*اسرائیل کی شام میں مداخلت بلاجواز
**اس مرحلے کو شامیوں کی خدمت اور مستقبل کی تعمیر کیلئے استعمال کریں گے
**ریاست کو انقلابی ذہنیت کے ساتھ نہیں چلایا جانا چاہیے۔
* پردے کے پیچھے بہت سے لوگ ہیں جنہیں ہم بعد میں ظاہر کریں گے
دمشق:,شام میں ’’ملٹری آپریشنز ڈیپارٹمنٹ‘‘ کے کمانڈر احمد الشرع نے ’’العربیہ‘‘ اور ’’الحدث‘‘ کو بتایا ہے کہ ہم اس مرحلے کو شامیوں کی خدمت اور مستقبل کی تعمیر کے لیے استعمال کریں گے۔ انتخابات کے حوالے سے انہوں نے کہا دمشق میں میری موجودگی ابھی کافی ہے، ہم نے جو کچھ سالوں میں کیا ہے اسے نظر انداز نہیں کریں گے۔
انہوں نے کہا کہ شام میں جو کچھ ہوا وہ اتفاقی نہیں تھا بلکہ اس کی برسوں سے تیاری کی گئی تھی۔ احمد الشرع نے متعلقہ سیاق و سباق میں کہا کہ ریاست کو انقلابی ذہنیت کے ساتھ نہیں چلایا جانا چاہیے۔ اس کے لیے ایک قانون اور ریاستی اداروں کی ضرورت ہے۔
روس کے ساتھ تعلقات کے حوالے سے احمد الشرع نے کہا کہ روسی بشار الاسد کی حکومت سے تنگ آ چکے ہیں اور شام میں نئی قیادت نے روس کو نئے تعلقات استوار کرنے کا موقع فراہم کیا ہے۔ احمد الشرع نے وضاحت کی کہ اسرائیل شام میں داخل ہونے کے لیے ایرانی موجودگی کو ایک بہانے کے طور پر استعمال کر رہا تھا ۔ اس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ یہ دلائل اب موجود نہیں رہے ہیں۔ اسرائیل ایرانی موجودگی کے بہانے شام میں داخل ہونے کا ارادہ رکھتا تھا اور اس کا عذر اب ختم ہو گیا ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ جنگ میں پردے کے پیچھے بہت سے لوگ ہیں جنہیں ہم بعد میں ظاہر کریں گے۔ جو کچھ ہوا وہ اتفاقی نہیں ہے بلکہ ہم برسوں سے اس کی تیاری کر رہے تھے۔ ہمارے پاس شام کے تمام بحرانوں کا علاج کرنے کا منصوبہ ہے اور ہم ہمارے پاس شام میں تعمیر اور ترقی کے لیے بھی تیار منصوبے موجود ہیں۔ ہم نے بڑے شہروں کا کنٹرول حاصل کر لیا ہے۔ملٹری آپریشنز ڈپارٹمنٹ نے تصدیق کی کہ عوامی جائیداد چھپانے میں ملوث ثابت ہونے والے ہر شخص کو جوابدہ ٹھہرایا جائے گا۔ احمد الشرع کے فوجی آپریشن کی کمان سنبھالنے پر بہت سے رد عمل سامنے آئے








