بریلی : (ایجنسی)
اترپردیش کے بریلی ضلع میں بھیڑ نے ایک بار پھر سے قانون اپنے ہاتھ میں لے لیا۔ بھیڑ نے ایک نوجوان کو بے رحمی سے پیٹا بعد میں اسے پولیس کے حوالہ کردیا۔ دراصل پرانے روڈ ویز بس اڈے پر چوروں نے شاہجہانپورکے دیویندر کمار اور آتیشے کے موبائل- پرس چوری کرلئے۔ لوگوں کو شک ہوا تو ایک نوجوان کو پکڑ لیا۔ پیر باندھ کر اسے حیوانیت کی ساری حدیں پار کرکے پیٹا گیا۔ الزام ہے کہ اس کا دوسرا ساتھی پرس اور موبائل لے کر بھاگ نکلا۔ پکڑے گئے چوروں کو پولیس کے حوالہ کردیا گیا ہے ۔ بھیڑ نے جس طرح قانون کو ہاتھ میں لیا اور بے رحمی سے نوجوان کو پیٹا، اسے کسی بھی طور پر صحیح نہیں ٹھہرایا جاسکتا ہے۔ جرم طے کرنا اور اس کے لیے سزا دینا عدالت کا کام ہے ۔ ویسے بھی صرف شک کی بنیاد پر بھیڑ نے نوجوان کو پکڑا تھا۔ سوال یہ اٹھتا ہے کہ اگر اس نوجوان کی بھیڑ کی پٹائی سے موت ہو جاتی تو کون ذمہ دار ہوتا ۔ یہ سب ایسی جگہ ہوا، جہاں ہر وقت پولیس پیکٹ تعینات رہتی ہے ۔

شاہجہانپور میں رہنے والے دیویندر کمار پیر دوپہر رودر پور جارہے تھے۔ اسی دوران کسی نے ان کا موبائل چوری کرلیا۔ اس کے کچھ دیر بعد ہی آتیشے نام کے نوجوان کا پرس چوری ہو گیا۔

اس میں سات ہزار روپے تھے۔ اس پر دونوں چوروںکی تلاش کرنے لگے۔ شک ہونے پر انہوں نے ایک نوجوان کو پکڑ لیا۔ اس نے بتایا کہ وہ دہلی جا رہاہے ، لیکن کسی نے اس کی ایک نہ سنی۔ پرس میں کوئی سامان نہ ہونے سےاسے چور ٹھہرادیا۔
اس دوران اورلوگ بھی آگئے۔ ہجوم نے نوجوان کی دونوں پیر باندھ دئے۔ اس کی بے رحمی سے پٹائی شروع کر دی۔ بری طرح پیٹنےکے بعد ، نوجوان نے دیویندر اور آتیشے کا موبائل پرس چوری کرنا قبول کر لیا۔ بتایا کہ سامان چوری کرکے اس نے اسے اپنے دوست نکٹیا کو دے دیا ہے۔

لوگوں نے اس کے ساتھی کو بھی تلاش کیا، لیکن وہ نہیں ملا۔ اطلاع ملنے پر کوتوالی پولیس موقع پر پہنچ گئی اور چوروں کو پکڑ کر کوتوالی لے گئی۔

انسپکٹر پنکج پنت نے بتایا کہ ملزم نے اپنا نام ارباز بتایا ہے جو کہ ناریاوال کا رہائشی ہے۔ رپورٹ درج کرنے کے بعد سامان برآمد کرنے کی کوششیں جاری ہیں۔








