لکھنؤ : (ایجنسی)
اترپردیش اسمبلی انتخابات 2022 سے پہلے سیاسی پارٹی کے تئیں عقیدت کے ساتھ لیڈروں کا رنگ بھی بدل رہاہے ۔ لکھنؤ میں ہفتہ کو سماج وادی پارٹی کے ریاستی دفتر میں دبنگ لیڈر اور بہوجن سماج پارٹی کے ایم ایل اے مختار انصاری کے بڑے بھائی اپنے بیٹے کے ساتھ سماجوادی پارٹی میں شمولیت اختیار کر لی۔ غازی پور سے دو مرتبہ رکن اسمبلی رہ چکے صبغت اللہ اپنے حامیوں کے ساتھ غازی پور سے لکھنؤ پہنچے تھے۔اس کے ساتھ ہی امبیکا چودھری نے بھی بیٹے بلیا کے ضلع پنچایت صدر آنند چودھری کے ساتھ گھر واپسی کی۔ ملائم سنگھ یادو اور اکھلیش یادو سرکار میں کابینہ وزیر رہے امبیکا چودھری لوک سبھا الیکشن کے دوران بہوجن سماج پارٹی میں شامل ہوگئے تھے ۔ اب وہ پھر سماج وادی پارٹی میں شامل ہوگئے ہیں۔
امبیکا چودھری 1993 سے لگاتار رکن اسمبلی منتخب ہوئے تھے۔ 2017 میں انہوں نے بی ایس پی کے ٹکٹ پر انتخاب لڑا تھا، لیکن ہار گئے تھے۔ پنچایت انتخاب میں ان کے بیٹے نے سماجوادی پارٹی میں شمولیت اختیار کر لی تھی اور سماجوادی کے ٹکٹ پر ضلع پنچایت صدر چیئرمین ہوئے تھے۔
پوروانچل کی سیاست میں خاصاً دخل رکھنے والے بی ایس پی کے زورآور رکن اسمبلی مختار انصاری کے بڑے بھائی صبغت اللہ انصاری اپنے حامیوں کے ساتھ سماجوادی پارٹی میں شامل ہوگئے ہیں۔ صبغت اللہ انصاری کے ساتھ ان کے بیٹے منو انصاری بھی سماجوادی پارٹی میں شامل ہو گئے۔
خیال رہے کہ صبغت اللہ 2017 میں بی ایس پی کے نشان پر انتخابی میدان میں اترے تھے لیکن ہار گئے تھے۔ جبکہ پنچایت انتخابات میں ان کے بیٹے نے سماجوادی پارٹی کی رکنیت حاصل کی اور ضلع پنچایت چیئرمین منتخب ہو گئے۔ صبغت اللہ انصاری غازی پور کی محمد آباد سیٹ سے رکن اسمبلی رہ چکے ہیں۔

ادھر سماجوادی پارٹی کے بانی رکن رہے امبیکا چودھری تقریباً 5 سال بعد پارٹی میں واپسی کر رہے ہیں۔ اس کے لئے تمام تیاریاں اسی وقت پوری کر لی تھیں جب ان کے بڑے بیٹے کو سماجوادی پارٹی کا ٹکٹ دیا گیا تھا۔ امبیکا چودھری ملائم سنگھ اور اکھلیش حکومت میں وزیر رہ چکے ہیں۔








