نئی دہلی : (ایجنسی)
ملک کی بہترین یونیورسٹیوں میں شمار ہونے والی جواہر لال نہرو یونیورسٹی (جے این یو) پر گزشتہ سال ہونے والے حملے کی ابھی تک جانچ نہیں ہوسکی ہے۔
جانچ ہونا تو چھوڑیئے ، ملک ٹے ٹاپ یونیورسٹی پر حملے کے تقریباً ڈیڑھ سال گزر جانے کے بعد بھی جانچ کمیٹی نے اب تک طلبہ کے بیان بھی درج نہیں کئے ہیں۔ جانچ میں تاخیر کے پیچھے اب کورونا بحران کاحوالہ دیاجا رہاہے ۔اب جے این یو کے وائس چانسلر ایم جگدیش کمار کا کہنا ہے کہ جانچ میں تاخیر کورونا وبا کے سبب ہو رہی ہے ۔
جے این یو کے وائس چانسلر نے کہا کہ انکوائری کمیٹی حملے کے تمام پہلوؤں کی جانچ کر رہی ہے اور طلباء کو مناسب وقت پر اپنے بیانات ریکارڈ کرنے کے لیے بلایا جائے گا۔
انہوں نے کہاکہ کمیٹی تشکیل دی ہوئی ہے ،وہ تمام پہلوؤں پر غور کررہی ہے ۔ کمیٹی کو بیان درج کرانے کے لیے طلبہ کو بلانا پڑے گا۔ کیا بیان کے لیے دور – دور سے طلبہ کو بلانے کا یہ صحیح وقتہے ؟ ہمیں یہ دیکھنے کی ضرورت ہے کہ طلبہ کس صورت حال میں واپس گئے ہیں۔ یہ ہمارے اپنے طلبہ ہیں۔ ہم کورونا کے حالات سدھرنے کا انتظار کررہے ہیں ۔ صورت حال میں سدھار ہونے پر واقعہ کے تمام پہلوؤں پر غور کرے گی اور اپنی سفارشوں کے ساتھ آئےگی۔
واضح رہے کہ گزشتہ سال 5 جنوری کو لاٹھی- ڈنڈوں سے لیس نقاب پوش لوگوں کاایک جھنڈ جے این یو کیمپس میں گھس آیا تھا اور کئی طلبہ پر اس نے حملہ کیا ساتھ ہی سامان بھی توڑ پھوڑ کی۔یہ حملہ تقریباً چار گھنٹے تک چلا تھا، جس میں 36 لوگ زخمی ہوگئے تھے ۔
ایف آئی آر درج کرنے کے بعد معاملہ کرائم برانچ کو منتقل کردیا گیا تھا۔ جے این یو ایس یو اسٹوڈنٹ یونین کی صدر آئشہ گھوش بھی زخمیوں میں شامل ہیں۔ جے این یو انتظامیہ نے تشدد کی تحقیقات کے لیے پانچ رکنی کمیٹی تشکیل دی تھی۔










