مالیگاؤں بلاسٹ 2008 کیس میں این آئی اے کی خصوصی عدالت نے سابق بی جے پی ایم پی پرگیہ سنگھ ٹھاکر، کرنل پرساد پروہت سمیت 7 لوگوں کو بری کردیا۔ لیکن اس تفصیلی فیصلے کو پڑھا جائے، کیونکہ عدالت نے بہت سے سوالات اٹھائے ہیں۔ اس فیصلے کے بعد سوشل میڈیا پر جس طرح بہت سے عناصر اسے اپنے نقطہ نظر سے پیش کر رہے ہیں، اس سے اصل حقیقت سامنے نہیں آ رہی ہے۔ ٹائمز آف انڈیا اور انڈین ایکسپریس کی رپورٹ میں سنسنی خیز انکشاف کیا گیا ہے۔ خصوصی این آئی اے عدالت نے کہا کہ اس کیس سے متعلق اہم دستاویزات غائب ہو گئے ہیں اور اصل بیانات کے کاغذات بھی گم ہو گئے ہیں۔ اس واقعے نے تحقیقات کی شفافیت اور ساکھ پر سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔عدالت نے اپنے آبزرویشنز میں کہا کہ کیس میں کئی اہم دستاویزات غائب ہو گئیں، گواہوں کے اصل بیانات ضائع ہو گئے۔ اس کے علاوہ تفتیش کے دوران شواہد سے چھیڑ چھاڑ اور گواہوں کے بیانات واپس لینے کے الزامات بھی سامنے آئے۔ اس معاملے میں ایک حاضر سروس فوجی افسر کو دہشت گردانہ سرگرمیوں کے الزام میں گرفتار کیا گیا تھا، جس پر اس وقت کافی تنازعہ کھڑا ہوا تھا۔مختلف تفتیشی ایجنسیوں کی جانب سے کیس کو ہینڈل کرنے سے تفتیش کی سمت اور ساکھ پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔
سوال در سوال **ممبئی مرر کے مطابق، کم از کم 13 گواہوں اور دو ملزمان کے اعترافی بیانات، جو CrPC 164 اور MCOCA کے تحت درج ہیں، 2016 تک عدالتی ریکارڈ سے غائب ہو گئے۔**ان میں مالیگاؤں دھماکوں کی منصوبہ بندی پر تبادلہ خیال کرنے کے لیے پرگیہ ٹھاکر اور رام جی کلسانگرا (ایک مفرور ملزم) کے درمیان ملاقاتوں کی تفصیلات شامل تھیں۔**کورٹ ٹو کورٹ ٹریکنگ کے باوجود اصل دستاویزات کا پتہ نہ لگنے کے بعد، خصوصی عدالت نے دفاع کے اعتراضات کے باوجود فوٹو کاپیوں کے استعمال کی اجازت دے دی۔**دہلی میں این آئی اے کے ذریعہ ریکارڈ کیے گئے تازہ بیانات پہلے کے بیانات کے بالکل برعکس تھے، جس کی وجہ سے اب ملزمین کو بری کردیا سیاسی ہو ا اور حکومت کی لاپرواہی 2014 سے نظر آنے لگی۔ 2014 میں بی جے پی مرکز میں برسراقتدار آئی۔ انڈین ایکسپریس کے مطابق حکومت کا موقف 2014 کے بعد تبدیل ہوا جس کی 2014 کے بعد ابتدائی خصوصی پبلک پراسیکیوٹر روہونی سالیان نے عوامی طور پر تصدیق کی۔۔2015 میں، سالیان نے انکشاف کیا کہ این آئی اے کے اہلکاروں نے انہیں ملزم کے تئیں "نرم رویہ” اختیار کرنے کی ہدایت دی تھی۔ جب اس نے انکار کر دیا تو اس کی جگہ کسی اور نے لی۔
ابھینو بھارت نامی سنستھا نے ایک بہت بڑا نیٹ ورک پھیلا رکھا تھا جس کی کبھی تفتیش نہیں ہوئی۔ مالیگاؤں معاملہ کوئی الگ تھلگ واقعہ نہیں تھا۔ اس نیٹ ورک سے منسلک کئی اور واقعات بھی تھے لیکن بعد میں خاموشی چھا گئی۔ سمجھوتہ ایکسپریس دھماکہ (2007) اجمیر شریف درگاہ دھماکہ (2007) حیدرآباد میں مکہ مسجد دھماکہ (2007) ناندیڑ اور پربھنی مسجد دھماکے (2003-2006)۔ اے ٹی ایس نے ابتدا میں دلیل دی کہ یہ دھماکے ایک بڑے ہندوتوا دہشت گرد نیٹ ورک کا حصہ تھے جس کا ایک ہی نظریہ، فنڈنگ اور لوگ تھے۔ 2011 میں این آئی اے کی جانب سے تحقیقات سنبھالنے کے بعد اس کہانی کو خاموشی سے چھوڑ دیا گیا تھا۔(بشکریہ ستیہ ہندی )








