گوہاٹی: (میتھلی ہزاریکا)
سوشل میڈیا پر افغانستان پر طالبان کے قبضے کا مبینہ طور سے حمایت کرنے کے لیے آسام پولیس نے جمعہ کے بعد سے 16 مسلمانوں کے خلاف معاملہ درج کیا ہے اور اس کی وجہ سے آسام میں اقلیتی برادری کے درمیان فرقہ وارنہ رد عمل کاخدشہ پیدا ہو گیاہے ۔ ریاست کے مسلم باشندوں کے مطابق طالبان حمایت ان جذبات کے لیے اب پوری برادری کو ’ قصور وار ‘ ٹھہرایا جا سکتا ہے ۔
گوہاٹی ہائی کورٹ کے ایک وکیل اور ریاست کے مسلمانوں کے ایک اہم غیر سیاسی تنظیم آسام سول سوسائٹی کےسکریٹری عبدسباس تپدر نے کہاکہ ’ ہم ان سوشل میڈیا پوسٹ کی شدید تنقید کرتے ہیں ، چند بے باک لوگوں کی وجہ سے پوری برادری کو قصور وار ٹھہرایا جاسکتا ہے ۔ ہم کسی بھی قیمت پر انتہا پسند ی کی حمایت نہیں کرتے۔ ایسے لوگ بھی موجود ہیں جو اس صورت حال پر سیاست کرنے کی کوشش کررہے ہیں، لیکن ہماری پوزیشن بہت واضح ہے ،ہم ایسے کسی جال میں نہیں پھنسیں گے ۔”’
تنظیم نے ایک ایڈوائزری بھی جاری کی ہے جس کی ایک کاپی دی پرنٹ کو بھی ملی ہے۔ جس میں تمام مسلمانوں کو اس طرح کی سوشل میڈیا سرگرمیوں کے تئیں بیداررہنے کو کہا گیا ہے ۔
جمعہ سے پیر کے درمیان گرفتار کے گئے 16 ملزمین میں ایک 23 سالہ ایم بی بی ایس کا طالب علم ، آسام پولیس کاایک کانسٹبل ،ایک ٹیچر اور ایک صحافی بھی شامل ہیں۔
ان میں سے تقریباً تمام کے خلاف انسداد دہشت گردی ایکٹ ،غیرقانونی سرمیاں (روک تھام) ایکٹ ( یو اے پی اے ) کے تحت معاملہ درج کیا گیا ہے اور انہیں آسام کے 12 الگ الگ اضلاع – درارنگ ، کامروپ (دیہی) ، کچھار ، بارپیٹا ، بکسا، دھوبری ، ہیلاکنڈی، جنوبی سلمارا ، گولپارہ ، ہوجئی ، کریم گنج اور کامروپ (میٹرو) سے گرفتار کیا گیا ہے۔
آسام کے خصوصی ڈی جے پی ( لاء اینڈ آرڈر ) جی پی سنگھ نے پہلے ہی دی انڈین ایکسپریس کے ساتھ بات چیت میں اس بات کیا تصدیق کی تھی کہ ’ زیادہ تر گرفتاریاں ‘ تعزیرات ہند کی دفعات 120-B,153-A,505-1Cاور 502-2( سازش ،ہتک آمیز مواد کو پوسٹ کرنا ، مذہبی جرائم ) اور یو اے پی اے کی دفعہ 39 (کسی دہشت گرد تنظیم کو حمایت) کے تحت کی گئی ہیں۔
گرفتار لوگوں میں تین مولانا بھی شامل ہیں اور ان میں سے ایک 49 سالہ مولانا فضل کریم ، ریاست کی مرکزی اپوزیشن آل انڈیا یونائٹیڈ ڈیموکریٹک فرنٹ ( اے آئی یو ڈی ایف) کے جنرل سکریٹری اوراسلامی تنظیم جمعیۃ علماء کی ریاستی یونٹ کے سکریٹری بھی شامل ہیں۔ حالانکہ اےآئی یو ڈی ایف کے ترجمان نے نیوز ایجنسی پی ٹی آئی کو بتایا کہ کریم کو پارٹی سے معطل کردیا گیاہے ۔
اس درمیان کامروپ(دیہی) جہاں دو دیگر ملزمین ابو بکر صدیقی عرف افگاں خاں اولیخ (55) اور سید الحق (29) کو گرفتار کیا گیا ہے ، کے پولیس سپرنٹنڈنٹ ( ایس پی ) ہتیش چندر رائے نے کہاکہ ان ملزمین کے خلاف جانچ ابھی جاری ہے ۔ انہوں نے دی پرنٹ کو یہ بھی بتایا کہ 21 ویں آسام پولیس انڈیا ریزرو بٹالین کے کانسٹبل حق کو دو دن کے لیے عدالتی تحویل میں بھیج دیا گیا ہے۔
مسلم کمیونٹی میں خوف و ہراس
ان گرفتاریوں کی وجہ سے اب پوری ریاست کی مسلم آبادی کو ڈر ہے کہ صورتحال فرقہ وارانہ ہو سکتی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ انتہائی بدقسمتی کی بات ہے کہ مٹھی بھر شرپسندوں کی گرفتاریوں سے پوری کمیونٹی کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔
آسام کی ایک ادبی تنظیم ، چار چپوری ساہتیہ سبھا کے صدر حافظ احمد نے کہا ، ’ڈر اس بات کا ہے کہ اس طرح کی پوسٹ سےصورت حال فرقہ وارانہ بن سکتی ہے ۔ لیکن یہاں یہ یاد رکھنا اہم ہے کہ گرفتار کئے گئے لوگ آسام کے عام مسلمانوں کی رہنمائی نہیں کرتےہیں۔ ہم کسی بھی انتہا پسند سوچ کی حمایت نہیں کرتے ہیں اور آسام کے مسلمانوں کو طالبان کی کسی طرح کی کوئی فکر نہیں ہے ۔‘ مقامی مسلمانوں کے لیے بنائی گئی ایک وکاس پریشد گوریا وکاس پریشد کے صدر حفیظ الاحمد کے مطابق گرفتار کئے گئے لوگوںکے خلاف سخت سے سخت کارروائی کی جانی چاہئے۔
(بشکریہ دی پرنٹ)








