ماسکو: (ایجنسی)
روسی صدر ولادیمیر پوتن نے جمعہ کے روز کہا کہ مغربی ممالک افغانستان میں سبق سیکھنے کے باوجود دوسرے ممالک پر اپنی چیزیں تھوپنے کی پالیسی پر عمل پیرا ہیں۔ روسی خبر رساں ایجنسی تاش کے مطابق پوتن نے مغرب پر اپنی اقدار کو ملکوں پر مسلط کرنے کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ کیا یہ مغرب کے تسلط کا خاتمہ ہے؟ آخر مسئلہ کیا ہے؟ مسئلہ یہ ہے کہ یہ اسباق موجود ہیں اور انہیں صحیح طور پر سمجھا جانا چاہیے اور پالیسی کو تبدیل کیا جانا چاہیے۔
روس کے صدر ولادیمیر پوتن نے کہا ہے کہ اگر افغانستان ایک ملک کے طور پر اکٹھا نہیں رہتا تو کوئی ایسی سیاست قوت نہیں ہو گی جس سے بات کی جا سکے۔ جمعے کو ایک بیان میں ان کا کہنا تھا کہ افغانستان میں ایک سیاسی قوت کو ’قانونی شکل‘ دینے کے لیے مشترکہ کوششیں کی جانی چاہئیں۔
ولادیمیر پوتن نے یہ بات اس سوال کے جواب میں کہی جس میں ان سے پوچھا گیا تھا کہ کیا روس طالبان کی حکومت کو تسلیم کرے گا یا نہیں۔ خیال رہے کہ روس نے طالبان کو ایک دہشت گرد گروپ قرار دیا ہوا ہے۔
روسی صدر کا کہنا تھا کہ طالبان جتنی جلدی ’مہذب اقوام کے خاندان‘ کا حصہ بنتے ہیں اتنی جلدی ہی ان سے رابطہ کرنا اور یہ بات منوانا آسان ہو گا کہ ضروری ہے کہ افغانستان ’مہذب دنیا کے کچھ قوانین کی پاسداری‘ کرے گا۔
ان کا کہنا تھا کہ روس نہیں چاہتا کہ افغانستان ایک ایسا ملک بنے جہاں کوئی مرکزیت نہ ہو کیونکہ اگر ایسا ہوا تو وہاں کوئی نہیں ہو گا جس سے بات کی جا سکے۔









