اردو
हिन्दी
جون 10, 2026
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں

کیا افغانستان میں بھارت کی چال الٹی پڑگئی؟

5 سال پہلے
‏‏‎ ‎‏‏‎ ‎|‏‏‎ ‎‏‏‎ ‎ فکر ونظر
A A
0
کیا افغانستان میں بھارت کی چال الٹی پڑگئی؟
43
مشاہدات
Share on FacebookShare on TwitterShare on Whatsapp

تحریر:جاوید اختر

انڈین آرمی میں 40 برس تک فوجی خدمات انجام دینے والے اور پرم ویر سیوا میڈل اور اتی وششٹ سیوا میڈل جیسے اعلٰی ترین اعزاز یافتہ ریٹائرڈ لفٹننٹ جنرل ایچ ایس پناگ کا کہنا ہے کہ افغانستان پر طالبان کے قبضے کے بعد بھارت جس الجھن اور پریشانی کا شکار ہوگیا ہے اس کی اہم وجہ اسٹریٹیجک متبادل کا فقدان نہیں بلکہ اس کی خوش فہمی اور بروقت صحیح فیصلہ نہ لینا ہے۔

شمالی کمان اور وسطی کمان کے جنرل آفیسر کمانڈنگ جیسے اہم عہدوں پر فائز رہ چکے جنرل پناگ نے اپنے ایک مضمون میں لکھا ہے افغانستان کی موجودہ صورت حال کے حوالے سے یہ ”بھارت کی تاریخی انٹیلیجنس ناکامی ہے۔ بھارت امریکا کے حقیقی ارادوں، طالبان کی قوت اور ایک بدعنوان منتخب حکومت کی کمزوریوں کاصحیح اندازہ لگانے میں ناکام رہا۔ وہ ایک ایسی حکومت کی حمایت کرتا رہا جو طالبان کے ساتھ معاہدے کرنے اور خود اپنی فوج کی شکست کا منصوبہ تیار کرنے میں مصروف تھی۔ حتٰی کہ طالبان کے خلاف کھڑے ہونے کے لیے ہم شمالی اتحاد کے جن رہنماؤں پر بھروسہ کررہے تھے وہ بھی پاکستان چلے گئے اور جب طالبان کی پیش قدمی شروع ہوئی تو وہ ہمارے مفادات کو بچانے کے لیے سامنے نہیں آئے۔

جنرل پناگ کے مطابق اس ناکامی کی ایک وجہ یہ بھی تھی کہ بھارت نے اپنی پوری اسٹریٹیجی افغانستان میں امریکا کی مسلسل موجودگی اور افغان حکومت کے استحکام کی بنیاد پر تیار کی تھی اور یہ انٹلیجنس کی ایک تاریخی ناکامی ہے۔

پاکستان اور چین کی سرحدوں پر نگاہ رکھنے والے شمالی کمان کے سابق اعلیٰ فوجی افسر جنرل پناگ افغانستان میں پیدا صورت حال کے حوالے سے بھارتی رویے کو افسوس ناک قرار دیتے ہوئے کہتے ہیں ” کیا اتنا ہی کافی نہیں تھا۔ لیکن ہم نے جلد بازی کرتے ہوئے 17اگست کو کابل میں اپنا سفارت خانہ بھی بند کردیا اور ہزاروں شہریوں کو افغانستان میں یونہی چھوڑ دیا۔ جبکہ طالبان نے بھارتی سفارت کاروں کو حفاظت کی یقین دہانی کراتے ہوئے بھارت سے درخواست کی تھی کہ وہ اپنا سفارت خانہ نہ چھوڑیں۔‘‘

جنرل پناگ کہتے ہیں کہ سفارت خانہ خالی کرنے کی بنیادی وجہ یہ بتائی گئی کہ لشکر طیبہ، جیش محمد اور حقانی نیٹ ورک کے دہشت گردانہ حملے ہوسکتے ہیں۔ جبکہ بھارت کو سمجھنا چاہیے تھا کہ اگر کسی سفارت خانے پر حملہ ہوتا ہے تو اس سے طالبان کا اقتدار کوئی صورت اختیار کرنے سے پہلے ہی اپنا جواز کھودے گا۔

افغان دوستوں کا اعتماد بھی کھودیا

لیفٹیننٹ جنرل پناگ کا خیال ہے کہ بھارت چاہتا تو طالبان کے ساتھ زیادہ بہتر سکیورٹی کے حوالے سے با ت چیت کرسکتا تھا۔ ” اگر ہمارا سفارت خانہ وہاں موجود رہتا تو اس سے نہ صرف طالبان کے ساتھ دوریاں ختم کرنے میں مدد ملتی بلکہ ہم اپنے شہریوں، ہندو اور سکھوں اور پناہ حاصل کرنے کے خواہش مند افغان دوستوں کے مفادات کی حفاظت بھی کرسکتے تھے۔‘‘

جنرل پناگ کے مطابق بھارت نے کابل ہوائی اڈے پر صرف ایک سفارتی ٹیم رکھ چھوڑی ہے جو وہاں سے لوگوں کے انخلا کے سلسلے میں امریکی فورسز کی ماتحتی میں کام کررہی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ بھارتی وزیر خارجہ ایس جے شنکر نے عوامی طورپر یہ اعلان کرکے صورت حال مزید خراب کردی کہ بھارت ہندو اور سکھ افغان شہریوں کے انخلا کو ترجیح دے گا۔ ان کے بقول،” اس کی وجہ سے ہم نے اپنے افغان دوستوں کا اعتماد کھودیا۔‘‘

دور اندیشی اور تدبر کی کمی

جنرل پناگ کہتے ہیں کہ گو کہ بھارت کے پاس انتہائی تجربہ کار سفارت کاروں کی کمی نہیں ہے لیکن وہ دور اندیشی اور تدبر کا مظاہرہ کرنے میں ناکام رہے۔ وہ کہتے ہیں،

‘‘ہمارے سفارت کار یہ سمجھ نہیں پائے کہ بھارت کو طالبان سے معاملہ کرنے میں قومی مفاد مدنظر رکھنا چاہیے تھا نہ کہ ان کے نظریات۔ جب ہمیں بہت سے اسلامی عرب ممالک، پاکستان اورایران جیسے ملکوں، جوشرعی قوانین کی اپنی تشریحات پر عمل کرتے ہیں، سے تعلق رکھنے میں کوئی قباحت نہیں ہے۔ جب ہم آمراور کمیونسٹ حکومتوں کے ساتھ معاملات طے کرسکتے ہیں، جن کے انسانی حقوق کے ریکارڈ انتہائی خراب ہیں، حتٰی کہ خود اپنے اقلیتوں کے ساتھ ہمارا جو سلوک ہے اور انسانی حقوق کی صورت حال پر بین الاقوامی برادری کے جو اعتراضات ہیں، تو ہم طالبان کے ساتھ بات چیت کیوں نہیں کرسکتے۔‘‘

جنرل پناگ کا کہنا ہے کہ افغانستان اور طالبان کے حوالے سے بھارت کی موجودہ پریشانی کا ایک اور سبب ہندوقوم پرست حکمراں جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی کی آئیڈیالوجی یا نظریات ہیں۔ انہوں نے کہا ” یہ افسوس کی بات ہے کہ بی جے پی افغانستان کی صورت حال کا اپنی گھریلو سیاسی فائدے کے لیے استحصال کرنے سے بھی باز نہیں آئی۔ وزیر اعظم نریندر مودی کا سوم ناتھ مندر کی تقریب میں تقریر کرنا اتفاق ہوسکتا ہے لیکن انہوں نے اس موقع پر محمود غزنوی پر جس طرح بالواسطہ حملہ کیا وہ کہیں سے مناسب نہیں تھا۔‘‘

(بشکریہ : ڈی ڈبلیو)

قارئین سے ایک گزارش

سچ کے ساتھ آزاد میڈیا وقت کی اہم ضرورت ہےـ روزنامہ خبریں سخت ترین چیلنجوں کے سایے میں گزشتہ دس سال سے یہ خدمت انجام دے رہا ہے۔ اردو، ہندی ویب سائٹ کے ساتھ یو ٹیوب چینل بھی۔ جلد انگریزی پورٹل شروع کرنے کا منصوبہ ہے۔ یہ کاز عوامی تعاون کے بغیر نہیں ہوسکتا۔ اسے جاری رکھنے کے لیے ہمیں آپ کے تعاون کی ضرورت ہے۔

سپورٹ کریں سبسکرائب کریں

مزید خبریں

US Iran War Strategic Defeat News
مضامین

امریکہ – اسرائیل – ایران جنگ میں امریکہ کی اسٹریٹجک ہار پہلے سے طے

23 مارچ
Hormuz Strait Iran Speech
مضامین

ایران میں قیادت کی تبدیلی اور مجتبیٰ خامنہ ای: ایک تجزیاتی مطالعہ

12 مارچ
Modi Israel Gaza Questions Debate
مضامین

پی ایم مودی کے دورہ اسرائیل میں غزہ کے مصائب کا ذکر تک نہ ہونے پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔ کیا چاہتا ہے بھارت ؟

28 فروری
  • ٹرینڈنگ
  • تبصرے
  • تازہ ترین
اعصابی کمزوری کی علامات، اسباب اور علاج

اعصابی کمزوری کی علامات، اسباب اور علاج

مارچ 23, 2021
طالبان ميں پھوٹ کی خبريں، حقيقت يا پروپيگنڈہ؟

طالبان ميں پھوٹ کی خبريں، حقيقت يا پروپيگنڈہ؟

ستمبر 19, 2021

موجودہ دور میں مسلمان دل ودماغ جیتنے کی مہم چھیڑیں:امیر جماعت

فروری 28, 2023
حافظ قرآن کی عظمت اور ان کا مقام و مرتبہ

حافظ قرآن کی عظمت اور ان کا مقام و مرتبہ

مارچ 31, 2022
امریکہ ایران کشیدگی خبر

امریکہ–ایران کشیدگی ایک بار پھر سرخیوں میں، جنگ بندی میں توسیع کے باوجود بڑے معاہدے کا مستقبل خطرے میں

الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

دہلی میں بڑھتے جرائم پولیس الرٹ

دہلی-NCR میں جرائم کے واقعات میں اضافہ، پولیس الرٹ

امریکہ ایران کشیدگی خبر

ایران–امریکہ مذاکرات میں محدود پیش رفت، اختلافات بدستور برقرار: قالیباف

امریکہ ایران کشیدگی خبر

امریکہ–ایران کشیدگی ایک بار پھر سرخیوں میں، جنگ بندی میں توسیع کے باوجود بڑے معاہدے کا مستقبل خطرے میں

اپریل 22, 2026
الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

اپریل 21, 2026
دہلی میں بڑھتے جرائم پولیس الرٹ

دہلی-NCR میں جرائم کے واقعات میں اضافہ، پولیس الرٹ

اپریل 21, 2026
امریکہ ایران کشیدگی خبر

ایران–امریکہ مذاکرات میں محدود پیش رفت، اختلافات بدستور برقرار: قالیباف

اپریل 19, 2026

حالیہ خبریں

امریکہ ایران کشیدگی خبر

امریکہ–ایران کشیدگی ایک بار پھر سرخیوں میں، جنگ بندی میں توسیع کے باوجود بڑے معاہدے کا مستقبل خطرے میں

اپریل 22, 2026
الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

اپریل 21, 2026
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein

روزنامہ خبریں مفاد عامہ ‘ جمہوری اقدار وآئین کی پاسداری کا پابند ہے۔ اس نے مختصر مدت میں ہی سنجیدہ رویے‘غیر جانبدارانہ پالیسی ‘ملک و ملت کے مسائل معروضی انداز میں ابھارنے اور خبروں و تجزیوں کے اعلی معیار کی بدولت سماج کے ہر طبقہ میں اپنی جگہ بنالی۔ اب روزنامہ خبریں نے حالات کے تقاضوں کے تحت اردو کے ساتھ ہندی میں24x7کے ڈائمنگ ویب سائٹ شروع کی ہے۔ ہمیں یقین ہے کہ یہ آپ کی توقعات پر پوری اترے گی۔

اہم لنک

  • ABOUT US
  • SUPPORT US
  • TERMS AND CONDITIONS
  • PRIVACY POLICY
  • GRIEVANCE
  • CONTACT US
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے

.ALL RIGHTS RESERVED © COPYRIGHT ROZNAMA KHABREIN

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password?

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In

Add New Playlist

کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے

.ALL RIGHTS RESERVED © COPYRIGHT ROZNAMA KHABREIN