نئی دہلی :
انڈیا ٹوڈے کے حالیہ سروے ملک کا موڈ ( موڈ آف دی نیشن ) جاری کیا گیا ہے ۔ سروے میں کئی سوالات کے جواب ملک کےباشندوں نے دیئے ہیں۔ اس سروے میں مودی کی مقبولیت ،این ڈی اے کے نتائج،گاندھی پریوار کے بغیر کانگریس، ملک کے سب سے مقبول وزیر اعلیٰ سمیت کئی سوال پوچھے گئے تھے ، جن کے جواب آچکے ہیں۔ آئیے جانتے ہیں کیا کہتا ہے سروے ۔
ملک کے اگلے وزیر اعظم کے طور پر پی ایم مودی کی مقبولیت میں گراوٹ دیکھنے کو ملی ہے ۔ گزشتہ سال 2020 میں 66 فیصد لوگ نریندر مودی کو ملک کے اگلے پی ایم کے طور پر دیکھ رہے تھے، لیکن اس بار 24 فیصد لوگوں نے ہی مودی کے نام پر مہر لگائی ہے۔ وہیں یوگی آدتیہ ناتھ گزشتہ سال 3 فیصد سے اس بار 11 فیصدی پر آگئے ۔ انہیں عوام پی ایم کے دوسرے متبادل کے طور پر دیکھتے ہیں،جبکہ راہل گاندھی 10 فیصد لوگ کی پسند کے ساتھ تیسرے مقام پر ہیں۔ گزشتہ سال راہل کو 8 فیصد لوگوں نے پی ایم کے طور پر پسند کیا تھا۔ اس لسٹ میں اروند کیجریوال ،ممتا بنرجی ، امت شاہ ، سونیا گاندھی اور پرینکا گاندھی کا نام بھی ہے ۔
این ڈی اے حکومت کی بڑی ناکامیوں پر 29 فیصد لوگوں نےقیمت میں اضافہ اور مہنگائی پر مہر لگائی۔ بے روزگاری کو دوسری بڑی ناکامی بتائی گئی۔ 11 فیصد نے کووڈ مینجمنٹ کو ناکامی قرار دیا۔ 8 فیصد نے کسانوں کے احتجاج اور کسانوں کے مسائل کی طرف دھیان دلایا، جبکہ7 فیصد نے نوٹ بندی کو این ڈی اے کی سب سے بڑی ناکامی بتایا ۔
اگر آج کے دور میں بڑے مسائل کے بارے میں بات کریں تو سروے میں 23 فیصد نے کووڈ بحران کو سب سے بڑے مسائل بتایا۔ 19 فیصدی نے مہنگائی ، 17 فیصد نے بے روزگاری ، 9 فیصد نے پٹرولیم کی بڑھتی قیمتوں اور 6 فیصد نے معاشی سستی کو سب سے بڑے مسائل بتایا۔
یہ سروے 19 ریاستوں کے 115 پارلیمانی حلقوں اور 230 اسمبلی حلقوں میں کیا گیا۔ 14 ہزار 559 افراد نے حصہ لیا۔










