نئی دہلی : (ایجنسی)
دہلی ہائی کورٹ نے گزشتہ سال دہلی فسادات کے دوران ہیڈ کانسٹیبل رتن لال کے قتل اور ڈی سی پی کے سر میں چوٹ پہنچانے کے معاملے میں جمعہ کو پانچ ملزموں کی ضمانت منظور کرلی۔ (ایف آئی آر 60/2020 پی ایس دیالپور)
جسٹس سبرامنیم پرساد نے گزشتہ مہینے حکم کو محفوظ رکھا تھا ، اسے آج صادر کیا۔ عدالت نے استغاثہ فریق کی جانب سے پیش اے ایس جی ایس وی راجو اور اسپیشل پبلک پراسیٹکیوٹر امت پرساد کےساتھ ملزمین جانب سے پیش ہوئے کئی وکلاء کو تفصیل سے سنا۔
جن لوگوں کو ضمانت ملی ہے ان میں عارف، شاداب احمد، فرقان ، سلوین اور تبسم شامل ہیں ۔ عارف کے معاملے میں عدالت نے کہا کہ دفعہ 149 آپی پی سی کااطلاق خاص طور سے دفعہ 302 کے ساتھ پڑھےجانے پر، مبہم شواہد اور معمولی الزامات کی بنیاد پر نہیں کی جاسکتی ہے ۔ جب ضمانت دینے یا قبول کرنے کے وقت بھیڑ ہوتی ہے تو عدالت کو اس نتیجہ پر پہنچنے سے پہلے ہچکچاہٹ کرنی چاہئے کہ غیر قانونی بھیڑ کا ہر ایک رکن غیر قانونی مشترکہ مقصد کو پورے کرنے کے لیے ایک مشترکہ ارادہ رکھتا ہے ۔ درخواست گزار کو 11.03.2020کو گرفتار کیا گیا تھا اور تب سے وہ عدالتی تحویل میں ہے ۔
ایف آئی آر 60/2020ایک کانسٹیبل کے بیان پر درج کی گئی تھی ، جس میں کہا گیا تھا کہ گزشتہ سال 24 فروری کو وہ چاند باغ علاقے میں دیگر اسٹاف ممبران کےساتھ ڈیوٹی پر تھا ۔ بتایا گیا کہ دوپہر ایک بجے کے قریب مظاہرین ڈنڈے، لاٹھی ، بیس بال بیٹ، لوہے کی چھڑ اور پتھروں کو لےکر وزیر آباد روڈ پر جمع ہونے لگے ۔ سینئر افسران کے احکام پر عمل یا نہیں کیا اور تشدد ہوگئے۔
مزید کہا گیا کہ مظاہرین کو بار بار وارننگ دینے کے بعد ہجوم کو منتشر کرنے کے لیے ہلکی طاقت اور گیس کے گولے استعمال کیے گئے۔ کانسٹیبل کے مطابق پرتشدد مظاہرین نے لوگوں کے ساتھ ساتھ پولیس اہلکاروں کو بھی مارنا پیٹنا شروع کردیا ،جس سے انہیں کہنی میں اور ہاتھ میں چوٹ لگ گئی ۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ مظاہرین نے ڈی سی پی شاہدرہ ، اے سی پی گوکل پوری اور ہیڈ کانسٹیبل رتن لال پر حملہ کیا ، جس کی وجہ سے وہ سڑک پر گر گئے اور شدید زخمی ہوگئے۔ تمام زخمیوں کواسپتال لے جایا گیا ، جہاں معلوم ہوا کہ رتن لال کی پہلے ہی چوٹوں کی وجہ سے موت ہوچکی تھی اور ڈی سی پی شاہدرہ بے ہوش تھے اور انہیں سر میں چوٹیں آئی تھیں۔
ہائی کورٹ نے ضمانت دیتے ہوئے کہاکہ ’ یہ یقینی بنانا عدالت کا آئینی فرض ہے کہ اسٹیٹ کی طاقت سے زیادہ ہونے کے معاملے میں شخصی آزادی کو منمانے ڈھنگ سے نہ چھینا جائے۔ ضمانت قانون ہے اور جیل استثنا ہے اور عدالتوں کو اپنے دائرے اختیار کا استعمال کرنا چاہئے ۔
سماعت کے دوران عدالت نے مشاہدہ کیا تھا کہ دہلی فسادات کے ایک ملزم کوسی سی ٹی وی فوٹیج میں نہیں دیکھا گیا تھا، اس معاملے میں بے گناہی کا دعویٰ کرنے کے لیے کافی بنیاد نہیں ہو سکتاہے ۔
عدالت نےکہا کہ ملزم کے خلاف آئی پی سی کی دفعہ 149 کے تحت غیر قانونی طور سے جمع ہونے کا الزام لگایا جانا چاہئے یا نہیں، یہ مقدمے کی سماعت میں فیصلہ کا معاملہ ہے اور ضمانت عدالت کی فکر نہیں ہے۔
اسی طرح عدالت نے استغاثہ فریق سے سوال کیا کہ دفعہ 302 ( قتل) کے ساتھ پڑھی گئی دفعہ 149 (غیرقانونی جلسہ) کے تحت ملزمین سے جڑے معاملے میں ضمانت دینے کا معیار کیا ہونا چاہئے۔
عدالت نے یہ بھی پوچھا کہ کیا ملزمان کو ضمانت دیتے وقت ویڈیو ثبوت کی عدم موجودگی میں اور 15 مہینے سے زیادہ وقت تک حراستمیں رہنے کےباوجود ،کیا ملزمین کو مسلسل حراست میں رکھا جاناچاہئے۔ اےایس جی ایس وی راجو نے جواب دیا کہ استغاثہ فریق کے معاملے کو ثابت کرنے میں ویڈیو اہم نہیں ہے، بلکہ صرف چشم دید کے بیانات کی تصدیق کرنے کے لیے ہے ۔











