نئی دہلی :(ایجنسی)
طالبان کو لے کر عالمی برادری کا موقف بدلتا دکھائی دے رہا ہے۔ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی جانب سے جاری کردہ تازہ بیان میں طالبان کا نام دہشت گردانہ سرگرمیوں سےہٹا دیا گیا ہے ۔ قابل ذکر بات یہ ہے کہ اس ماہ بھارت اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی صدارت کر رہا ہے۔ وہیں طالبان کی طرف سے بھی بھارت کے ساتھ سیاسی اور کاروباری تعلقات برقرار رکھنے کے اشارے بھی ملے ہیں ۔
طالبان کے سینئر لیڈر شیر محمد عباس ستانکزئی نےبھارت کو خطے کا ایک اہم ملک قرار دیتے ہوئے کہاکہ طالبان بھارت کے ساتھ افغانستان کے تجارتی،اقتصادی اور سیاسی تعلقات کو بنائے رکھنا چاہتا ہے ۔ ستانکزئی نے پشتو زبان میں جاری ایک ویڈیو خطاب میں کہاکہ کابل میں سرکار بنانے کے لیے مختلف گروہوں اور سیاسی پارٹیوں کے ساتھ غور وخوض ومشورے چل رہے ہیں ۔ جس میں ’مختلف علاقوں‘ کے لوگوں کی نمائندگی ہوگی۔

بی جے پی رکن پارلیمنٹ نے مرکز کو نشانہ بنایا
طالبان کے حوالے سے بدلتے ہوئے ماحول کے درمیان بی جے پی رکن پارلیمنٹ سبرامنیم سوامی نے ٹویٹ کرکے مرکزی حکومت کو نشانہ بنایا ہے۔ انہوں نے ٹویٹ کیا کہ مجھے یہ جان کر حیرت ہوئی کہ بھارت ، اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے صدر کی حیثیت سے ، طالبان کو بیان کرنے کے لیے دہشت گرد لفظ کو ہٹانے کے بعد کل اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں افغانستان پر ایک قرار داد پیش کرنے جارہاہے ۔ پہلے سے ہی گھٹنے ٹیکنے کی شروعات ہو رہی ہے ۔؟
دریں اثنا ء ہندوستان کے وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ نے اتوار کو کہا تھا کہ افغانستان میں بدل رہے اقتدار بھارت کے لیے ایک چیلنج ہے ، جس کی وجہ اسے اپنی حکمت عملی پر نظر ثانی کرنا پڑااور کواڈ پہل نے اس پر روشنی ڈالی ہے۔









