اردو
हिन्दी
اپریل 20, 2026
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں

ہم افغانستان میں جو حاصل کرنا چاہتے تھے، وہ نہ کر پائے،جرمنی کااعتراف

4 سال پہلے
‏‏‎ ‎‏‏‎ ‎|‏‏‎ ‎‏‏‎ ‎ متفرقات
A A
0
ہم افغانستان میں جو حاصل کرنا چاہتے تھے، وہ نہ کر پائے،جرمنی کااعتراف
14
مشاہدات
Share on FacebookShare on TwitterShare on Whatsapp

برلن:( ایجنسی)

حسب معمول چہرے پر اطمینان اور مسکراہٹ لیے انگیلا میرکل نے برلن میں اپنے چانسلر دفتر میں بیٹھ کر ڈوئچے ویلے کے نیوز ڈپارٹمنٹ کے سربراہ ماکس ہوفمان کو انٹرویو دیا۔ چانسلر شپ کے 16 سالہ دور کے اختتام پر انگیلا میرکل نے اپنے دو بڑے چیلنجز، اپنی مایوسیوں اور اپنے ممکنہ جانشین اولاف شوُلز کے بارے میں اپنے خیالات و جذبات کا اظہار کیا۔ اس موقع پر میرکل سے گزشتہ ماہ یعنی اکتوبر میں یورپی یونین کی انٹر نیشنل کانفرنس میں بطور یورپی لیڈر اپنی آخری شرکت کے موقع پر انہیں ’’ سمجھوتے کی ایک مشین‘‘ کہے جانے کے بارے میں ان کا خیال پوچھے جانے پر میرکل کا جواب تھا،‘‘ میں یقیناً کوئی مشین نہیں….. ایک انسان ہوں۔ میں اس طرح کی بات چیت یا مباحثے میں ہمیشہ کشادہ ذہنی کیساتھ حصہ لیتی ہوں۔‘‘ میرکل کا اشارہ بین الاقوامی اجلاسوں میں ان کی پالیسی سازی کے نقطہ نظر کی طرف تھا۔ میرکل نے اس بارے میں بھی گفتگو کی کہ جب وہ کسی ایسے لیڈر سے بات چیت کر رہی ہوتی ہیں جو اپنی اقدار کے بارے میں کسی سے اپنے خیالات کو شیئر نہیں کرتا اور اپنی حد تک محدود رکھنا چاہتا ہے تو ان کا طریقہ کار یا حکمت عملی کیا ہوتی ہے؟ میرکل کا کہنا تھا،’’ہمیں اس دنیا کے بارے میں بنیادی طور پر مختلف تصور رکھنے والوں کی بات بھی سننی چاہیے۔ اگر ہم ایک دوسرے کے خیالات نہیں جانیں گے اور ایک دوسرے کی بات سنیں گے ہی نہیں تو ہم کبھی بھی کسی بھی مسئلے کے حل تک نہیں پہنچیں گے۔‘‘

انگیلا میرکل نے جہاں ان چیزوں پر خاص طور پر زور دیتے ہوئے ان کا ذکر کیا جن پر وہ فخر محسوس کرتی ہیں، مثال کے طور پر جرمنی کا اپنے اتحادیوں کے ساتھ مضبوط تعلقات برقرار رکھنا اور کوئلے کے بطور ایندھن استعمال کو ترک کرنے کا سلسلہ شروع کرنا وغیرہ، وہاں میرکل نے ان امور پر بات کرنے میں بالکل ہچکچاہٹ کا اظہار نہیں کیا جن کے بارے میں ان کی خواہش تھی کہ وہ مختلف انداز میں رونما ہوتیں۔ میرکل نے ماحولیاتی تبدیلیوں اور ان سے پیدا ہونے والی تشویشناک صورتحال کے بارے میں جرمنی کی طرف سے کیے گئے اقدامات کی تعریف کرتے ہوئے کہا،’’ دوسرے ممالک کے مقابلے میں ہماری کارکردگی بہت بُری نہیں ہے۔‘‘ لیکن ہم یقیناً سرکردہ صنعتی ممالک میں سے ایک ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ نت نئی ٹیکنالوجی اور سائنسی بصیرت کا حامل ہونے کے تئیں یہ ذمہ داری جرمنی پر عائد ہوتی ہے کہ وہ ایک مثال بن کر رہنمائی کرے۔‘‘

ڈوئچے ویلے کو انٹرویو دیتے ہوئے چانسلر انگیلا میرکل نے جرمنی کے سیاسی نظام کے بنیادی اصولوں پر بھی روشنی ڈالی۔ میرکل کے بقول،’’ ایک لیڈر یا رہنما کو کسی بھی قانون سازی سے پہلے اتفاق رائے پیدا کرنا ہوتا ہے۔ ہمیں اپنے مباحثوں میں ہمیشہ اکثریت کی ضرورت ہوتی ہے۔ یہ وہ موضوع ہے جس کے بارے میں ہمیشہ میں کلائمٹ ایکٹیوسٹس یا تحفظ ماحولیات کے سرگرموں کے ساتھ بار بار گفتگو کرتی ہوں۔ وہ ہمیشہ کہتے ہیں کہ مجھے ابھی اور اسی وقت فیصلہ کرنا چاہیے جبکہ میں کہتی ہوں کہ مجھے پہلے اکثریت کا ساتھ چاہیے۔ بہت ساری سماجی توقعات بھی ہیں اور خوف بھی پایا جاتا ہے۔ میں ہمیشہ اس بارے میں پرعزم رہی ہوں اس کے باوجود میں آج یہ نہیں کہہ سکتی کہ نتائج تسلی خش ہیں۔‘‘جرمن چانسلرانگیلا میرکل عالمی رہنماوں کی ریٹنگ میں اب بھی سرفہرست

میرکل نے مزید کہا،’’ ہمیں سائنسی اندازوں پر دوبارہ سے دھیان دینا ہوگا، جس کا مطلب ہے زمینی حدت کو 1.5 ڈگری سینٹی گریڈ تک برقرار رکھنا۔ گلاسگو منعقدہ عالمی ماحولیاتی کانفرنس کے متعدد نتائج سامنے آئے ہیں لیکن اس بارے میں نوجوانوں کا نقطہ نظر قابل فہم ہے جس کے مطابق یہ سلسلہ اب بھی بہت سست روی سے چل رہا ہے۔‘‘

چانسلر انگیلا میرکل نے اپنے انٹرویو میں مزید کہا کہ وہ افغانستان میں ایک مختلف ‘انجام‘ کی خواہش مند تھیں۔ انہوں نے کہا،’’ہمیں اس حقیقت پر یقیناً بہت دُکھ ہے کہ ہم جو حاصل کرنا چاہتے تھے وہ نہ کر پائے یعنی افغانستان میں ایک خود مختار سیاسی نظم و ضبط، جس میں لڑکیاں اسکول جا سکتیں، خواتین اپنی خواہشات پورا کرسکتیں، دیرپا امن کے ساتھ ۔‘‘

میرکل کا کہنا تھا،’’ اکثر مباحثوں میں پوچھا کرتی تھی کہ وردی میں ملبوس ہماری خواتین اور مردوں کی افغانستان میں تعیناتی کے باوجود اتنی بڑی تعداد میں افغان مرد کیوں بیرون ملک جانا چاہتے ہیں؟ بہر حال ہمیں اس حقیقت کو تسیلم کرنا ہوگا کہ ہم افغانستان میں وہ نظم و ضبط نہ لا سکے جسے ہم وہاں دیکھنا چاہتے تھے۔‘‘ تاہم میرکل کا کہنا تھا،’’ اس کا قصوروار تنہا جرمنی نہیں ہے۔ افغان بھی اپنا کردار ادا کرنے میں کامیاب نہ ہو سکے۔ یہ اتنہائی افسوسناک امر ہے۔‘‘

میرکل سے جب یہ پوچھا گیا کہ جرمنی کی لیڈر کے طور پر انہیں کن مشکل ترین چیلنجز کا سامنا رہا؟ تو ان کا جواب تھا،’’دو ایونٹس یا واقعات جو مجھے ذاتی طور پر بہت ہی چیلنجنگ لگے وہ تھے، 2015 ء میں جرمنی کی طرف اتنی بڑی تعداد میں مہاجرین کی آمد۔ میں بذات خود اسے کبھی ایک بحران کہنا پسند نہیں کرتی، کیونکہ سب انسان ہیں۔ تو پہلی چیز یہ کہ ہمارے اوپر شام اور اس کے پڑوسی ملک سے فرار ہونے والوں کا بہت زیادہ دباؤ تھا اور دوسرا چیلنج کووڈ انیس کی وبا ہے۔ شاید یہ وہ بحران تھے جس میں ہم نے واضح طور پر انسانوں کو براہ راست متاثر ہوتے دیکھا جس سے انسانی جانوں سے متعلق توازن کا سوال پیدا ہو گیا۔ میرے لیے یہ سب سے بڑے چیلنجز تھے۔‘‘

انگیلا میرکل نے کہا ہے کہ یورپی یونین کو اب بھی پناہ گزینوں کی بہتر طور پر مدد کرنے کے لیے ، پناہ اور ہجرت کے مسائل سے نمٹنے کے لیے ایک’’مشترکہ نظام‘‘ کی تشکیل کی ضرورت ہے۔ جن ممالک سے پناہ گزین یورپ آتے ہیں اور یورپ کے اندر جن ممالک میں وہ سب سے پہلے پہنچتے ہیں ان کے درمیان ایک ’’ خود ساختہ توازن‘‘ قائم کرنا ضروری ہے۔ میرکل کا کہنا تھا،’’پناہ گزینوں کی بہتر طریقے سے مدد کے لیے ہجرت اور فرار کی بنیادی وجوہات کے خلاف جنگ کی جانا چاہیے۔‘‘

انگیلا میرکل نے اپنی مخصوص مسکراہٹ کے ساتھ روم منعقدہ حالیہ G20 اجلاس میں اپنے ممکنہ جانشین، سوشل ڈیموکریٹ لیڈر اولاف شُلز کے اپنے ساتھ مکمل تعاون اور اتحاد کی یقین دہانی کے بارے میں کہا،’’یہ میری جانب سے کوئی بہت بڑا فراخ دلانہ اقدام نہیں تھا۔‘‘

میرکل کے وزیر مالیات کے طور پر انہیں اجلاس میں شرکت کرنا ہی تھی۔ بہرحال میرکل بند کمروں کے اجلاس میں شُلز کو ہم آہنگی اور تسلسل کی علامت کے طور پر لے گئیں۔ شُلز کا تعلق بائیں بازو کی سوشل ڈیمو کریٹک پارٹی سے ہے تاہم میرکل نے مستقبل کے ممکنہ چانسلر شلز پر مکمل اعتماد کا اظہار کیا۔ اس بارے میں میرکل نے کہا،’’ میرے خیال میں شُلز کے لیے تمام دو طرفہ بات چیت میں حصہ لینے کا موقع ایک اہم اشارہ تھا۔

میرکل نے کہا کہ وہ یہ تاثر چھوڑنا چاہتی تھیں کہ اس وقت کے چانسلر اور مستقبل کے ممکنہ چانسلر کے مابین کام کر نے کے مثبت ، اچھے تعلقات پائے جاتے ہیں۔ میرکل کے بقول،’’ موجودہ ہنگامہ خیز دور میں اس یقین دہانی کا اشارہ دینا درست عمل ہے۔‘‘

قارئین سے ایک گزارش

سچ کے ساتھ آزاد میڈیا وقت کی اہم ضرورت ہےـ روزنامہ خبریں سخت ترین چیلنجوں کے سایے میں گزشتہ دس سال سے یہ خدمت انجام دے رہا ہے۔ اردو، ہندی ویب سائٹ کے ساتھ یو ٹیوب چینل بھی۔ جلد انگریزی پورٹل شروع کرنے کا منصوبہ ہے۔ یہ کاز عوامی تعاون کے بغیر نہیں ہوسکتا۔ اسے جاری رکھنے کے لیے ہمیں آپ کے تعاون کی ضرورت ہے۔

سپورٹ کریں سبسکرائب کریں

مزید خبریں

متفرقات

ہیلتھ ٹپس:بھنے ہوئے چنے کھانے کے بہت سے فائدے ، ۔نیچرل پروٹین سے لے کر فائبر کا خزانہ

11 جولائی
متفرقات

ہیلتھ ٹپس:بھنے ہوئے السی کے بیج صحت کا خزانہ،شوگر، ہائی کولیسٹرول سمیت کئی بیماریوں میں فا ئدے مند

06 جولائی
متفرقات

کارڈیک اریسٹ اور ہارٹ اٹیک میں کیا فرق ہے؟ کیا ہیں علامات و وجوہات ؟ایمرجنسی میں کیا کریں ۔

30 جون
  • ٹرینڈنگ
  • تبصرے
  • تازہ ترین
Humayun Kabir Owaisi Video Row

ہمایوں کبیر کے خفیہ ویڈیو نے اویسی پر بی جے پی کی بی ٹیم کے الزام کو تقویت دی، اتحاد ٹوٹا ، سیاسی بصیرت پر بھی سوال

اپریل 10, 2026
یوپی کے 558 مدارس میں مڈ ڈے میل کون کھا رہا ہے؟ چونکاتی گراؤنڈ رپورٹ

یوپی کے 558 مدارس میں مڈ ڈے میل کون کھا رہا ہے؟ چونکاتی گراؤنڈ رپورٹ

اپریل 10, 2026
DD News Anchor Controversy News

پبلک ٹیکس سے چلنے والے ‘ڈی ڈی نیوز’ کے اینکر نے کہا” ساورکر کے چپل کی دھول بھی نہیں راہل گادھی

اپریل 13, 2026
طالبان ميں پھوٹ کی خبريں، حقيقت يا پروپيگنڈہ؟

طالبان ميں پھوٹ کی خبريں، حقيقت يا پروپيگنڈہ؟

ستمبر 19, 2021
Iran US Talks News

ایران–امریکہ مذاکرات میں محدود پیش رفت، اختلافات بدستور برقرار: قالیباف

Kejriwal Video Order News

کیجریوال کی جج سے بحث: ہائی کورٹ کا پولیس کو سوشل میڈیا سے ویڈیو ہٹانے کا حکم

RSS Deepfake Controversy

انتخابی موسم میں آر ایس ایس فرضی لیٹر سے پریشان، بھاگوت کا ڈیپ فیک بھی وائرل

DD News Anchor Controversy News

پبلک ٹیکس سے چلنے والے ‘ڈی ڈی نیوز’ کے اینکر نے کہا” ساورکر کے چپل کی دھول بھی نہیں راہل گادھی

Iran US Talks News

ایران–امریکہ مذاکرات میں محدود پیش رفت، اختلافات بدستور برقرار: قالیباف

اپریل 19, 2026
Kejriwal Video Order News

کیجریوال کی جج سے بحث: ہائی کورٹ کا پولیس کو سوشل میڈیا سے ویڈیو ہٹانے کا حکم

اپریل 15, 2026
RSS Deepfake Controversy

انتخابی موسم میں آر ایس ایس فرضی لیٹر سے پریشان، بھاگوت کا ڈیپ فیک بھی وائرل

اپریل 13, 2026
DD News Anchor Controversy News

پبلک ٹیکس سے چلنے والے ‘ڈی ڈی نیوز’ کے اینکر نے کہا” ساورکر کے چپل کی دھول بھی نہیں راہل گادھی

اپریل 13, 2026

حالیہ خبریں

Iran US Talks News

ایران–امریکہ مذاکرات میں محدود پیش رفت، اختلافات بدستور برقرار: قالیباف

اپریل 19, 2026
Kejriwal Video Order News

کیجریوال کی جج سے بحث: ہائی کورٹ کا پولیس کو سوشل میڈیا سے ویڈیو ہٹانے کا حکم

اپریل 15, 2026
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein

روزنامہ خبریں مفاد عامہ ‘ جمہوری اقدار وآئین کی پاسداری کا پابند ہے۔ اس نے مختصر مدت میں ہی سنجیدہ رویے‘غیر جانبدارانہ پالیسی ‘ملک و ملت کے مسائل معروضی انداز میں ابھارنے اور خبروں و تجزیوں کے اعلی معیار کی بدولت سماج کے ہر طبقہ میں اپنی جگہ بنالی۔ اب روزنامہ خبریں نے حالات کے تقاضوں کے تحت اردو کے ساتھ ہندی میں24x7کے ڈائمنگ ویب سائٹ شروع کی ہے۔ ہمیں یقین ہے کہ یہ آپ کی توقعات پر پوری اترے گی۔

اہم لنک

  • ABOUT US
  • SUPPORT US
  • TERMS AND CONDITIONS
  • PRIVACY POLICY
  • GRIEVANCE
  • CONTACT US
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے

.ALL RIGHTS RESERVED © COPYRIGHT ROZNAMA KHABREIN

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password?

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In

Add New Playlist

کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے

.ALL RIGHTS RESERVED © COPYRIGHT ROZNAMA KHABREIN