اردو
हिन्दी
فروری 13, 2026
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں

جھارکھنڈ میں بی جے پی کیوں ہاری؟

1 سال پہلے
‏‏‎ ‎‏‏‎ ‎|‏‏‎ ‎‏‏‎ ‎ مضامین
A A
0
289
مشاہدات
Share on FacebookShare on TwitterShare on Whatsapp

تجزیہ:ایم۔ ریاض ہاشمی۔
جھارکھنڈ اسمبلی انتخابات میں بی جے پی کی زبردست شکست نے پارٹی کی حکمت عملی، اتحاد مینجمنٹ اور انتخابی مہم کے طریقوں پر سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ 81 اسمبلی نشستوں میں سے بی جے پی صرف 21 نشستیں جیت پائی، جو کہ 2019 کے مقابلے میں 4 نشستیں کم ہیں۔ خاص طور پر قبائلیوں کے لیے مخصوص نشستوں پر پارٹی کی حالت انتہائی خراب رہی، جہاں 28 میں سے صرف سرائیکلا کی نشست پر کامیابی حاصل ہوئی۔ 2019 میں یہ تعداد 2 تھی۔ 
بی جے پی کی شکست کی سب سے بڑی وجہ قبائلیوں کا رگھوور داس حکومت کے چھوٹا ناگپور کاشتکاری ایکٹ (سی این ٹی ایکٹ) میں ترمیم کی کوششوں سے پیدا ہونے والا عدم اطمینان ہے۔ 2016 میں مجوزہ ترمیم نے قبائلی برادری میں یہ احساس پیدا کیا کہ ان کی زمینیں صنعت کاروں کے ہاتھوں جا سکتی ہیں۔ یہ مسئلہ آج بھی قبائلیوں کے ذہن میں ایک گہرے زخم کی طرح موجود ہے، جسے چمپائی سورین جیسے رہنماؤں کو شامل کر کے بھی مندمل نہیں کیا جا سکا۔ 
بی جے پی کی شکست کی  اہم وجوہات:
1. سی این ٹی ایکٹ کا زخم: 
رگھوور داس حکومت کی 2016 میں سی این ٹی ایکٹ میں ترمیم کی کوششوں نے قبائلی برادری کے اعتماد کو ٹھیس پہنچائی۔ اس کا اثر پارٹی کی کارکردگی پر مسلسل دیکھنے کو مل رہا ہے۔ 2014 میں بی جے پی نے 28 قبائلی نشستوں میں سے 11 نشستیں جیتی تھیں، جو 2019 میں گھٹ کر 2 اور 2024 میں 1 رہ گئی۔ ترمیم کے خلاف اتنا گہرا ردعمل تھا کہ واپس لینے کے باوجود بی جے پی اس ناراضگی کو دور نہیں کر پائی۔ 
*2. ہیمنت اور کلپنا کا توڑ نہ ڈھونڈ پانا:
بی جے پی نے قبائلی ووٹروں کو رجھانے کے لیے بابولال مرانڈی کو کھلی چھوٹ دی، لیکن وہ خود قبائلی نشست چھوڑ کر جنرل سیٹ سے انتخاب لڑے، جس سے غلط پیغام گیا۔ ہیمنت سورین کے خلاف بیرونی رہنماؤں کی جارحانہ حکمت عملی، مرکزی ایجنسیوں کے چھاپے، اور انہیں جیل بھیجنے کی کوششیں الٹا پڑ گئیں۔ دوسری طرف، ہیمنت سورین اور ان کی بیوی کلپنا سورین کا سیدھا عوامی رابطہ بی جے پی کے لیے چیلنج بن گیا۔ 
3. دراندازی کا مسئلہ بے اثر:
بی جے پی نے سنتھال پرگنہ میں بنگلہ دیشی دراندازی کا مسئلہ زور و شور سے اٹھایا اور اسے پورے ریاست کا بڑا مسئلہ بنا دیا۔ ہیمنت بسوا سرما نے آسام کی طرز پر اسے انتخابی مہم کا مرکز بنایا، لیکن جھارکھنڈ کی مقامی حقیقتوں سے مطابقت نہ ہونے کے سبب یہ حکمت عملی ناکام رہی۔ دراندازی والے علاقوں میں بھی بی جے پی کی کارکردگی کمزور رہی، اور پارٹی اپنی مضبوط گرفت والی راج محل نشست بھی کھو بیٹھی۔ 
4. مقامی رہنماؤں کی نظرانداز کرنا:
بی جے پی نے اس بار انتخابی مہم کی قیادت مرکزی قیادت اور بیرونی رہنماؤں جیسے ہیمنت بسوا سرما اور شیوراج سنگھ چوہان کو سونپ دی۔ مقامی رہنماؤں کو حاشیے پر ڈالنے اور بہار جیسے قریبی ریاستوں کے مؤثر رہنماؤں کو مہم میں شامل نہ کرنے سے کارکنوں میں کنفیوژن پیدا ہوا۔ 
5. انتخابی منشور بمقابلہ انڈیا اتحاد کا عوامی رابطہ:
بی جے پی کا منشور چاہے مضبوط تھا، لیکن ہیمنت سورین کی قیادت والے انڈیا اتحاد کے وعدوں کے سامنے ماند پڑ گیا۔ خواتین کے احترام کی اسکیم کے تحت ہیمنت حکومت کی جانب سے خواتین کے بینک کھاتوں میں رقم ڈالنے کا بروقت قدم گیم چینجر ثابت ہوا۔ بی جے پی کا ₹2100 ماہانہ امداد کا وعدہ بھی انڈیا اتحاد کے ₹2500 ماہانہ کے وعدے کے مقابلے میں کمزور پڑ گیا۔ 
ان نتائج کا کیا مطلب ہے؟
بی جے پی کی شکست جھارکھنڈ میں قبائلی ناراضگی اور عوام سے کٹی ہوئی انتخابی مہم کی بڑی کہانی بیان کرتی ہے۔ بیرونی رہنماؤں پر انحصار اور مقامی مسائل کی نظراندازی نے پارٹی کو بڑا نقصان پہنچایا۔ ان نتائج نے بی جے پی کو خود احتسابی کا واضح پیغام دیا ہے۔ دوسری جانب، ہیمنت سورین کی مضبوط گرفت اور انڈیا اتحاد کی حکمت عملی نے انہیں ریاست کی سیاست میں مزید مضبوط کر دیا ہے۔

ٹیگ: BJPJharkhandloss

قارئین سے ایک گزارش

سچ کے ساتھ آزاد میڈیا وقت کی اہم ضرورت ہےـ روزنامہ خبریں سخت ترین چیلنجوں کے سایے میں گزشتہ دس سال سے یہ خدمت انجام دے رہا ہے۔ اردو، ہندی ویب سائٹ کے ساتھ یو ٹیوب چینل بھی۔ جلد انگریزی پورٹل شروع کرنے کا منصوبہ ہے۔ یہ کاز عوامی تعاون کے بغیر نہیں ہوسکتا۔ اسے جاری رکھنے کے لیے ہمیں آپ کے تعاون کی ضرورت ہے۔

سپورٹ کریں سبسکرائب کریں

مزید خبریں

Power Decline Political Narrative
مضامین

اقتدار کا ڈھلتا سورج اور ٹوٹتا ہوا بیانیہ!

07 فروری
Muslims Shudra Category Campaign
مضامین

شودروں کے زمرے میں، مسلمانوں کو ڈالنے کی مہم،

02 فروری
AIMIM BJP Muslim Issues
مضامین

مجلس والے بی جے پی کو مسلمانوں کے خلاف نئے نئے ایشو تھمارہے ہیں!

31 جنوری
  • ٹرینڈنگ
  • تبصرے
  • تازہ ترین
World News Brief

عالمی خبریں: اختصار کے ساتھ

جنوری 28, 2026
Urdu Language and Unani Medicine NEP 2020

قومی تعلیمی پالیسی 2020 کے تناظر میں اردو زبان اور یونانی طب

جنوری 28, 2026
Jamiat Ulema-e-Hind Freedom Role

جمعیتہ علمائے ہند کو آزادی کی تاریخ میں جگہ کیوں نہیں ملی؟

جنوری 31, 2026
AI Quran Tafsir Prohibited

مصنوعی ذہانت (AI) سے قرآن پاک کی تفسیر شرعاً ممنوع :مصری دارالافتاء

جنوری 28, 2026
Vande Mataram Mandatory Muslim Board Objection

وندے ماترم کو لازمی قرار دینا غیر آئینی ،مذہبی آزادی کے مںافی،ناقابل قبول۔:مسلم پرسنل لا بورڈ

Sambhal Madrasa Demolition Land Allegation

سنبھل میں ایک اور ‘غیر قانونی’ مدرسے کو مسمار کردیا گیا سرکاری زمین پر بنانے کا الزام

طلاق حسن سپریم کورٹ انکار

طلاقِ حسن کی آئینی حیثیت کو چیلنج،وہاٹس ایپ اور ای میل سے طلاق پر عبوری روک سے سپریم کورٹ کا انکار

Islamophobia School Separate Function Issue

اسلاموفوبیا: ایک ممتاز نجی اسکول میں مسلم اور غیر مسلم اسٹوڈنٹس کے علیحدہ سالانہ فنکشن، یہ ہوکیا رہا ہے؟

Vande Mataram Mandatory Muslim Board Objection

وندے ماترم کو لازمی قرار دینا غیر آئینی ،مذہبی آزادی کے مںافی،ناقابل قبول۔:مسلم پرسنل لا بورڈ

فروری 12, 2026
Sambhal Madrasa Demolition Land Allegation

سنبھل میں ایک اور ‘غیر قانونی’ مدرسے کو مسمار کردیا گیا سرکاری زمین پر بنانے کا الزام

فروری 12, 2026
طلاق حسن سپریم کورٹ انکار

طلاقِ حسن کی آئینی حیثیت کو چیلنج،وہاٹس ایپ اور ای میل سے طلاق پر عبوری روک سے سپریم کورٹ کا انکار

فروری 12, 2026
Islamophobia School Separate Function Issue

اسلاموفوبیا: ایک ممتاز نجی اسکول میں مسلم اور غیر مسلم اسٹوڈنٹس کے علیحدہ سالانہ فنکشن، یہ ہوکیا رہا ہے؟

فروری 12, 2026

حالیہ خبریں

Vande Mataram Mandatory Muslim Board Objection

وندے ماترم کو لازمی قرار دینا غیر آئینی ،مذہبی آزادی کے مںافی،ناقابل قبول۔:مسلم پرسنل لا بورڈ

فروری 12, 2026
Sambhal Madrasa Demolition Land Allegation

سنبھل میں ایک اور ‘غیر قانونی’ مدرسے کو مسمار کردیا گیا سرکاری زمین پر بنانے کا الزام

فروری 12, 2026
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein

روزنامہ خبریں مفاد عامہ ‘ جمہوری اقدار وآئین کی پاسداری کا پابند ہے۔ اس نے مختصر مدت میں ہی سنجیدہ رویے‘غیر جانبدارانہ پالیسی ‘ملک و ملت کے مسائل معروضی انداز میں ابھارنے اور خبروں و تجزیوں کے اعلی معیار کی بدولت سماج کے ہر طبقہ میں اپنی جگہ بنالی۔ اب روزنامہ خبریں نے حالات کے تقاضوں کے تحت اردو کے ساتھ ہندی میں24x7کے ڈائمنگ ویب سائٹ شروع کی ہے۔ ہمیں یقین ہے کہ یہ آپ کی توقعات پر پوری اترے گی۔

اہم لنک

  • ABOUT US
  • SUPPORT US
  • TERMS AND CONDITIONS
  • PRIVACY POLICY
  • GRIEVANCE
  • CONTACT US
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے

.ALL RIGHTS RESERVED © COPYRIGHT ROZNAMA KHABREIN

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password?

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In

Add New Playlist

کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے

.ALL RIGHTS RESERVED © COPYRIGHT ROZNAMA KHABREIN