اردو
हिन्दी
مارچ 9, 2026
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں

ہم اندھی محبت اور اندھی نفرتوں کے عادی لوگ

1 سال پہلے
‏‏‎ ‎‏‏‎ ‎|‏‏‎ ‎‏‏‎ ‎ مضامین
A A
0
26
مشاہدات
Share on FacebookShare on TwitterShare on Whatsapp

تجزیہ:آمنہ سویرا
ہمیں یاد رکھنا چاہیے کہ ‘دشمنی‘ کے بھی تو کچھ آداب ہوا کرتے ہیں! لیکن ہمارے سماج میں دشمنی کی انتہا پر انسانیت سے بھی نیچے اتر جانا ایک بہت عام رویہ ہے، جس میں ہم ‘دشمنوں‘ یا حریفوں کے جسمانی خد و خال اور ساخت تک کو بھی نشانہ بنانے سے باز نہیں رہتے۔اگر مغرب میں کوئی ناخوش گوار حادثہ ہو جائے، تو ہمارے ہاں اظہار مسرت کرنا بہت عام رویہ ہے۔ اس کے جواز کے طور پر مغرب کے دُہرے معیار یا ان کی پالیسیوں کی بات کی جاتی ہے، جب کہ انسانیت کے اصول غیر مشروط طور پر ہم پر یہ ساری ذمہ داری عائد کرتے ہیں۔ پھر یہی تو فرق اچھے اور برے میں اور صحیح اور غلط میں ہوتا ہے۔ اگر ہم بھی دوسرے کے کسی غلط کو اپنے غلط کے لیے ایک جواز کے طور پر پیش کریں گے، تو پھر ہم خود کہاں کھڑے ہوں گے؟
ہمارے مغرب سے ایسے رویوں کی جڑیں تاریخ میں بہت گہری ہیں، اس میں جہاں ہم ردعمل کا شکار ہوتے ہیں، وہیں ہماری کم زور اور غیر موثر حیثیت ہمیں مجبور کر دیتی ہے کہ ہم خود پر محنت کرنے اور خود کو بہتر کرنے کے بجائے مغرب کی کسی مشکل یا حادثے پر تالیاں بجانے لگتے ہیں۔ ستم یہ ہے کہ اس کے باوجود ہمارے سماج میں لوگ وہاں جا کر رہنا بھی چاہتے ہیں، وہاں جا کر اپنی زندگی بہ تر بھی کرنا چاہتے ہیں۔ نہیں معلوم اس متضاد طرز عمل کو کیا نام دیا جا سکتا ہے۔
جیسا کہ ہم نے ابتدا میں کہا کہ زندگی کے لیے تعلیم اور تربیت کی بڑی گہری ضرورت ہوتی ہے، اس لیے یہاں مقابلے اور مسابقت کے لیے بھی ہمیں یہ آداب ذرا کم کم ہی نصیب ہوئے ہیں۔ ہم اخلاقی بنیادوں پر اور اصولی طور پر کسی صحیح اور غلط کو اپنی عام زندگی میں بروئے کار نہیں لاتے، سو یہ تو پھر مغربی دنیا کا معاملہ ہے۔ ہم تو عام سماج میں اخلاقی اقدار سے بہت پرے بے اصولی کی ایک بہت بڑی دنیا بسائے ہوئے ہیں۔
انصاف، مساوات، سچائی اور دیانت داری سے لے کر اصول کی بنیاد پر مخالفت اور اصول کی بنیاد پر حمایت کا ہمارے ہاں چلن نہ ہونے کے برابر رہا ہے۔ ہم بس اندھی محبت اور اندھی نفرتوں کے زیادہ عادی ہیں۔ اس تاریکی یا آنکھیں چندھیا دینے والی تیز روشنی میں ہمیں کم ہی کچھ دکھائی دے پاتا ہے۔ جب کہ زندگی میں بہت سی چیزیں ان کے بین بین بھی ہوتی ہیں۔ہمارے اس رویے کا نقصان مغرب کو تو خیر کیا ہو گا، ہم خود منفیت کا شکار ہو کر اپنی ترقی اور اصلاح کا وقت تلف کر رہے ہوتے ہیں، وہ وقت اور توانائی جو ہم اپنی بہتری کے لیے صرف کر سکتے تھے، وہ ہم نے ‘بیگانی شادی میں عبداللہ دیوانے‘ کے مصداق ایک لایعنی ‘جشن‘ میں برباد کر دی۔
گذشتہ دنوں امریکی ریاست ‘لاس اینجلس‘ میں لگنے والی خوف ناک آگ کے تئیں بھی لوگوں کی ایک بہت بڑی تعداد خوشیاں مناتی اور امریکی نقصان پر شاداں اور فرحاں نظر آئی اور جواز کے طور پر امریکا کے دنیا بھر کیے جانے والے اقدام بتائے گئے، لیکن یہ سب بتاتے ہوئے یہ بھول گئے کہ یہ حادثہ عام امریکی شہریوں کو متاثر کر رہا ہے، جو کہ امریکی پالیسیوں پر احتجاج بھی کر رہے ہوتے ہیں۔پھر ایک ترقی پذیر ملک کی حیثیت سے ہمیں تو یہ بھی سوچنا چاہیے کہ امریکی معیشت کے کسی نقصان کے سبب عالمی معیشت پر جو اثرات ہوں گے، تو ہمارے اندر اس کو برداشت کرنے کی کتنی سکت ہے؟ کیوں کہ جنگ و جدل صرف دو ممالک ہی پر اثر انداز نہیں ہوتی، بلکہ اس کی وجہ سے ان کے ہاں کی پیداواری صلاحیت، درآمدات، برآمدات بری طرح متاثر ہوتی ہیں اور اس کے اثرات دنیا بھر کی معیشت پر بھی پڑنے لگتے ہیں۔
اس کی سب سے بڑی مثال یوکرین اور روس کی جنگ ہے، جس کی وجہ سے دنیا میں غذائی اجناس کی دستیابی اور ان کے نرخ پر گہرا اثر پڑا ہے۔ اسی طرح اگر ہم امریکا میں اس آتش زدگی کے ماحولیاتی پہلو کو دیکھیں تو دنیا تو سبھی ممالک کی ساجھی ہے، اس ماحول میں ہونے والی کوئی بھی بربادی کسی ایک ملک تک تو محدود نہیں رہتی، اس لیے کسی بھی حادثے کے حوالے سے کوئی بھی رائے دینے یا موقف اپنانے سے پہلے ہمیں اخلاقی اقدار اور منطقی اعتبار سے بھی جائزہ لے لینا چاہیے کہ کہیں ہمارا جذباتی ردعمل ہمیں بچکانہ اور بے وقوفانہ طریقے سے دنیا کے سامنے پیش کرنے کا باعث تو نہیں بن رہا۔
اگر ہمہ وقت سخت تربیت اور اپنا محاسبہ نہ ہو تو ہمیں پتا نہیں چلتا کہ کہاں ہمارے رویے بہت زیادہ منفی ہو گئے ہیں اور کہاں ہمارے نظریات تاریک اور گم راہی کا راستہ اختیار کرنے لگے ہیں۔ اس لیے ہر لمحہ سیکھتے رہنا اور اپنے خیالات اور افکار پر نظر رکھنی چاہیے۔
(نوٹ: یہ تجزیہ نگار کے ذاتی خیالات ہیں،بشکریہ  ڈی ڈبلیو)

ٹیگ: hatehate speechviolence

قارئین سے ایک گزارش

سچ کے ساتھ آزاد میڈیا وقت کی اہم ضرورت ہےـ روزنامہ خبریں سخت ترین چیلنجوں کے سایے میں گزشتہ دس سال سے یہ خدمت انجام دے رہا ہے۔ اردو، ہندی ویب سائٹ کے ساتھ یو ٹیوب چینل بھی۔ جلد انگریزی پورٹل شروع کرنے کا منصوبہ ہے۔ یہ کاز عوامی تعاون کے بغیر نہیں ہوسکتا۔ اسے جاری رکھنے کے لیے ہمیں آپ کے تعاون کی ضرورت ہے۔

سپورٹ کریں سبسکرائب کریں

مزید خبریں

Modi Israel Gaza Questions Debate
مضامین

پی ایم مودی کے دورہ اسرائیل میں غزہ کے مصائب کا ذکر تک نہ ہونے پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔ کیا چاہتا ہے بھارت ؟

28 فروری
Sanjeev Srivastava Kachori Controversy Debate
مضامین

بی بی سی نیوز کے انڈیا ہیڈ رہے سنجیو سریواستو کے کچوری کی دکان کھولنے پر اتنا ہنگامہ کیوں ہے؟

24 فروری
Bhagwat Commentary Critical Analysis
مضامین

ملاحظات: بھاگوت بھٹکاؤ کی راہ پر

23 فروری
  • ٹرینڈنگ
  • تبصرے
  • تازہ ترین
Mohammed bin Salman Iran Role Claim

ایران پر حملہ میں محمد بن سلمان کا کا ا ہم رول؟ واشنگٹن پوسٹ کا دعویٰ

مارچ 2, 2026
Trump Warning Iran Military Claim

لڑائی میں مزید امریکی فوجی مارے جاسکتے ہیں ٹرمپ کی وارننگ، ایران کی ملٹری کمانڈ ختم کرنے کا دعویٰ

مارچ 2, 2026
Jamiat Iran Solidarity Statement News

اسرائیلی بربریت سے عالمی امن تہہ و بالا، جمعیتہ کا دکھ میں ایرانی عوام کے ساتھ اظہار یکجتی

مارچ 2, 2026
US Bases Missile Attacks Middle East

مڈل ایسٹ میں 27 امریکی فوجی اڈوں پر میزائل حملے ،کرا چی میں امریکی سفارتخانہ میں توڑ پھوڑ ،دس مظاہرین مادے گئے، تہران میں دھماکے

مارچ 1, 2026
Mojtaba Khamenei Supreme Leader News

ایران نے مجتبی خامنہ ای کو ہی سپریم لیڈر کیوں منتخب کیا؟ٹرمپ کو چیلنج

US Israel Rift News

بڑی خبر:امریکہ جنگ ختم کرنے پر غور کرنے لگا؟ اسرائیل سے ان بن کی اطلاعات

Oil Dollar Market Crisis News

ہر طرف آگ:تیل کی قیمت 115ڈالر، ایک ڈالر92 روپے کا ہوگیا، شئیر مارکیٹ بھی دھڑام

Maulana Qasim Noori Statement News

ترون کے قتل کا غم لیکن اس کے بہانے مسلمانوں پر حملہ اور بلڈوزر ایکشن ناقابل قبول: مولانا محمد قاسم نوری

Mojtaba Khamenei Supreme Leader News

ایران نے مجتبی خامنہ ای کو ہی سپریم لیڈر کیوں منتخب کیا؟ٹرمپ کو چیلنج

مارچ 9, 2026
US Israel Rift News

بڑی خبر:امریکہ جنگ ختم کرنے پر غور کرنے لگا؟ اسرائیل سے ان بن کی اطلاعات

مارچ 9, 2026
Oil Dollar Market Crisis News

ہر طرف آگ:تیل کی قیمت 115ڈالر، ایک ڈالر92 روپے کا ہوگیا، شئیر مارکیٹ بھی دھڑام

مارچ 9, 2026
Maulana Qasim Noori Statement News

ترون کے قتل کا غم لیکن اس کے بہانے مسلمانوں پر حملہ اور بلڈوزر ایکشن ناقابل قبول: مولانا محمد قاسم نوری

مارچ 9, 2026

حالیہ خبریں

Mojtaba Khamenei Supreme Leader News

ایران نے مجتبی خامنہ ای کو ہی سپریم لیڈر کیوں منتخب کیا؟ٹرمپ کو چیلنج

مارچ 9, 2026
US Israel Rift News

بڑی خبر:امریکہ جنگ ختم کرنے پر غور کرنے لگا؟ اسرائیل سے ان بن کی اطلاعات

مارچ 9, 2026
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein

روزنامہ خبریں مفاد عامہ ‘ جمہوری اقدار وآئین کی پاسداری کا پابند ہے۔ اس نے مختصر مدت میں ہی سنجیدہ رویے‘غیر جانبدارانہ پالیسی ‘ملک و ملت کے مسائل معروضی انداز میں ابھارنے اور خبروں و تجزیوں کے اعلی معیار کی بدولت سماج کے ہر طبقہ میں اپنی جگہ بنالی۔ اب روزنامہ خبریں نے حالات کے تقاضوں کے تحت اردو کے ساتھ ہندی میں24x7کے ڈائمنگ ویب سائٹ شروع کی ہے۔ ہمیں یقین ہے کہ یہ آپ کی توقعات پر پوری اترے گی۔

اہم لنک

  • ABOUT US
  • SUPPORT US
  • TERMS AND CONDITIONS
  • PRIVACY POLICY
  • GRIEVANCE
  • CONTACT US
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے

.ALL RIGHTS RESERVED © COPYRIGHT ROZNAMA KHABREIN

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password?

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In

Add New Playlist

کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے

.ALL RIGHTS RESERVED © COPYRIGHT ROZNAMA KHABREIN