صہیونی عقاںٔد اور نظریات کی روشنی میں_
تجزیہ: آصف محمود
غزہ میں فلسطینیوں کو جس طرح خوراک ا ور پانی کے نام پر اکٹھا کر کے شہید کیا جا رہا ہے، یہ معلوم تاریخ انسانی کا سب سے دردناک سانحہ ہے۔ اس پر سفید فام مغربی اقوام کا رویہ انتہائی شرمناک ہے جو یہ بتا رہا ہے کہ دنیا کی سب سے سفاک اور بے رحم تہذیب یہی سفید فام تہذیب ہے جسے سب سے مہذب ہونے کا دعوی ہے۔ یہاں دو سوال بہت اہم ہیں ۔ ایک یہ کہ حقوق انسانی کے اس دور میں مغربی اقوام اسرائیل کے ہاتھوں فلسطینیوں کے قتل عام کے باوجودا سرائیل کی سرپرستی کیوں کیے جا رہی ہیں اور دوسرا یہ کہ اسرائیل اتنا سفاک کیوں ہے ؟ یہ محض ایک ریاست کا انتظامی وحشی پن ہے یا اس کے پیچھے کوئی اور فکر بھی موجود ہے۔ جہاں تک پہلے سوال کا تعلق ہے ، حقیقت آج بھی وہی ہے کہ یہ حقوق انسانی اصل میں ، کرسچیئن ہیومن رائٹس تھے۔ یہ کوئی الزام نہیں ، یہ ایک حقیقت ہے کہ ان کا ابتدائی نام کرسچیئن ہیومن رائٹس تھا۔ یہ اصطلاح مغرب کی مسیحی اقوام کے انسانی حقوق کے لیے معرض وجود میں آئی تھی۔ بعد میں ’ وائٹ مینز برڈن‘ نے اس میں سے کرسچیئن کا لفظ نکال کر اسے آفاقی تصور میں بدل دیا لیکن فیصلہ سازوں کے ہاں عملی طور پر یہ حقوق آج بھی صرف ان ہی کے لیے ہیں اور مسلمانوں کو اس درجے کا انسان نہیںسمجھا جاتا کہ ان کے انسانی حقوق کے لیے پریشان ہوا جائے۔ مغربی معاشرے میں عوامی سطح پر کچھ وہ ہیں جو انہیں انسانی حقوق ہی سمجھتے ہیں ـ ا س لیے وہ فلسطین کے لیے سراپا احتجاج ہیں لیکن فیصلہ سازوں کو معلوم ہے کہ یہ اصل میں آج بھی صرف کرسچیئن ہیومن رائٹس ہیں اور مسلمان اس درجے کے انسان نہیں کہ ان کے بھی کچھ حقوق ہوں اس لیے وہ اسرائیل کی سرپرستی کر رہے ہیں۔ یہ تضاد محض مفادات کا نہیں ، یہ فکری تضاد ہے۔ دوسرے سوال کا جواب اسرائیل شحاک نے دیا ہے۔ وہ ہبریو یونیورسٹی آف یروشلم کے پروفیسر تھے۔ یہ ان یہودیوں میں شامل تھے جو ہولوکاسٹ میں بچ گئے اور فلسطین لا کر آباد کر دیے گئے۔ ان کی کتاب ” جیوش ہسٹری، جیوش ریلیجن، دی ویٹ آف تھری تھاؤزنڈ ایئرز ” انتہائی اہم کتاب ہے، یہاں میں اس کے صرف دو اقتباسات یہاں لکھ رہا ہوں۔ وہ صفحہ 24 پر لکھتے ہیں کہ ہم یہودی بچوں کو یہ پڑھاتے ہیں کہ جب کبھی یہودی قبرستان کے پاس سے گزرو تو مرحومین کے لیے اچھے کلمات ادا کرو لیکن اگر تم کسی ایسے قبرستان کے پاس سے گزرو جو یہودی نہ ہو (مسلمان ہو) تو اچھے کلمات ادا نہ کرو بلکہ مرنے والوں کو ماں کی گالی دے کر گزرو۔ اسرائیل شحاک اپنی کتاب کے صفحہ 76 پر اسرائیلی فوج کے سنٹرل ریجن کمانڈ کی جانب سے شائع ہونے والے پمفلٹ سے ایک اقتباس نقل کرتے ہیں جس میں ملٹری کمانڈ کی طرف سے مغربی کنارے میں اپنی افواج کو ہدایات جا ری کی گئی تھیں۔ یہ حکم نامہ پڑھنے کی چیز ہے۔ اس میں لکھا ہے: ” جب ہماری افواج جنگ، تعاقب یا حملے کے دوران سویلینز کو سامنے پائیں اور یہ بات یقینی نہ ہو کہ یہ سویلین ہماری افواج کو نقصان پہنچانے کی کوئی صلاحیت رکھتے ہیں یا نہیں، تب بھی ہلاکہ کے اصول کے تحت ان سویلینز کا قتل کیا جا سکتا ہے بلکہ انہیں لازمی طور پر قتل کیا جانا چاہیے۔ حالات کیسے ہی کیوں نہ ہوں کبھی بھی ایک عرب پر اعتماد نہیں کیا جا سکتا۔ بے شک وہ ایک مہذب شخص ہونے کا تاثر دے تب بھی اسے قتل کر دیا جائے۔ جنگ کے دوران ہماری افواج کو اجازت ہے بلکہ صرف اجازت ہی نہیں انہیں یہ حکم بھی دیا جاتا ہے کہ وہ اچھے شہریوں کو بھی قتل کر دیں۔ یعنی ان شہریں کو بھی جو بظاہر اچھے ہوں”۔ اپنی ایک اور کتاب Racism and the State of Israel کے صفحہ 152 پر اسرائیل شحاک لکھتے ہیں کہ اسرائیل کی سفاکی کا یہ عالم ہے کہ ہمیں اس بات پر قائل کرنے کے لیے کہ اسرائیل سے پہلے فلسطین تو ایک ویران اور متروک علاقہ تھا، گاؤں کے گاؤں تباہ کر دیے گئے، کنویں برباد کر دیے گئے اور ان کا نام و نشان مٹا دیا گیا، گھر مسمار کر دیے گئے تا کہ آبادی کا کوئی نشان نہ ملے، یہاں تک کہ قبرستان اور مقبرے بھی تباہ کر کے ان کا نشان مٹا دیا گیا
۔ ایک اور اہم گواہی اسرائیلی مورخ بینی مورس کی ہے۔ یہ یہودی ہیں اور بن گوریان یونیورسٹی میں تاریخ کے پروفیسر رہ چکے ہیں اور یونیورسٹی آف کیمرج سے پی ایچ ڈی کر چکے ہیں۔ اپنی کتاب The birth of the Palestinian Refugee Problem Revisited میں انہوں نے وہ احوال بیان کر دیا ہے کہ مسلمانوں پر کیا بیتی ا ور ان کی زمینیں کیسے ہتھیائی گئیں۔ وہ لکھتے ہیں کہ اسرائیل کے قیام کے ایک سال کے اندر اندر فلسطینیوںسے 400 گاؤں خالی کرائے گئے، وہاں قتل عام کیا گیا، بلڈوزروں سے ان کے گھر مسمار کر دیے گئے اور انہیں وہاں سے بھگا کر وہاں قبضہ کر لیا گیا۔یہ کام اسرائیلی فوج نے بھی کیا اور ان کے ساتھ صہیونی تنظیم Haganah کے لوگ بھی اور پڑوس میں یہودی آبادکار بھی اس عمل میں شریک تھے۔ان کا کہنا ہے کہ یہ عمل اسرائیل کے قیام سے پہلے ہی جاری تھا اور اس میںصہیونیوں کو برطانوی معاونت بھی حاصل تھی اور یہ طے شدہ پالیسی تھی کہ عربوں کے گھر مسمار کر دینا ایک جائز عمل ہے۔ صہیونی دہشت گرد تنظیم Haganah کے بارے انہوں نے لکھا کہ اس کے پلان ڈی میں باقاعدہ یہ اصول درج تھا کہ عربوں کے گاؤں جلا کر راکھ کر دیے اور کچھ باقی نہ رہنے دیا جائے۔ یہاں یہ ذکر کر دینا مناسب ہو گا کہ بینی مورس نہ صرف اسرائیلی ہیں اور یہودی ہیں بلکہ وہ صہیونی بھی ہیں اور اس کا اعتراف وہ خود اسی کتاب میں کرتے ہیں وہ بتاتے ہیں کہ انہوں نے نظریاتی یا سیاسی بنیاد پر کچھ نہیں لکھا بلکہ وہ صرف یہ جاننا چاہتے تھے کہ ہوا کیا تھا۔ چنانچہ جو ہوا وہ انہوں نے بیان کر دیا اور گمان ہے کہ ابھی بھی پورا بیان نہیں کیا ہو گا۔ حقیقت یہ ہے کہ جارحیت اور وحشت اسرائیل کی پالیسی کا بنیادی اصول ہے ا ور مسلمانوں کو وہ اتنے حقوق دینے کو بھی تیار نہیں جتنے حقوق کوئی کسی جانور کو دیتا ہے۔ اسرائیل جس طرح غزہ میں جنگی جرائم کا ارتکاب کر رہا ہے، یہ تکلیف دہ تو ضرور ہے حیران کن نہیں ہے۔ اس سب کا تعلق محض حکمت عملی یا مفاد سے نہیں ، اس کا تعلق ان کے عقیدے سے ہے۔ ہمارے نو آبادیاتی مسلمان بھلے یہ بات تسلیم نہ کریں کہ یہ عقائد کی جنگ ہے لیکن حملہ آوروں اور ان کے سرپرستوں کے نزدیک یہ عقیدے ہی کی جنگ ہے۔ چنانچہ ان کے نزدیک کتوں بلیوں کے حقوق تو ہیں لیکن غزہ کی مائوں بیٹیوں اور بچوں کے کوئی حقوق نہیں ۔











