نئی دہلی:
جموں وکشمیر سے آرٹیکل 370 ہٹانے اور شہریت قانون میںترمیم کرنے کے بعد اب بی جے پی ایک اور بڑا قدم اٹھانے کی تیاری میں ہے۔ بی جے پی کی زیر اقتدار ریاستوں سے اس کے اشارے ملنے شروع ہوگئے ہیں۔ دراصل ان دنوں ریاستوں میں بحث ہے کہ ریاستی سرکار یہاں دو بچوں کی پالیسی لا سکتی ہے۔ اطلاع کے مطابق اسٹیٹ لاء کمیشن نے اترپردیش میں آبادی کنٹرول کے لیے قانون کا مسودہ بنانا شروع کردیا ہے ۔ دوسری جانب آسام کے وزیراعلیٰ ہیمنت بسوا سرما نے بھی ہفتہ کو کہاکہ ریاستی سرکار کچھ خصوصی سرکاری اسکیموں کا فائدہ دینے میں دو بچہ پالیسی لاگو کرے گی ۔ یہ کام ترتیب وار کیاجائے گا۔
آؤٹ لک کی خصوصی رپورٹ کے مطابق نامہ نگاروں سے گفتگو کرتے ہوئے آسام کے وزیراعلیٰ نے کہاکہ مجوزہ آبادی کنٹرول پالیسی کو آسام کی تمام اسکیموں میں فوراً لاگو کیاجائے گا، کیونکہ کئی اسکیمیں مرکز کی مدد سے چلائی جارہی ہیں۔ انہوں نے کہاکہ کچھ اسکیموں میں ہم دو بچہ پالیسی کو لاگو نہیں کرسکتے۔ جیسے اسکولوں اور کالجوں میں مفت اندراج یا پردھان منتری آواس یوجنا کے تحت مکان دینے میں اسے لاگو نہیں کیا جا سکتا، لیکن اگر ریاستی سرکار کی جانب سے کوئی آواس یوجنا لاگو کی جاتی ہے تو اس میں دو بچہ پالیسی کو لاگو کیا جاسکتا ہے۔ آگے چل کر آہستہ آہستہ آبادی کنٹرول پالیسی کو ریاستی سرکار کی ہر اسکیموں میں لاگو کیاجائے گا۔
وہیں اترپردیش اسٹیٹ لاء کمیشن فی الحال راجستھان و مدھیہ پردیش سمیت دیگر ریاستوں میں لاگو قوانین کے ساتھ سماجی صورت حال و دیگر نکات پر مطالعہ کررہاہے ۔ جلد وہ اپنی رپورٹ تیار کرکے ریاست کی یوگی حکومت سونپے گا۔
این بی ٹی کے مطابق لاء کمیشن کے چیئرمین آدتیہ ناتھ متل نے کہا کہ آبادی ایک دھماکہ خیز مرحلے کے قریب ہے۔ بڑھتی آبادی کے سبب دیگر ایشوز بھی پیدا ہورہے ہیں۔ اسپتال، فوڈ ، گھر یا روزگار سے متعلق مسائل کا سامنا یوپی کے لوگوں کو کرنا پڑ رہاہے ۔ آدتیہ ناتھ متل نے کہاکہ ہمارا ماننا ہے کہ آبادی پر کنٹرول ہونا چاہئے۔ انہوں نے کہاکہ یوپی میں یہ پیغام نہیں دینا چاہتے کہ ہم کسی خاص مذہب یا کسی کے انسانی حقوق کے خلاف ہیں۔ ہم بس یہ دیکھنا چاہتے ہیں کہ سرکاری وسائل اور سہولتیں ان لوگوں کو دستیاب ہوں جو آبادی کنٹرول میں تعاون اور مدد کررہے ہیں ۔ لاء کمیشن کے صدر نے کہاکہ آبادی کنٹرول خاندانی منصوبہ سے الگ ہے۔ انہوں نے کہاکہ قانون بنائے جانے کو لے کر کمیشن نے ملک کے دیگر ریاستوں میں لاگو قوانین و دیگر سماجی صورتحال کو لے کر مطالعہ کرنا شروع کردیا ہے ۔
وہیں اب دو سے زیادہ بچے پیدا کرنے والے کو ووٹ دینے کا حق ختم ہونا چاہئے جیسی مانگیں بھی اٹھنے لگی ہیں۔ سادھو سنتوں کی تنظیم اکھل بھارتیہ اکھاڑا پریشد کے صدر مہنت نریندر گری نے یوگی حکومت کے ذریعہ آبادی کنٹرول کے لیے تیار کئے جارہے قانونی مسودے کی بھرپور حمایت کرتے ہوئے کہاکہ دو سے زیادہ بچے پیدا کرنے والے شخص کو ملک میں ووٹ دینے کا حق ختم ہوناچاہئے۔
پیر کے روز پریشد کے صدر مہنت گری نے کہا کہ سادھو سنت پہلے سے ہی یہ مانگ کرتے آئے ہیں کہ ملک میں لگاتاربڑھ رہی آبادی پر قابو پایاجائے۔ آبادی میں اضافے کوقانون لاکر روکا نہیں گیا تو آنے والے دنوں میں بڑی آبادی دھماکہ خیز ہو سکتی ہے ۔ آبادی کنٹرول قانون کے تحت یہ یقینی کیا جانا چاہئے کہ تمام مذاہب کو آبادی کنٹرول پر توجہ دینا چاہئے۔ آبادی کنٹرول سے آنے والے کئے مسائل سے نجات ملے گی۔ مہنت نریندر گری نے کہاکہ دو سے زیادہ بچے پیدا کرنے والے شخص کو بھارت میں ووٹ دینے کا حق ختم کردینا چاہئے اور سرکار سے ملنے والے تمام سہولتوں سے محروم کردیاجانا چاہئے۔ ایسے لوگوں کا ووٹر کارڈ اور آدھار کارڈ بھی نہیں بننا چاہئے۔ اس کے ساتھ ہی ایسے لوگوں کو سرکار سے ملنے والے تمام سہولتوں سے بھی محروم کیا جانا چاہئے۔










