نئی دہلی: (ایجنسی)
نیشنل انویسٹی گیشن ایجنسی نے یلغار پریشد معاملے میں گرفتار 15 افراد کے خلاف ملک کے خلاف جنگ چھیڑنے کا الزام لگانے کا فیصلہ کیا ہے ۔اس معاملے میں زیادہ سے زیادہ سزا ئے موت ہے ۔ انگریزی اخبار انڈین ایکسپریس میں شائع رپورٹ کے مطابق این آئی اے نے اس مہینے کی شروعات میں خصوصی عدالت کے سامنے الزامات کا مسودہ پیش کیا ہے۔
اس میں بتایا گیا ہے کہ ملزم نے ’عوامی عہدے پر فائز شخص کا قتل اور اس کے حالات پیدا کرنے ‘ کے لیے جدید ترین اسلحہ جمع کرنے کی سازش رچی ۔
ابتدائی جانچ کرنے والی پونے پولیس نے اپنے مجوزہ چارج شیٹ میں بتایا تھا کہ ہتھیار ’ وزیر اعظم نریندر مودی کے قتل ‘ کرنے کی سازش سے جڑے تھے ،لیکن این آئی اے نے اپنے مسودے میں وزیر اعظم نریندر مودی کا نام نہیں لیا ہے۔
این آئی اے کے ایک افسر نے کہا ہے کہ اس مسودے میں قطعی الزامات نہیں لگائے گئے ہیں اور اس معاملے میں جمع کئے گئے ثبوت سماعت کا حصہ رہیں گے ۔ پونے پولیس نے ایک لیٹر کی بات بھی کہی تھی ۔
اس معاملے میں ملزمہ رونا ولسن نے بمبئی ہائی کورٹ سے رجوع کیا تھا جہاں انہوں نے اس رپورٹ کا ذکر کیا جس میں یہ سامنے آیا کہ ان کی ڈیوائس سے ملا جرم ثابت کرنے والا ثبوت ایک میلوئیر کےتوسط سے دو سال پہلے 2018 میں ان کی ڈیوائس میں ڈالا گیا تھا ۔
این آئی اے نے الزام لگایا ہے کہ یہ 15 ملزمین کالعدم تنظیم کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا ( ماؤسٹ) کے رکن ہیں ۔
این آئی اے نے کہا ہے کہ 31 دسمبر 2017 کو انعقاد کیا گیا پروگرام یلغار پریشد کا مقصد دلتوں اور دیگر ذاتوں کے فرقہ وارانہ جذبات کو بھڑکا کر مہاراشٹر ، بھیما کورے گاؤں اور پونے ضلع میں ذات کے نام پر تشدد ، عدم استحکام اور انتشار پیدا کرنا تھا۔
اس کے ساتھ ہی کہا گیا ہے کہ ملزمین نے ’ ایم 4-( جدید ترین ہتھیار) کی سالانہ فراہمی کے لیے 8 کروڑ روپے جمع کرنے کی سازش رچی۔ اس کے ساتھ ہی ملک کے تمام یونیورسٹی سے ’ دہشت گردانہ سرگرمیوں کو انجام دینے کے لیے ‘ طلبہ کو اپنے ساتھ جوڑا گیا ۔
ان تمام ملزمان کے خلاف 16 دفعات کے تحت مقدمہ درج ہے، لیکن اس کے ساتھ ہی الگ -الگ ملزم کے خلاف خاص دفعات کے تحت بھی معاملے درج کئے گئے ہیں۔ مثال کے طور پر اکیڈمک آنند تیلتونبڈ پرثبوت مٹانے کا معاملہ لگایا گیاہے ۔
اس معاملے میں سدھیر دھاولے ، رونا ولسن ، سریندر گاڈلنگ ، شوما سین ، مہیش راوت، پی ورورا راؤ ، ورون گونجا لوئس ، ارون فریریہ ، سدھا بھاردواج ، گوتم نولکھا ، ہینی بابو ، رمیش گائچور ، جیوتی جگتاپ اور ساگر گورکھا شامل ہیں۔
اس ڈرافٹ میں اسٹین سوامی کا بھی ذکر ہے جن کا گزشتہ سال حراست میں ہی انتقال ہوگیا تھا، حالانکہ ان کے خلاف معاملے کو دبادیا گیا ہے ۔ اس کے ساتھ ہی چھ دیگر لوگوں کے خلاف معاملہ درج کیا گیا ہے ، جو کہ فرار چل رہے ہیں۔
ملک کے خلاف جنگ چھیڑنے کے ساتھ ہی ان لوگوں کے خلاف لگے الزامات میں ملک سے بغاوت ، سماج میں نفرت پھیلانا، مجرمانہ سازش رچنے سمیت یو اے پی اے کے تحت آنے والی دفعات کے ساتھ الزام لگانے کی سفارش کی گئی ہے ۔ اس چارج شیٹ کی بنیاد پر خصوصی عدالت فیصلہ کرے گی کہ ملزم کے خلاف کون سے الزامات عائد کیے جا سکتے ہیں۔








