رام پور ( آر کےبیورو)
سماج وادی پارٹی کے دبنگ لیڈر اور یوپی سرکار میں وزرہے، رام پور سے رکن پارلیمنٹ محمد اعظم خاں کے ذریعہ بنائی گئی جوہر یونیورسٹی کی زمین پر اب یوپی سرکار نے قبضہ واپس لے لیا ہے ۔ یوپی سرکار کے ذریعہ یونیورسٹی کی 70 ہیکٹر زمین واپس لینے کی کارروائی پوری کرلی گئی ہے ۔ یہ تب ہوا ہے جب یوپی سرکار کے ایکشن کےخلاف الٰہ آباد ہائی کورٹ میں عرضی خارج کردی گئی۔
تحصیلدار پرمود کمار کے مطابق ہائی کورٹ نے زمین واپس لینے کے عمل سے متعلق درخواست خارج کر دی ہے ، لہٰذا اب ہم زمین پر قبضہ کر رہے ہیں۔
واضح رہے کہ سماج وادی پارٹی کی حکومت کے دوران اعظم خان نے رامپور کے ہی مجاہد آزادی مولانا محمد علی جوہر نام پر محمد علی جوہر یونیورسٹی کا قائم کیا ، لیکن ان کے اس خواب کو اقتدار میں تبدیلی ہوتے ہی نظر لگ گئی اور ریاست میں بی جے پی کی سرکار آنے کے بعداعظم خاں کےخلاف 100 سے زیادہ مقدمے درج کردیئے گئے۔
آج تک نیوز پورٹل پر شائع خبر کے مطابق اعظم خان کی عرضی الہ آباد ہائی کورٹ سے خارج ہونے کے بعد یونیورسٹی کی 70 ہیکٹر سے زیادہ زمین پر حکومت نے قبضہ کر لیا ہے۔
شائع خبر کے مطابق جوہر یونیورسٹی کی زمین پر قبضہ کے لئے ضلع انتظامیہ کی ٹیم جمعرات کو ہی وہاں پہنچ گئی تھی ۔ اس دوران بڑی تعداد میں پولیس فورس موجود تھی ۔ موجود افسر نے بتایا کہ اعظم خان کی ہائی کورٹ میں عرضی خارج ہو گئی تھی جس کے بعد یہ قدم اٹھایا جا رہا ہے۔
واضح رہے مولانا محمد علی جوہر ٹرسٹ کو سال 2005 میں کچھ شرطوں کے ساتھ اس یونیورسٹی کی تعمیر کے لئے زمین دی گئی تھی ۔ ان شرطوں پر عمل نہ کرنے کی وجہ سے زمین واپس لینے کی کارروائی شروع کی گئی ۔ اعظم خان نے حکومت کے اس فیصلہ کو عدالت میں چیلنج کیا تھا۔ عدالت نے ان کی عرضی خارج کر دی ہے۔ اعظم خان اس ٹرسٹ کے صدر ہیں ، ان کی اہلیہ ٹرسٹ کی سکریٹری اور بیٹا اس ٹرسٹ کا سرگرم رکن ہے۔
جوہر یونیورسٹی کے خلاف بھی تمام کاروائیاں شروع کی گئی تھیں۔ ان ہی میں زمینداری خاتمہ ایکٹ 1950 کے ماتحت، جس میں کوئی بھی شخص،پریوار یا ادارہ ساڑھے 12 ایکڑ سے زیادہ زمین بغیر ریاستی حکومت کی اجازت کے نہیں رکھ سکتا ہے ۔ اسی قانون کے ماتحت انتظامیہ نے جوہر یونیورسٹی پر اپنی آنکھ ٹیڑھی کرلی اور یہ مانتے ہوئے کہ ساڑھے 12 ایکڑ سے زیادہ زمین رکھنے کے لیے جوہر یونیورسٹی کو دی گئی ہے ۔
گزشتہ دنوں الہ آباد ہائی کورٹ نے اے ڈی ایم انتظامیہ کے فیصلے کو برقرار رکھتے ہوئے ساڑھے 12 ایکڑ سے زیادہ زمین کو سرکار میں درج کئےجانے کےفیصلے کو برقرار رکھا۔ ہائی کورٹ کے اسی فیصلے کے بعد اب رام پور ضلع انتظامیہ بھی حرکت میں آگئی اور تحصیل صدر رام پور کےتحصیل دار نے جوہر یونیورسٹی پہنچ کر یونیورسٹی کے وائس چانسلر سے زمین کا قبضہ سرکارکےہاتھ میں لئےجانے کے لیے نوٹس حاصل کرنے کو کہا۔
تحصیلدار صدر رام پور کے مطابق جوہر یونیورسٹی کے وائس چانسلر نے انکار کر دیا۔ تب قوانین کےماتحت تحصیل دار صدر نے 2 گواہوں کی موجودگی میں جوہر یونیورسٹی کی زمین پر سرکاری قبضہ لئےجانےکی کارروائی پوری کی۔









