شاملی : (ایجنسی)
اترپردیش کے شاملی میں ایک نوجوان کا پیٹ پیٹ کر قتل کردیا گیا ہے ۔ بس اسٹینڈ پر کچھ لوگ اس پر ٹوٹ پڑے اور تب تک مارتے رہے ، جب تک اسے مرا ہوا نہیں سمجھ لیا۔ سرعام قتل کی واردات سے اہل خانہ اور علاقے میں کہرام مچاہوا ہے ۔ اب تک پولیس نے اس معاملے میں 8 لوگوں کونامزد کرتےہوئے مقدمہ درج کیا ہے۔
واقعہ شاملی ضلع کے بنات قصبے کا ہے، جہاں بس اسٹینڈ پر نوجوان کا کئی لوگوں نے سڑک پر پیٹ پیٹ کر قتل کردیا۔ قتل کی وجہ رنجش کو بتائی جا رہی ہے ۔ پولیس نے مقتول کے چچا کی تحریر پر 8 لوگوں کے خلاف قتل کا کیس درج کرلیا ہے ۔ ساتھ ہی ملزمین کو گرفتار کرنے کی کوشش شروع ہوچکی ہے ۔
اس واردات کے بارے میں مقتول کے چچا محلہ پریم نگر بنات عادل نے مقدمہ درج کرایا ہے ۔ عادل کےمطابق جمعرات کی شام اس کا بھتیجہ سمیر قصبے کےبس اسٹینڈ پر بس سے نیچے اترا تھا۔ اس دوران بنات قصبے کے ہی آٹھ لوگوں نے پرانی کسی رنجش کو لے کر مارنا پیٹنا شروع کردیا۔ حملہ آوروں کے پاس لاٹھی -ڈنڈے لوہے کی راڈ تھی، جس سے سمیرپر حملہ کیا گیا۔ نوجوان کے چچا کا الزام ہے کہ حملہ آورزخمی کو بار- بار سڑک پر پٹکتے رہے ۔ اس کے بعد ملزم اسے مراہوا سمجھ کر موقع سے فرار ہوگئے۔
مقتول کے چچا عادل نے حملہ آوروں پر رنجش کے سبب واردات کو انجام دینے کا الزام لگایا ہے ۔ کیمرے کےسامنےعادل نے بتایاکہ سمیر ایک ایجنسی پر میکنک کے طور پر کام کرتا تھا ۔ وہ کل شام گھر آنے کے بعد دوا لینے کے لیے قصبے کے بس اسٹینڈ پر گیا تھا۔ وہاں پر اس کی ملزمین سے کہا سنی ہوگئی تھی، جس کے بعد انہوں نے قتل کی واردات کو انجام دیا۔ عادل نے بتایا کہ ملزم نوجوان غنڈہ گردی کرتے ہیں، جن میں سے دو نوجوان حال ہی میں جیل سے بھی باہر نکلے ہیں۔
بتایا جا رہاہے کہ واقعہ کے بعد موقع پر پہنچے اہل خانہ زخمی نوجوان کو سی ایچ سی شاملی لے کر پہنچے ،لیکن وہاں سےاسے سنگین حالت کے سبب مظفر نگر کے لیے ریفر کردیا گیا۔ اس کےبعد مظفر نگر لے جاتے وقت راستے میں ہی زخمی کی موت ہوگئی۔
معاملے میں ایس پی شاملی سکرتی مادھو نے بتایا کہ اہل خانہ کی تحریر کی بنیاد پر 8 لوگوں کے خلاف مقدمہ درج کرلیا گیا ہے۔ ملزمان کی گرفتاری کو یقینی بنانے کے لیے پولیس ٹیمیں تعینات کی گئی ہیں۔









