امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی پاکستان سے محبت میں اچانک اضافہ ہوتا دکھائی دے رہا ہے۔ ایک طرف ٹرمپ بھارت پر ٹیرف میزائل گرا رہے ہیں تو دوسری جانب پاکستان کے آرمی چیف عاصم منیر دو ماہ میں دوسری بار امریکا کا دورہ کرنے جا رہے ہیں۔ جنرل عاصم منیر امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) کے کمانڈر جنرل مائیکل ای کریلا کی الوداعی تقریب میں شرکت کے لیے امریکا جا رہے ہیں۔ پاکستان کے ڈان اخبار نے یہ رپورٹ شائع کی ہے۔
منیر کا دورہ اسلام آباد اور واشنگٹن ڈی سی کے درمیان تعلقات کو مزید گہرا کرنے کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ یہ دورہ ٹرمپ کی ٹیرف وار پر امریکہ اور ہندوستان کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے درمیان ہو رہا ہے۔ ٹرمپ نے پاکستان کے ساتھ تجارتی معاہدے پر دستخط کیے ہیں، جس کے تحت وہ اسلام آباد کے ساتھ تجارتی معاہدے پر رضامند ہو گئے ہیں۔
ڈان کی رپورٹ کے مطابق سرکاری ذرائع نے بتایا ہے کہ عاصم منیر جنہیں بھارت کے ساتھ فوجی تنازع میں شکست کا سامنا کرنے کے بعد فیلڈ مارشل کے خطاب سے نوازا گیا تھا، رواں ہفتے امریکا کا دورہ کریں گے اور امریکی فوجی حکام سے ملاقاتیں بھی کریں گے۔ سینٹ کام کے کمانڈر جنرل مائیکل ای کریلا نے جولائی کے آخر میں پاکستان کا دورہ کیا اور اب منیر ان کی الوداعی تقریب میں شرکت کے لیے امریکہ جا رہے ہیں۔
18 جون کو امریکی صدر ٹرمپ اور عاصم منیر نے وائٹ ہاؤس کے اندر ایک ساتھ لنچ کیا۔ ملاقات کے بعد ٹرمپ نے کہا کہ منیر سے ملنا ان کے لیے اعزاز کی بات ہے۔ یہ پہلا موقع تھا جب کسی امریکی صدر نے سینئر سویلین حکام کے بغیر پاکستانی آرمی چیف کی وائٹ ہاؤس میں میزبانی کی۔ صدر کے سرکاری پروگرام کے مطابق دونوں کے درمیان یہ ملاقات کابینہ کے کمرے میں ہوئی۔ اس دوران پریس کو وہاں جانے کی اجازت نہیں تھی۔








