اردو
हिन्दी
اکتوبر 15, 2026
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں

ہم اندھی محبت اور اندھی نفرتوں کے عادی لوگ

2 سال پہلے
‏‏‎ ‎‏‏‎ ‎|‏‏‎ ‎‏‏‎ ‎ مضامین
A A
0
27
مشاہدات
Share on FacebookShare on TwitterShare on Whatsapp

تجزیہ:آمنہ سویرا
ہمیں یاد رکھنا چاہیے کہ ‘دشمنی‘ کے بھی تو کچھ آداب ہوا کرتے ہیں! لیکن ہمارے سماج میں دشمنی کی انتہا پر انسانیت سے بھی نیچے اتر جانا ایک بہت عام رویہ ہے، جس میں ہم ‘دشمنوں‘ یا حریفوں کے جسمانی خد و خال اور ساخت تک کو بھی نشانہ بنانے سے باز نہیں رہتے۔اگر مغرب میں کوئی ناخوش گوار حادثہ ہو جائے، تو ہمارے ہاں اظہار مسرت کرنا بہت عام رویہ ہے۔ اس کے جواز کے طور پر مغرب کے دُہرے معیار یا ان کی پالیسیوں کی بات کی جاتی ہے، جب کہ انسانیت کے اصول غیر مشروط طور پر ہم پر یہ ساری ذمہ داری عائد کرتے ہیں۔ پھر یہی تو فرق اچھے اور برے میں اور صحیح اور غلط میں ہوتا ہے۔ اگر ہم بھی دوسرے کے کسی غلط کو اپنے غلط کے لیے ایک جواز کے طور پر پیش کریں گے، تو پھر ہم خود کہاں کھڑے ہوں گے؟
ہمارے مغرب سے ایسے رویوں کی جڑیں تاریخ میں بہت گہری ہیں، اس میں جہاں ہم ردعمل کا شکار ہوتے ہیں، وہیں ہماری کم زور اور غیر موثر حیثیت ہمیں مجبور کر دیتی ہے کہ ہم خود پر محنت کرنے اور خود کو بہتر کرنے کے بجائے مغرب کی کسی مشکل یا حادثے پر تالیاں بجانے لگتے ہیں۔ ستم یہ ہے کہ اس کے باوجود ہمارے سماج میں لوگ وہاں جا کر رہنا بھی چاہتے ہیں، وہاں جا کر اپنی زندگی بہ تر بھی کرنا چاہتے ہیں۔ نہیں معلوم اس متضاد طرز عمل کو کیا نام دیا جا سکتا ہے۔
جیسا کہ ہم نے ابتدا میں کہا کہ زندگی کے لیے تعلیم اور تربیت کی بڑی گہری ضرورت ہوتی ہے، اس لیے یہاں مقابلے اور مسابقت کے لیے بھی ہمیں یہ آداب ذرا کم کم ہی نصیب ہوئے ہیں۔ ہم اخلاقی بنیادوں پر اور اصولی طور پر کسی صحیح اور غلط کو اپنی عام زندگی میں بروئے کار نہیں لاتے، سو یہ تو پھر مغربی دنیا کا معاملہ ہے۔ ہم تو عام سماج میں اخلاقی اقدار سے بہت پرے بے اصولی کی ایک بہت بڑی دنیا بسائے ہوئے ہیں۔
انصاف، مساوات، سچائی اور دیانت داری سے لے کر اصول کی بنیاد پر مخالفت اور اصول کی بنیاد پر حمایت کا ہمارے ہاں چلن نہ ہونے کے برابر رہا ہے۔ ہم بس اندھی محبت اور اندھی نفرتوں کے زیادہ عادی ہیں۔ اس تاریکی یا آنکھیں چندھیا دینے والی تیز روشنی میں ہمیں کم ہی کچھ دکھائی دے پاتا ہے۔ جب کہ زندگی میں بہت سی چیزیں ان کے بین بین بھی ہوتی ہیں۔ہمارے اس رویے کا نقصان مغرب کو تو خیر کیا ہو گا، ہم خود منفیت کا شکار ہو کر اپنی ترقی اور اصلاح کا وقت تلف کر رہے ہوتے ہیں، وہ وقت اور توانائی جو ہم اپنی بہتری کے لیے صرف کر سکتے تھے، وہ ہم نے ‘بیگانی شادی میں عبداللہ دیوانے‘ کے مصداق ایک لایعنی ‘جشن‘ میں برباد کر دی۔
گذشتہ دنوں امریکی ریاست ‘لاس اینجلس‘ میں لگنے والی خوف ناک آگ کے تئیں بھی لوگوں کی ایک بہت بڑی تعداد خوشیاں مناتی اور امریکی نقصان پر شاداں اور فرحاں نظر آئی اور جواز کے طور پر امریکا کے دنیا بھر کیے جانے والے اقدام بتائے گئے، لیکن یہ سب بتاتے ہوئے یہ بھول گئے کہ یہ حادثہ عام امریکی شہریوں کو متاثر کر رہا ہے، جو کہ امریکی پالیسیوں پر احتجاج بھی کر رہے ہوتے ہیں۔پھر ایک ترقی پذیر ملک کی حیثیت سے ہمیں تو یہ بھی سوچنا چاہیے کہ امریکی معیشت کے کسی نقصان کے سبب عالمی معیشت پر جو اثرات ہوں گے، تو ہمارے اندر اس کو برداشت کرنے کی کتنی سکت ہے؟ کیوں کہ جنگ و جدل صرف دو ممالک ہی پر اثر انداز نہیں ہوتی، بلکہ اس کی وجہ سے ان کے ہاں کی پیداواری صلاحیت، درآمدات، برآمدات بری طرح متاثر ہوتی ہیں اور اس کے اثرات دنیا بھر کی معیشت پر بھی پڑنے لگتے ہیں۔
اس کی سب سے بڑی مثال یوکرین اور روس کی جنگ ہے، جس کی وجہ سے دنیا میں غذائی اجناس کی دستیابی اور ان کے نرخ پر گہرا اثر پڑا ہے۔ اسی طرح اگر ہم امریکا میں اس آتش زدگی کے ماحولیاتی پہلو کو دیکھیں تو دنیا تو سبھی ممالک کی ساجھی ہے، اس ماحول میں ہونے والی کوئی بھی بربادی کسی ایک ملک تک تو محدود نہیں رہتی، اس لیے کسی بھی حادثے کے حوالے سے کوئی بھی رائے دینے یا موقف اپنانے سے پہلے ہمیں اخلاقی اقدار اور منطقی اعتبار سے بھی جائزہ لے لینا چاہیے کہ کہیں ہمارا جذباتی ردعمل ہمیں بچکانہ اور بے وقوفانہ طریقے سے دنیا کے سامنے پیش کرنے کا باعث تو نہیں بن رہا۔
اگر ہمہ وقت سخت تربیت اور اپنا محاسبہ نہ ہو تو ہمیں پتا نہیں چلتا کہ کہاں ہمارے رویے بہت زیادہ منفی ہو گئے ہیں اور کہاں ہمارے نظریات تاریک اور گم راہی کا راستہ اختیار کرنے لگے ہیں۔ اس لیے ہر لمحہ سیکھتے رہنا اور اپنے خیالات اور افکار پر نظر رکھنی چاہیے۔
(نوٹ: یہ تجزیہ نگار کے ذاتی خیالات ہیں،بشکریہ  ڈی ڈبلیو)

ٹیگ: hatehate speechviolence

قارئین سے ایک گزارش

سچ کے ساتھ آزاد میڈیا وقت کی اہم ضرورت ہےـ روزنامہ خبریں سخت ترین چیلنجوں کے سایے میں گزشتہ دس سال سے یہ خدمت انجام دے رہا ہے۔ اردو، ہندی ویب سائٹ کے ساتھ یو ٹیوب چینل بھی۔ جلد انگریزی پورٹل شروع کرنے کا منصوبہ ہے۔ یہ کاز عوامی تعاون کے بغیر نہیں ہوسکتا۔ اسے جاری رکھنے کے لیے ہمیں آپ کے تعاون کی ضرورت ہے۔

سپورٹ کریں سبسکرائب کریں

مزید خبریں

US Iran War Strategic Defeat News
مضامین

امریکہ – اسرائیل – ایران جنگ میں امریکہ کی اسٹریٹجک ہار پہلے سے طے

23 مارچ
Hormuz Strait Iran Speech
مضامین

ایران میں قیادت کی تبدیلی اور مجتبیٰ خامنہ ای: ایک تجزیاتی مطالعہ

12 مارچ
Modi Israel Gaza Questions Debate
مضامین

پی ایم مودی کے دورہ اسرائیل میں غزہ کے مصائب کا ذکر تک نہ ہونے پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔ کیا چاہتا ہے بھارت ؟

28 فروری
  • ٹرینڈنگ
  • تبصرے
  • تازہ ترین
طالبان ميں پھوٹ کی خبريں، حقيقت يا پروپيگنڈہ؟

طالبان ميں پھوٹ کی خبريں، حقيقت يا پروپيگنڈہ؟

ستمبر 19, 2021
ایلون مسک نے کیوں پوچھا، ’کیا بھارت کا اصل باس امبانی ہے؟

ایلون مسک نے کیوں پوچھا، ’کیا بھارت کا اصل باس امبانی ہے؟

اکتوبر 9, 2026
حافظ قرآن کی عظمت اور ان کا مقام و مرتبہ

حافظ قرآن کی عظمت اور ان کا مقام و مرتبہ

مارچ 31, 2022
اعصابی کمزوری کی علامات، اسباب اور علاج

اعصابی کمزوری کی علامات، اسباب اور علاج

مارچ 23, 2021
امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو 17 اکتوبر سے بھارت کے دورے پر، تجارتی معاہدے میں تعطل کے درمیان کیا ہوگا ایجنڈا؟

امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو 17 اکتوبر سے بھارت کے دورے پر، تجارتی معاہدے میں تعطل کے درمیان کیا ہوگا ایجنڈا؟

دہلی میں 10 اکتوبر کے احتجاج سے پہلے سخت انتظامات، نظام الدین کی ٹرینیں منسوخ، 57 میٹرو اسٹیشن متاثر

جنتر منتر نہیں، مودی حکومت کو اپنا طریقۂ کار بدلنے کی ضرورت ہے: احتجاجی مقام بدلنے سے عوامی سوال ختم نہیں ہوں گے

جنتَر منتر میں مبینہ دراندازی کا معاملہ، CJP رہنما سَورَو داس اور آشوتوش رانکا 5 روزہ عدالتی حراست میں

جنتَر منتر میں مبینہ دراندازی کا معاملہ، CJP رہنما سَورَو داس اور آشوتوش رانکا 5 روزہ عدالتی حراست میں

ایلون مسک نے کیوں پوچھا، ’کیا بھارت کا اصل باس امبانی ہے؟

ایلون مسک نے کیوں پوچھا، ’کیا بھارت کا اصل باس امبانی ہے؟

امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو 17 اکتوبر سے بھارت کے دورے پر، تجارتی معاہدے میں تعطل کے درمیان کیا ہوگا ایجنڈا؟

امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو 17 اکتوبر سے بھارت کے دورے پر، تجارتی معاہدے میں تعطل کے درمیان کیا ہوگا ایجنڈا؟

اکتوبر 14, 2026
دہلی میں 10 اکتوبر کے احتجاج سے پہلے سخت انتظامات، نظام الدین کی ٹرینیں منسوخ، 57 میٹرو اسٹیشن متاثر

جنتر منتر نہیں، مودی حکومت کو اپنا طریقۂ کار بدلنے کی ضرورت ہے: احتجاجی مقام بدلنے سے عوامی سوال ختم نہیں ہوں گے

اکتوبر 14, 2026
جنتَر منتر میں مبینہ دراندازی کا معاملہ، CJP رہنما سَورَو داس اور آشوتوش رانکا 5 روزہ عدالتی حراست میں

جنتَر منتر میں مبینہ دراندازی کا معاملہ، CJP رہنما سَورَو داس اور آشوتوش رانکا 5 روزہ عدالتی حراست میں

اکتوبر 14, 2026
ایلون مسک نے کیوں پوچھا، ’کیا بھارت کا اصل باس امبانی ہے؟

ایلون مسک نے کیوں پوچھا، ’کیا بھارت کا اصل باس امبانی ہے؟

اکتوبر 9, 2026

حالیہ خبریں

امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو 17 اکتوبر سے بھارت کے دورے پر، تجارتی معاہدے میں تعطل کے درمیان کیا ہوگا ایجنڈا؟

امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو 17 اکتوبر سے بھارت کے دورے پر، تجارتی معاہدے میں تعطل کے درمیان کیا ہوگا ایجنڈا؟

اکتوبر 14, 2026
دہلی میں 10 اکتوبر کے احتجاج سے پہلے سخت انتظامات، نظام الدین کی ٹرینیں منسوخ، 57 میٹرو اسٹیشن متاثر

جنتر منتر نہیں، مودی حکومت کو اپنا طریقۂ کار بدلنے کی ضرورت ہے: احتجاجی مقام بدلنے سے عوامی سوال ختم نہیں ہوں گے

اکتوبر 14, 2026
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein

روزنامہ خبریں مفاد عامہ ‘ جمہوری اقدار وآئین کی پاسداری کا پابند ہے۔ اس نے مختصر مدت میں ہی سنجیدہ رویے‘غیر جانبدارانہ پالیسی ‘ملک و ملت کے مسائل معروضی انداز میں ابھارنے اور خبروں و تجزیوں کے اعلی معیار کی بدولت سماج کے ہر طبقہ میں اپنی جگہ بنالی۔ اب روزنامہ خبریں نے حالات کے تقاضوں کے تحت اردو کے ساتھ ہندی میں24x7کے ڈائمنگ ویب سائٹ شروع کی ہے۔ ہمیں یقین ہے کہ یہ آپ کی توقعات پر پوری اترے گی۔

اہم لنک

  • ABOUT US
  • SUPPORT US
  • TERMS AND CONDITIONS
  • PRIVACY POLICY
  • GRIEVANCE
  • CONTACT US
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے

.ALL RIGHTS RESERVED © COPYRIGHT ROZNAMA KHABREIN

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password?

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In

Add New Playlist

کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے

.ALL RIGHTS RESERVED © COPYRIGHT ROZNAMA KHABREIN