امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر اپنے متنازع اور جارحانہ بیانات سے عالمی سیاست میں ہلچل مچا دی ہے۔ اس بار انہوں نے گرین لینڈ پر کنٹرول حاصل کرنے کی اپنی مہم کو نوبیل امن انعام نہ ملنے سے جوڑتے ہوئے یہ کہہ دیا ہے کہ اب وہ امن کے بارے میں نہیں سوچتے۔ ان کا کہنا ہے کہ جب دنیا نے ان کی مبینہ سفارتی کامیابیوں کے باوجود انہیں نوبیل پیس پرائز دینے سے انکار کیا تو اب ان کی ترجیح صرف یہ ہے کہ امریکہ کے لیے کیا بہتر ہے، نہ کہ عالمی امن کیلئے۔
رپورٹس کے مطابق امریکی صدر کے گرین لینڈ سے متعلق ارادوں نے ایک نئے تنازع کو جنم دے دیا ہے، جس کے اثرات یورپ کے ساتھ ممکنہ تجارتی جنگ کی صورت میں سامنے آ سکتے ہیں۔ گرین لینڈ اگرچہ جغرافیائی طور پر شمالی امریکا کے قریب ہے، مگر سیاسی طور پر ڈنمارک کے زیرِ انتظام ایک خودمختار علاقہ ہے اور ڈنمارک نیٹو کا رکن بھی ہے۔ ایسے میں امریکی دباؤ نے نہ صرف ڈنمارک بلکہ پورے یورپی اتحاد کو تشویش میں مبتلا کر دیا ہے۔
صدر ٹرمپ کی جانب سے دی گئی ان دھمکیوں نے یورپ کے صنعتی اور تجارتی شعبے کو بھی شدید جھٹکا دیا ہے۔ یورپی منڈیوں میں بے یقینی بڑھ گئی ہے اور سرمایہ کاروں نے 2025 کے دوران امریکہ اور یورپی یونین کے درمیان ایک نئی تجارتی جنگ کے خدشات ظاہر کرنا شروع کر دیے ہیں۔ یہ وہی تجارتی کشیدگی ہے جو سال کے وسط میں اس وقت کسی حد تک کم ہوئی تھی جب دونوں فریق ٹیرف سے متعلق ایک عارضی معاہدے تک پہنچے تھے۔
رپورٹس کے مطابق صدر ٹرمپ نے ناروے کے وزیراعظم یوناس گارٹورو کے نام ایک ٹیکسٹ پیغام میں لکھا کہ چونکہ ان کے ملک نے آٹھ سے زیادہ جنگیں رکوانے کے باوجود انہیں نوبیل امن انعام نہ دینے کا فیصلہ کیا، اس لیے اب امن کے بارے میں سوچنا ان کی ذمہ داری نہیں رہی۔ انہوں نے لکھا کہ اب وہ صرف امریکہ کے مفادات پر توجہ دیں گے۔ یہ پیغام اس وقت بھیجا گیا جب ناروے کے وزیراعظم نے فِن لینڈ کے صدر الیگزینڈر ستوب کو خط لکھ کر بڑھتے ہوئے تناؤ میں کمی لانے کی اپیل کی تھی، اور اس کے محض آدھے گھنٹے بعد ٹرمپ کا سخت جواب سامنے آیا۔









