گستاخی معاف: قاسم سید
اس وقت یوپی ہندو دھرم میں بالادستی کی لڑائی کا میدان بناہوا ہے متنازع شنکر اچاریہ اومکتیشورانند جن کو ہندوؤں کا ایک طبقہ شنکر اچاریہ نہیں مانتا سرکار کے لیے ‘پریشان کن’ بن گیے ہیں ہوگی ان سے تنہا لڑرہے ہیں پارٹی اور سنگھ نے خاموشی اختیار کر رکھی ہے یہ لڑائی بظاہر مذہبی دکھائی جاتی ہے، مگر حقیقت میں اس کی روح سیاسی ہے ـ مذہب یہاں محض ایک علامت اور ہتھیار کے طور پر استعمال ہو رہا ہے۔
شنکر آچاریہ کوئی عوامی سیاست دان نہیں، مگر وہ ہندوتوا کے اس سرکاری ماڈل کے لیے ایک اخلاقی اور فکری چیلنج ہیں جو ریاستِ اتر پردیش میں یوگی حکومت نے قائم کر رکھا ہے۔ ان کی تنقید نہ بی جے پی کے خلاف انتخابی ہے، نہ کسی سیکولر ایجنڈے کے تحت؛ بلکہ وہ یہ سوال اٹھاتے ہیںکہ
“کیا ریاست کا مذہب پر قبضہ، مذہب کی حفاظت ہے یا اس کی توہین؟”
یہاں اصل تصادم دو تصورات کے درمیان ہے:
ایک طرف ریاستی ہندوتوا ہےجس میں مذہب طاقت، پولیس، بلڈوزر اور انتخابی فائدے کے تابع ہے۔دوسری طرف روایتی برہمنیکل اتھارٹی ہے—جو چاہتی ہے کہ مذہب کا اخلاقی، فکری اور روحانی کنٹرول سیاست دانوں کے ہاتھ میں نہ جائے۔
شنکر آچاریہ کی باتیں اگر غور سے سنیں تو وہ مسلمانوں یا اقلیتوں کے حق میں کم، اور ہندوتوا سیاست کی بدعت کے خلاف زیادہ ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ یوپی سرکار ان کی بات کو “مذہبی اختلاف” کہہ کر ٹالنا چاہتی ہے، جبکہ درحقیقت یہ اقتدار کی اجارہ داری کا مسئلہ ہے۔
یہ بھی یاد رہے کہ آر ایس ایس/بی جے پی کا منصوبہ شروع ہی سے یہی رہا ہے کہمندروں کے مٹھ،سادھو سنت،دھرم آچاریہسب کو ایک ریاستی قوم پرستی کے فریم میں لایا جائے۔ جو اس نظم سے اختلاف کرے، چاہے وہ شنکر آچاریہ ہی کیوں نہ ہو، وہ “مسئلہ” بن جاتا ہے۔یہ لڑائی مذہبی نہیں—کیونکہ دونوں خود کو ہندو دھرم کا محافظ کہتے ہیں ـ ہمیں لگتا ہے کہ یہ لڑائی خالص سیاسی بھی نہیں—کیونکہ اس میں ووٹ سے زیادہ اتھارٹی کا سوال ہےیہ دراصل مذہب پر کنٹرول کی جنگ ہے:کہ کیا مذہب سیاست کو رہنمائی دے گا، یا سیاست مذہب کو ہدایات دے گی؟اور اگر اس تناظر کو وسیع کریں تو یہی ماڈل ہم مسلمانوں کے ساتھ بھی دیکھ چکے ہیں:ریاست کو “مذہب دوست” دکھاؤ، مگر مذہب کو ریاست کے ماتحت رکھو۔یہ لڑائی وقتی نہیں یہ آنے والے وقت میں ہندوتوا کی اندرونی دراڑوں کی علامت ہے۔
اس واقعے میں مسلمانوں اور کمزور طبقات کے لیے ایک سبق ہے ـ جو ہندوتو ان سے اختلاف کرنے والے شنکر اچاریہ کو برداشت نہیں کرسکتا،ان کے بھکتوں کو چوٹیاں پکڑ کر سڑکوں پر گھسیٹے اور تھانے میں ‘سبق سکھانے’پر خاموش رہتا ہو’وہ کسی اور کے مزاحمانہ رویے کو کیسے برداشت کرسکتا ہے ـ











