اسرائیل کی جانب سے ایران میں تیل کے 30 ذخیروں پر حملوں نے امریکا اور اسرائیل کے درمیان اختلافات پیدا کر دیے۔امریکی ویب سائٹ ’ایگزیوس‘ کے مطابق امریکی حکام کا کہنا ہے کہ اسرائیل نے جو حملے کیے وہ امریکا کو بتائے گئے حملوں سے بہت زیادہ تھے اور امریکی حکام نے اسرائیل سے اس پر تشویش کا اظہار کیا
بہرحال ایران کے تیل کے ڈپو پر اسرائیلی حملوں نے صورتحال کو مزید خراب کر دیا ہے۔ اس پر امریکا ناراض ہے اور اس کا کہنا ہے کہ اسرائیل کو جنگ کو اس نہج تک نہیں بڑھانا چاہیے تھا۔ اس طرح کی جنگ ایران کے عام لوگوں کے لیے مشکلات کا باعث بن رہی ہے اور ایسا کرنا غلط تھا۔ جنگ کو ایسا موڑ نہیں لینا چاہیے تھا۔ مزید یہ کہ یہ کہا جا رہا ہے کہ جب تل ابیب نے امریکہ کو ان حملوں سے آگاہ کیا تو اس نے ناراضگی کا اظہار کیا۔اس کے علاؤہ اسرائیل نے و پلان رکھا تھا وہ ناکام ہوگیا امریکہ کو لگتا ہے کہ وہ اسرائیل کی وجہ سے دلدل میں پھنس گیا
اس پس منظر میں ایک اور بڑی خبر آئی ہے ،وہ یہ کہ امریکہ جنگ ختم کرنے پر غور کررہا ہے ـاتوار کو ٹائمز آف اسرائیل سے بات کرتے ہوئے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ ایران کے ساتھ جنگ کا خاتمہ اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نتن یاہو کے ساتھ "مشترکہ” فیصلہ ہوگا۔ ٹرمپ نے کہا، "میرے خیال میں یہ باہمی ہے۔۔۔ تھوڑا سا۔ ہم بات کر رہے ہیں۔ میں صحیح وقت پر فیصلہ کروں گا، لیکن ہر
مشرق وسطی میں ایک ہزار بحری جہازوں کے GPS کیوں کام نہیں کررہے ؟
بڑھتی جنگ کی وجہ سے مشرقِ وسطیٰ میں پھنسے ہوئے مال بردار جہازوں، آئل ٹینکرز اور دیگر جہازوں کی گلوبل پوزیشننگ سسٹم (GPS) کی صلاحیتیں ممکنہ طور پر سیل فون سے بھی زیادہ خراب ہیں
اسرائیلی و امریکی اڈوں پر تازہ حملے، 4 میزائل شکن ریڈار تباہ کرنے کا دعویٰبحرین کی آئل ریفائنری سے دھواں اٹھنے لگا:
بحرین میں ایرانی ڈرون حملے کے بعد اہم آئل ریفائنری کے علاقے سے دھواں اٹھنے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔
رائٹرز کے مطابق دارالحکومت کے قریب واقع آئل ریفائنری کی سمت سے گہرا دھواں بلند ہوتا دیکھا گیا۔حکام کا کہنا ہے کہ سِترا کے علاقے میں ایرانی ڈرون حملے کے نتیجے میں کچھ افراد زخمی ہوئے اور املاک کو بھی نقصان پہنچاعرب کی جانب ڈرونز کا ایک بیراج فائر کیا گیا۔ سعودی وزارت دفاع نے کہا کہ اس نے شمالی جوف کے علاقے کے ساتھ ساتھ وسیع شیبہ آئل فیلڈ میں ڈرون کو روک دیا ہے۔







