اجین :(ایجنسی)
مدھیہ پردیش کے اجین شہر کی گیتا کالونی میں تین دن پہلے محرم کے موقع پر مبینہ طور پر پاکستان کےحق میں نعرے لگانے کے لیے گرفتار کیے گئے 10 لوگوں میں سے چار کے خلاف اتوار کونیشنل سکیورٹی ایکٹ (این ایس اے)کے تحت کارروائی کی گئی ہے۔ کچھ رائٹ ونگ تنظیموں اور بھگوادھاری دھرم گروؤں کی جانب سےمحرم کے موقع پر پاکستان کے حق میں نعرے لگانے کے ملزمین کے خلاف سخت کارروائی کرنے کی مانگ کرنے کے ایک دن بعد پولیس نے ان چار لوگوں پر این ایس اے لگایا ہے۔
دی وائر کی رپورٹ کے مطابق اجین کےایس پی ستیندر شکلا نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ جنہوں نے مبینہ طور پر پاکستان کے حق میں نعرے لگائے، ان میں سے چار کے خلاف این ایس اےکے تحت کارروائی کی گئی ہے، حالانکہ انہوں نے ان چار ملزمین کے نام بتانے سے انکار کر دیا۔ پولیس ذرائع نے کہا کہ اجین کے ضلع مجسٹریٹ نے پولیس کی سفارش پر چارملزمین پر این ایس اے لگایا۔
شکلا نے بتایا کہ محرم پر پاکستان کے حق میں نعرےبازی کرنے کے الزام میں 10 لوگوں کو گرفتار کیا گیا ہے۔گزشتہ 20 اگست کو اس معاملے پر ردعمل دیتے ہوئے مدھیہ پردیش کے وزیر اعلیٰ شیوراج سنگھ چوہان نے کہا تھا، ’طالبانی ذہنیت کسی بھی قیمت پر برداشت نہیں کی جائےگی اور جو ضروری قدم ہیں، وہ سب اٹھائے جائیں گے۔جو طالبانی ذہنیت کی حمایت کرےگا یا ملک مخالف سرگرمی کرنے کی کوشش کرےگا، اس کو کچل دیا جائےگا۔‘
معلوم ہو کہ 19 اگست کی رات کو اجین کی گیتا کالونی میں محرم کے موقع پر ایک پروگرام کے دوران کچھ لوگوں نے مبینہ طور پر پاکستان کےحق میں نعرے لگائے۔ اس معاملے میں شہر کے جیواجی گنج تھانے میں 10ملزمین کے خلاف آئی پی سی کی دفعہ 124 (اے) (سیڈیشن)اور153(فسادکے لیے اکسانا)کے تحت معاملہ درج کیا گیا تھا۔ شکلا نے کہا، ’ہم نے نعرے لگانے والے 16 لوگوں کی شناخت کی ہے اور دیگر لوگوں کی شناخت کرنے کی کوشش جاری ہیں۔‘
نیوانڈین ایکسپریس کے مطابق،پاکستان کے حق میں نعرےبازی کےملزمین اظہر عرف اجو (21 سال)، شاداب عرف بچہ (40 سال)اورمحمد سمیر عرف بالدی(28 سال)اور ساحل لالہ عرف سویم (20 سال)پراین ایس اے لگایا گیا ہے۔ ساحل کو ان کے انسٹاگرام پوسٹ میں ہندوستان کے بارے میں توہین آمیز تبصرہ کرنے کے لیے ایک الگ معاملے میں گرفتار کیا گیا ہے۔ساحل جو اجین میں ایک فرنیچر کی دکان پر کام کرتا ہے، پر آئی پی سی کی دفعہ188(سرکاری ملازم کےحکم نامے کی نافرمانی)، 505 (2) اور 153 بی (قومی اتحادپر الزام تراشی ) کے تحت معاملہ درج کیا گیا ہے۔
دو الگ الگ معاملوں میں چار لوگوں کے خلاف این ایس اے لگانے کی تصدیق کرتے ہوئے ایس ایس پی(اجین) امریندر سنگھ نے دی نیو انڈین ایکسپریس کو بتایا کہ ضلع کے ایس پی ستیندر کی سفارش کے بعد اجین ضلع انتظامیہ کے ذریعہ چار لوگوں کے خلاف این ایس اے لگایا گیا ہے۔انہوں نے بتایا کہ 20 سے زیادہ لوگوں کی پہچان 19 اگست کی رات محرم سے متعلق اجلاس کے ویڈیو سے ہوئی ہے، جو مبینہ طور پرپاکستان کے حق میں نعرےبازی میں شامل تھے۔ ان میں سے اب تک 10 لوگوں کو جیواجی گنج پولیس نے گرفتار کیا ہے۔
دوسری جانب اس سلسلے میں مدھیہ پردیش کے سابق وزیر اعلیٰ اور کانگریس کے راجیہ سبھا ممبر دگ وجے سنگھ نے اتوار شام کو ٹویٹ کرکے کہا کئی لوگوں کے خلاف فرضی خبروں کی بنیاد پر معاملہ درج کیا گیا ہے۔








