ایک امریکی عہدے دار نے ابتدائی تخمینے کے حوالے سے انکشاف کیا ہے کہ اگر براہ راست فوجی تصادم شروع ہوتا ہے تو ایران کے ساتھ جنگ کی لاگت تقریباً ایک ارب ڈالر روزانہ تک پہنچ سکتی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ان تخمینوں میں امریکی افواج کے آپریشنل اخراجات، طیارہ بردار بحری جہازوں کی نقل و حرکت، لڑاکا طیاروں اور فضائی دفاعی نظام کو فعال رکھنا، اس کے علاوہ خطے میں گولہ بارود اور لاجسٹک سپورٹ کے اخراجات شامل ہیں۔ عہدے دار نے اس بات کی طرف بھی اشارہ کیا کہ ایران کے ساتھ کسی بھی وسیع فوجی تناؤ کے نہ صرف امریکہ بلکہ عالمی توانائی کی منڈیوں اور خلیج میں جہاز رانی کی سکیورٹی پر بھی بڑے معاشی اور سکیورٹی اثرات مرتب ہوں گے۔
ترک خبر رساں ایجنسی اناضول کے تخمینوں کے مطابق دیگر امریکی رپورٹوں میں یہ اشارہ دیا گیا تھا کہ امریکہ نے ایران پر اپنے حملے کے پہلے 24 گھنٹوں کے دوران (جو گزشتہ ہفتے کی صبح شروع ہوا) تقریباً 77.9 کروڑ ڈالر خرچ کیے۔امریکی اخبار "وال اسٹریٹ جرنل” کے شائع کردہ تخمینوں کے مطابق ایران پر جنگ سے قبل فوجی صف بندی، طیاروں کی دوبارہ تعیناتی اور خطے میں 12 سے زائد جنگی جہازوں کی موجودگی پر 63 کروڑ ڈالر لاگت آئی
دوسری جانب اسرائیلی وزارت خزانہ نے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ جاری فضائی جنگ سے ملک کی معیشت کو ہر ہفتے 9 ارب شیکل (تقریباً 2.93 ارب ڈالر) کا نقصان ہو سکتا ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ ہندوستانی روپئے میں اسرائیل کو ہر ہفتے 27000 کروڑ روپے کا نقصان اٹھانا پڑ سکتا ہے۔ مطلب صاف ہے کہ اس جنگ سے اسرائیل کو بھاری نقصان ہو رہا ہے۔ اگر یہ جنگ جاری رہی تو یہ نقصان مزید بڑھ سکتا ہے۔جنگ کا ملک میں دیگر سرگرمیوں پر بھی براہ راست اثر پڑ رہا ہے۔ اسرائیل کی ہوم فرنٹ کمانڈ نے فی الحال ملک بھر میں کئی سخت پابندیاں عائد کر رکھی ہیں۔ ان پابندیوں کے تحت کام پر جانے والے لوگوں کی تعداد محدود کی گئی ہے۔ اسکول بند ہیں اور ریزرو فوجیوں کو بڑے پیمانے پر تعینات کیا جا رہا ہے۔ جنگ کے سبب اسرائیل کے بیشتر علاقوں میں ضروری خدمات کے علاوہ بیشتر کاروبار بند ہیں۔جنگ کی وجہ سے عوامی اجتماعات پر پابندی لگا دی گئی ہے۔ ان سخت پابندیوں کی وجہ سے اگلے ہفتے سے معیشت کو تقریباً 9.4 ارب شیکل فی ہفتہ کا نقصان ہونے کا خدشہ ہے۔







