی ہر بات مان لی خبر کے مطابق مہاراشٹر حکومت نے مراٹھا ریزرویشن تحریک کے لیڈر منوج جرانگے پاٹل کا مطالبہ قبول کر لیا ہے، جرانگے نے اس کی اطلاع دی۔ کارکن منوج جرانگے نے کہا، ’’وزیر اعلی ایکناتھ شندے نے بہتر کام کیا ہے۔ ہمارا احتجاج اب ختم ہو چکا ہے۔ ہماری درخواست قبول کر لی گئی ہے۔ ہم حکومت کا خط قبول کریں گے۔ ہفتہ کو وزیر اعلیٰ کے ہاتھ سے جوس پیوں گا۔‘‘
نیوز پورٹل ’آج تک‘ پر شائع رپورٹ کے مطابق، مہاراشٹر کے وزیر اعلی ایکناتھ شندے نے جمعہ کی رات مراٹھا ریزرویشن کے لیے تحریک چلانے والے کارکن منوج جرانگے کے پاس ان کے مختلف مطالبات کے حوالہ سے ایک آرڈیننس کا مسودہ بھیجا تھا۔ وزیر اعلیٰ کے دفتر سے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ شندے نے مطالبات پر تبادلہ خیال کرنے کے لئے عہدیداروں کے ساتھ میٹنگ کی اور بعد میں آرڈیننس کے مسودہ کے ساتھ ایک وفد کو کارکنوں سے ملنے کے لئے بھیجا۔ جرانگے اپنے ہزاروں حامیوں کے ساتھ نوی ممبئی میں ڈیرے ڈالے ہوئے ہیں۔
مراٹھا ریزرویشن کارکنوں نے دھمکی دی تھی کہ اگر ان کے مطالبات پورے نہیں ہوئے تو وہ ممبئی کے آزاد میدان تک بڑے پیمانے پر احتجاج کریں گے۔
اگر حکومت راضی نہیں ہوتی تو ہم دکھائیں گے کہ ہم کیا کر سکتے ہیں۔‘‘ انہوں نے کہا کہ جب تک ان کی برادری کو سرکاری ملازمتوں اور تعلیم میں ریزرویشن نہیں دیا جاتا، مظاہرین درمیانی راستے سے تحریک نہیں روکیں گے، جبکہ مہاراشٹر کے وزیر دیپک کیسرکر نے کہا کہ کارکن کے مطالبات قبول کر لیے گئے ہیں کسان تحریک کے بعد یہ دوسری ایسی تحریک ہےجس کےسامنے سرکار نے گھٹنے ٹیکے ہیں۔








