دہلی فسادات کے ملزم عمر خالد اور شرجیل امام جیل میں ہی رہیں گے۔ سپریم کورٹ نے ان کی ضمانت کی درخواستیں مسترد کر دی ہیں۔
سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد عمر خالد نے کہا کہ جیل اب ان کی زندگی ہے۔ عمر کی نزدیکی دوست بنوجیوتسنا لہری نے پیر کو یہ معلومات دی۔ بجیوتسنا نے کہا کہ عمر کو خوشی ہے کہ کیس کے دیگر ملزمان کو ضمانت مل گئی۔ اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم X پر ایک پوسٹ میں، جیوتسنا نے کہا، "عمر نے کہا، "میں ان دیگر لوگوں کے لیے بہت خوش ہوں جنہیں ضمانت مل گئی ہے! مجھے راحت محسوس ہو رہی ہے۔” جواب میں میں نے کہا، "میں کل تم سے ملنے آؤں گی” عمر نے کہا، "ہاں، آؤ۔ اب یہی زندگی ہے۔”
وہیں سپریم کورٹ سے اپنے بیٹے عمر خالد کی درخواست ضمانت مسترد ہونے پر سید قاسم رسول الیاس کافی افسردہ نظر آئے۔ سپریم کورٹ کے احاطہ میں انھوں نے کہا کہ، میں کچھ نہیں کہنا چاہتا، میں نے فیصلہ سن لیا ہے۔
بڑی راحت یہ ہے کہ سپریم کورٹ نے عمر خالد اور شرجیل امام کو ایک سال بعد ضمانت کی درخواست دینے کی آزادی دی ہے، عدالت نے پولیس اور ٹرائل کو ہدایت کی ہے کہ کیس کو تیزی سے چلایا جائے، اور ایک سال کے اندر تمام گواہوں پر جرح کی جائے۔
واضح رہے شمال مشرقی دہلی میں فروری 2020 کے فسادات میں 53 افراد ہلاک اور 700 سے زیادہ زخمی ہوئے۔ سپریم کورٹ نے کہا کہ مقدمے کی سماعت میں تاخیر کوئی "ٹرمپ کارڈ” نہیں ہے جو خود بخود قانونی تحفظات کو نظرانداز کر دیتا ہے۔ سپریم کورٹ میں دلائل کے دوران طویل قید اور آئین کے آرٹیکل 21 سے متعلق دلائل دیئے گئے تاہم عدالت نے کہا کہ ٹرائل سے قبل قید کو سزا نہیں سمجھا جا سکتا۔ سپریم کورٹ نے کہا کہ شرجیل امام کے خلاف پہلی نظر میں معاملہ بنتا ہے ۔








