نئی دہلی : (آر کےبیورو)
آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین کے صدر اسد الدین اویسی نے مغربی یوپی کے مظفر نگر فسادات کے زخموں کوکرید کرپھر سے ہرا کردیا ہے ۔ 2013 کے مظفر نگر فساد کا ذکر کرتے ہوئے اویسی نے کہاکہ آٹھ سال پہلے مظفر نگر کا مسلمان خون کے دریا سے گزرا ہے اور اب کہا جا رہا ہے کہ بھول جاؤ ۔ ساتھ ہی اویسی نے کہاکہ لوک سبھا انتخاب میں جاٹو نے بی جے پی کو ووٹ دے کر جتایا ۔ جب جاٹ چودھری اجیت سنگھ کو ہرا کر انہیں چھوڑ سکتے ہیں تو مسلمان پرانی روایت کیوں نہیں چھوڑ رہے ہیں ؟ اس طرح اویسی مغربی یوپی میں جاٹ- مسلم فارمولیشن میں نقب زنی کی کوشش کرتے نظر آئے ۔
بھارتیہ کسان یونین کے رہنما راکیش ٹکیت کا سیاسی بنیاد مغربی کے علاقے میں ٹکا ہے۔ جاٹ- مسلم ووٹوں کے سہارے وہ بی جے پی کو 2022 کے الیکشن میں سبق سکھانے کا دم بھر رہے ہیں ۔ اویسی نے ٹکیت کے گڑھ مظفر نگر میں انتخابی ہنکار بھر کر مغربی یوپی کی سیاست میں ایک بار پھر سے گرما دیاہے ۔ اویسی نے جس طرح سے مظفر نگر فساد اور مسلمانوں کے ساتھ ناانصافی کا ذکر کرتے ہوئے ایس پی، بی ایس پی ، آر ایل ڈی اور کانگریس پر سوال کھڑے کئے۔
اویسی نے کہا کہ 19 فیصد مسلمان آج سیاسی طور پر محتاج ہیں۔ مسلمان ایس پی-بی ایس پی کو ووٹ دیتے رہے اور فسادات کا شکار بنتے رہے۔ ہمیں اپنے ووٹ کی سیاسی طاقت کو پہچاننی ہوگی۔ ہندوستان میں آزادی کا مطلب ہے، جس کی لاٹھی اس کی بھینس۔ مظفر نگر کے مسلمانوں نے کبھی بی جے پی کی حمایت نہیں کی، پھر بھی 2013 میں یہاں فساد ہوا۔ مسلمانوں کے ساتھ ناانصافی کی بات ہوتی ہے تو ایس پی-بی ایس پی-آر ایل ڈی کے لیڈروں کے مائک بند ہو جاتے ہیں۔







