تجزیہ:محمد خالد( لکھنؤ )
مسلمانوں میں عمومی طور پر سیاست میں کافی دلچسپی رہتی ھے اور رہنا بھی چاہیے کیونکہ مسلمان کبھی بھی معاشرے کے معاملات سے بے تعلق نہیں رہ سکتا ھے.اس حقیقت کو سامنے رکھتے ہوئے اس ملک میں سیاست کی زمینی کیفیت کو بھی سمجھنا بہت ضروری ھے.
آزادی کے وقت ایک طرف ملک کے سامنے بے شمار مسائل اور وسائل کا فقدان تھا تو ساتھ ہی ملک میں دلت، آدی واسی، مسلمان اور پسماندہ طبقات کو ایک باعزت شہری بنانے کا بہت بڑا چیلنج درپیش تھا. جس کے لئے مرکزی حکومت کے ذریعے بہت سے منصوبے بنائے گئے تھے جو کہ آج تک رو بہ عمل ہیں. خاص طور پر دلتوں اور پسماندہ طبقات کے لئے سرکاری ملازمت اور تعلیمی اداروں میں داخلہ کے لئے ریزرویشن کی سہولت فراہم کی گئی تھی جو کہ مستقل جاری ھے مگر ریزرویشن کی سہولت کو اس طرح منظم نہیں کیا جا سکا کہ ان طبقات کی مجموعی کیفیت میں بہتر تبدیلی آ سکتی. دلتوں اور پسماندہ طبقات کے جن گھرانوں کو شروع کے بیس پچیس سال میں ریزرویشن کی وجہ سے اپنی زندگی کو بہتر بنانے کا موقع حاصل ہوا پھر آگے کے دنوں میں ان گھرانوں تک ہی ریزرویشن کا فائدہ محدود ہو گیا اور جو گھرانے محروم رہ گئے تھے وہ آج تک محروم ہیں. مسلمانوں کو ریزرویشن کی سہولت سے الگ رکھا گیا اور جو مسلمان دلت طبقات سے تعلق رکھتے تھے ان کو دستور کی دفعہ 341 (3) کے تحت صدارتی حکم سے روک دیا گیا. اس کے ساتھ ہی مسلمانوں کے ساتھ یہ نہ انصافی اختیار کی گئی کہ ملک کی دوسری بڑی اکثریت یعنی مسلمان کو جین، پارسی وغیرہ جیسی دیگر چھوٹی چھوٹی مذہبی اکائیوں میں شامل کر دیا گیا. جس کا آغاز حکومت ہند نے مولانا آزاد صدی تقریبات کے موقع پر "مولانا آزاد ایجوکیشن فاؤنڈیشن” کے قیام سے کیا، افسوس کہ مسلمان قیادت کی طرف سے اس پر کسی قسم کا سوال نہیں اٹھایا گیا کہ جب اس فاؤنڈیشن کو مولانا آزاد کی نسبت سے مسلمانوں کی تعلیمی فلاح بہبود کے لئے قائم کیا جا رھا ھے تو پھر ملک کی دوسری اقلیتی مذہبی اکائیوں کو اس میں کیوں شامل کیا جا رھا ھے. آزاد بھارت کا یہ پہلا معاملہ تھا کہ ملک کے مسلمانوں کو مجموعی قومی معاملات سے الگ کر دیا گیا تھا. اس کاوش پر مسلمانوں کی خاموشی نے حکومت کو 2006 میں باقاعدہ وزارت اقلیتی امور کے قیام کا موقع فراہم کیا. کسی بھی قوم کو اگر تعلیمی لحاظ سے الگ تھلگ کر دیا جائے تو پھر اس میں کُلّی اجتماعیت کی جگہ قومی محدودیت کا مزاج پیدا ہونا فطری عمل ھے.
تعلیم کے میدان میں جس طرح کی پالیسی اختیار کی گئی تھی ٹھیک اسی طرح سیاسی میدان میں بھی حکمت عملی اختیار کی گئی. ملک کی آٹھویں لوک سبھا میں جمہوریت کا بول بالا تھا، کانگریس کی چار سو سے زائد سیٹیں تھیں مگر اس لوک سبھا کے اختتام کے قریب مسلمانوں کے درمیان بہت تیزی سے ایک نعرہ لگا کہ مسلمان اس کو ووٹ دے گا جو کہ بی جے پی کو الیکشن میں شکست دینے کی پوزیشن میں ہو. اس نعرے کے ساتھ نویں لوک سبھا کا انتخاب ہوا جس میں کانگریس کی آدھی سیٹیں بھی برقرار نہیں رہ سکیں جس کے نتیجے میں غیر کانگریسی حکومت وجود میں آئی اور وشوناتھ پرتاب سنگھ کی سربراہی میں مختلف سیاسی جماعتوں کی مشترکہ "راشٹریہ مورچہ” حکومت قائم ہوئی مگر اس کی مدت بس ایک سال ہی رہی. اسی زمانہ میں بابری مسجد قضیہ عوامی رخ اختیار کرنے لگا اور پھر 1990 میں رام کرشن اڈوانی نے ملک کے بڑے اور حساس علاقوں میں رتھ یاترا نکال کر ایک ایسا ماحول بنا دیا جس کی وجہ سے مسلمان یہ سوچنے پر مجبور ہوا کہ اپنے اور اپنے مفادات کے تحفظ کے لئے مسلمانوں کو ان علاقائی سیاسی جماعتوں کے ساتھ ہو جانا چاہیے جو کہ مسلمانوں کے حقوق اور تحفظ کی بات کریں. اس لائحہ عمل کو اختیار کرنے کی وجہ سے مسلمانوں کے سیاسی قائدین کی نکیل علاقائی سیکولر سیاسی جماعتوں کے ہاتھوں میں چلی گئی اور آگے چل کر ان سیکولر سیاسی جماعتوں نے اپنے مسلم ممبران کو مسلمانوں کے معاملات میں کچھ بھی کرنے سے روک دیا جس کے لئے کہا گیا کہ تم اگر اپنی قوم کے کسی بھی طرح کے معاملات کو اٹھاؤ گے تو اس سے پارٹی کمزور ہوگی. اس طرح سیکولر ازم کی دعویدار سیاسی پارٹیاں اپنے اپنے مفادات کے حساب سے اپنے مسلم ممبران کا استعمال کرتی رہیں اور آج بھی یہی کیفیت موجود ھے.
تعلیم، سیاست کے بعد اب معاشی معاملات میں بھی معاشرے میں ہندو مسلم تفریق پیدا کرنے کی شدت سے کوشش کی جا رہی ھے. تجارت پیشہ مسلمانوں کو مستقل کسی نہ کسی آزمائش کا سامنا کرنا پڑ رھا ھے. کہیں گؤ کشی کے نام پر مآب لنچنگ ہو رہی ھے تو اس کے ساتھ ہی مختلف ہندو تہواروں اور یاتراؤں کی وجہ سے مسلم دکانداروں کو جانچ کے نام پر پریشان کیا جا رھا ھے. گوشت کی دکانوں کو بند کرایا جاتا ھے جس کی وجہ سے مسلمانوں کی تجارت کو بہت نقصان پہنچ رھا ھے.
اس پوری صورتحال پر سنجیدگی کے ساتھ غور و فکر کرنے کی شدید ضرورت ھے. اس ملک کی تاریخ گواہ ھے کہ یہاں پر بہت لمبی مدت تک مسلمانوں نے حکومت کی ھے جس میں ملک کے سبھی شہریوں کو اپنے مذہبی عقائد کے ساتھ امن و امان کی زندگی گزارنے کا پورا موقع حاصل تھا، سبھی مذاہب کے ماننے والوں کو اپنے مذہبی مقامات کے قیام کے لئے سرکاری سہولیات فراہم کی جاتی تھیں. دیہی علاقوں میں مسلم زمیندار بڑی بڑی زرعی آراضی کے مالک تھے اور اپنے علاقے کے تمام لوگوں کی سرپرستی کرتے رہتے تھے. اس لئے مسلمانوں کو اپنی تاریخ کو پھر سے دہرانے کی فکر کرنا ہوگی کیونکہ بحیثیت مسلمان ہمارا فرض ھے کہ ہم اللہ کی مخلوق کے ساتھ حسن سلوک کا معاملہ کریں، کیوں کہ اسلامی تعلیمات انسانوں میں کسی بھی قسم کی تفریق کرنے کی اجازت نہیں دیتیں، ہاں کمزور اور ضرورت مند کی مدد کرنے کی ذمہ داری ضرور عائد کرتی ہیں. ملک کا دستور بھی کسی بھی تفریق کے بجائے انسانی حقوق کی پاسداری کا پابند بناتا ھے. اس ملک کے شہری ہونے کے ناطے ہمیں ملک کے دستور اور قانون کے مطابق سبھی معاملات کو دیکھنے کی ضرورت ھے. ملک کے مسائل ہمارے مسائل ہیں اور ملک کے وسائل بھی ہمارے وسائل ہیں. اس لئے انتہائی ضروری ھے کہ ملت اسلامیہ ہند صرف مسلمانوں کے لئے نہیں بلکہ ملک کے سبھی شہریوں کی ضروریات اور مفادات کے لحاظ سے سیاسی لائحہ عمل تیار کرے کیونکہ دوسروں کے امن و سکون میں ہی ہمارا بھی امن و سکون ممکن ھے.











