لکھنؤ : (ایجنسی)
اتر پردیش پولیس کے انسداد دہشت گردی اسکواڈ (اے ٹی ایس) نے ‘’غیر قانونی تبدیلی مذہب‘ کے معاملے میں گرفتار آٹھ ملزمان کو گرفتار کیا تھا۔ اب ان پر ’ملک کے خلاف جنگ چھیڑنے‘ کا الزام لگایا گیا ہے۔
دی کوئنٹ کی رپورٹ کے مطابق یوپی اے ٹی ایس کی جانب سے دی گئی درخواست کو قبول کرتے ہوئے لکھنؤ کی ایک عدالت نے آئی پی سی کی دفعہ 121-A اور 123 لگانے کی سفارش کی۔ آئی پی سی کی دفعہ 121 بھارت سرکار کے خلاف جنگ چھیڑنے یا جنگ چھیڑنے کی کوشش کرنے یا جنگ چھیڑنے پر آمادہ کرنے سے متعلق ہے۔
بتادیں کہ اس سال 21 جون کو اے ٹی ایس نے دو مولیوں – محمد عمر گوتم اورمفتی قاضی جہانگیر عالم قاسمی کو دہلی سے گرفتار کیا تھا اور ایک بڑے تبدیلی مذہب ریکٹ کا پردہ فاش کرنے کا دعویٰ کیا تھا جو مبینہ طور سے ہزاروں لوگوں کے تبدیلی مذہب کے معاملے میں شامل تھے ۔
ایجنسی نے بعد میں مزید آٹھ افراد کو گرفتار کیا اور دعویٰ کیا کہ ملزمان نے اسلامک دعوہ سینٹر (آئی ڈی سی) کے بینر تلے بڑے پیمانے پر مذہب تبدیل کیا ہے ، جن میں مبینہ طور پر معذور بچوں ، خواتین ، بے روزگاروں اور غریبوں کو اچھی تعلیم ، شادی ،نوکری اور پیسہ کاوعدہ کرکے لالچ دیا گیا تھا۔
گرفتار کیے گئے 10 افراد میں مہاراشٹر سے 4 ، دہلی سے 2 اور ہریانہ ، گجرات ، اترپردیش اور جھارکھنڈ سے ایک ایک شامل ہے۔
آٹھ افراد جن کے خلاف آئی پی سی کی دفعات 121-A اور 123 کی لگائی ہیں ، ان میں محمد عمر گوتم ، مفتی قاضی جہانگیر عالم قاسمی ، صلاح الدین زین الدین شیخ ، عرفان شیخ عرف عرفان خان ، ڈاکٹر فراز ، پرساد رامیشور کوارے عرف آدم ، بھوپریہ بندو عرف ارسلان اور کوثر عالم شامل ہیں۔
اے ٹی ایس نے دعویٰ کیا کہ ان کے پاس ’ثبوت موجود‘ہیں جو آٹھ ملزمان کے خلاف دفعہ 121-A اور 123 کے جرائم کو ثابت کرنے کے لیے کافی ہیں۔ اے ٹی ایس نے عدالت میں کیس ڈائری بھی پیش کی۔
اے ٹی ایس کے ایک سینئر عہدیدار نے کہا ، ’شواہد اور کیس ڈائری کی تصدیق کرنے کے بعد عدالت نے آئی پی سی کی دو دفعات – 121-A اور 123 کو آٹھ ملزمان کے خلاف لاگو کرنے کی اجازت دی اور کورٹ میں اگلی سماعت 14ستمبر کو ہے ۔











