نئی دہلی:(ایجنسی)
سعودی عرب نے کہا ہے کہ وہ اسرائیل کے ساتھ تعلقات بحال کرنے کے لیے تیار ہے۔ یہ بیان اقوام متحدہ میں سعودی عرب کے مستقل نمائندے عبداللہ المعلمی کی طرف سے سامنے آیا ہے۔یہ بیان حیرت کرنے والا نہیں کیونکہ عرصہ دراز سے دونوں ملکوں کے پس پردہ تعلقات ہیں ۔تبلیغی جماعت پر پابندی کے بعد یہ دوسرا چونکانے والا قدم ثابت ہوسکتا ہے۔
المعلمی نے اخبار عرب نیوز کو بتایا کہ ان کا ملک 2002 میں عرب نیشنز انیشیٹو فار پیس کی تجاویز کے تحت اسرائیل کے ساتھ تعلقات قائم کرنے کے لیے تیار ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ اگر اسرائیل 2002 کے عرب امن منصوبے پر عمل درآمد کرتا ہے تو’نہ صرف سعودی عرب بلکہ اسلامی تعاون تنظیم کے تمام 57 رکن ممالک اس کی حمایت کریں گے۔‘
المعلمی نے ایران کے بارے میں بھی اہم باتیں کہی ہیں۔ اس سال اپریل سے حریف ایران اور سعودی عرب خلیجی ممالک پر غلبہ حاصل کرنے کے لیے آپس میں بات کر رہے ہیں۔ لیکن اب المعلمی نے کہا ہے کہ ایران ان مذاکرات میں سنجیدہ نظر نہیں آ رہا ہے۔
بی بی سی ہندی کے پون سنگھ اتل نے اپنی رپورٹ میں اس بیان کے مضمرات کا جائزہ لیا ہے ان کا کہنا ہے کہ کیا سعودی عرب مسلم ملک کے ساتھ مذاکرات سے ناخوش ہے اور اپنے دشمن اسرائیل کی طرف دوستی کا ہاتھ بڑھایا ہے؟ اس سوال کا جواب کافی پیچیدہ ہے۔
لیکن موجودہ علاقائی صورتحال کے تناظر میں اس کی ایک الگ اہمیت ہے۔ مثال کے طور پر، حال ہی میں بحرین اور متحدہ عرب امارات نے اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات بحال کیے ہیں۔ اب شاید سعودی عرب کو بھی لگتا ہے کہ اگر اسرائیل کے ساتھ تعلقات قائم ہو بھی جائیں تو کوئی مسئلہ نہیں رہے گا۔ انہیں لگتا ہے کہ اس طرح کے اقدام کو کسی تنقید کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا۔
اگر سعودی عرب اور اسرائیل کے درمیان تعلقات معمول پر آتے ہیں تو بین الاقوامی سیاست پر اس کے کیا اثرات مرتب ہوں گے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ امریکہ کی جانب سے سعودی عرب پر اسرائیل کے قریب آنے کا دباؤ ہے لیکن یہ تمام کوششیں دبی زبان میں کی جارہی ہیں۔ سعودی میڈیا، شاہی خاندان اور حکومت کے حمایت یافتہ علما نے حالیہ مہینوں میں اسرائیل اور کئی خلیجی ممالک کے درمیان معاہدے کی حمایت کی ہے۔ یہ بذات خود اسرائیل کے تئیں سعودی پالیسی میں نرمی کی علامت ہے۔









