بھوپال ؍ دیواس: (ایجنسی)
مدھیہ پردیش میں ہجوم کے ہاتھوں مار پیٹ کا ایک اور معاملہ سامنے آیا ہے۔ دیواس ضلع میں ایک نابالغ لڑکے کو ‘’لوجہاد‘ کے شبہ میں پولیس کے سامنے مارا پیٹا گیا۔ لڑکا ایک 12 سالہ لڑکی کے ساتھ بس میں سفر کر رہا تھا ، جس کے بعد اسے ہجوم نے لو جہاد کے شبہ میں اس کی پٹائی کردی ۔پولیس کی جانچ میں سامنے آیا ہے کہ لڑکااور لڑکی ایک ہی مذہب سے تعلق رکھتے ہیں۔
ٹائمز آف انڈیا کی رپورٹ کے مطابق ، لڑکا اور لڑکی اتر پردیش کے بلیا ضلع میں اپنے گھر سے بھاگ گئے تھے۔ ان کی لوکیشن معلوم چلنے کے بعد یوپی پولیس نے دیواس میں پولیس کو اس بارے میں اطلاع دی۔ ڈی ایس پی آکانکشا بھچھوٹے نے کہا کہ ہمیں شبہ ہے کہ ان کا اتر پردیش سے پیچھا کیا جا رہا تھا۔ پولیس نے اس معاملے میں 18 افراد کے خلاف تشدد کا مقدمہ درج کرلیا ہے۔ کیس میں تین افراد کے نام درج کیے گئے ہیں، جبکہ باقی 15 افراد کی شناخت کی جا رہی ہے۔
ڈی ایس پی نے بتایا کہ انہیں اطلاع ملی تھی کہ دونوں گجرات جانے والی ایک بس میں تھے۔ بھونراسا گاؤں میں نابالغوں کو بس سے اتارنے کے بعد ہجوم نے اس شبہ میں لڑکے کی پٹائی شروع کردی کہ اس کا تعلق اقلیتی برادری سے ہے۔
رپورٹ میں ، ڈی ایس پی نے کہا کہ پولیس نے لڑکے کو بچانے کی کوشش کی ، لیکن حملہ آور زیادہ تھے۔ پھر بھی افسران کسی طرح دونوں کو بچانے میں کامیاب رہے اور ہم نے لڑکی کو مہیلا پولیس اسٹیشن اور لڑکے کو انڈسٹریل ایریا تھانے بھیج دیا۔ چار گھنٹے کے بعد یوپی پولیس پہنچی اور دونوں کو ان کے حوالے کر دیا گیا۔‘
ایس پی نے بتایا کہ 18 افراد کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا ہے جن میں سے تین کی شناخت ہوچکی ہے۔ ان میں سے ایک کا تعلق سیہور اور دو کا دیواس سے ہے۔ ڈی ایس پی نے بتایا کہ باقی ملزمان کی شناخت اور گرفتاری کے لیے ٹیمیں تشکیل دی گئی ہیں۔
گزشتہ چند دنوں میں مدھیہ پردیش سے ایسے کئی واقعات منظر عام پر آئے ہیں۔ 28 اگست کو نیمچ کے ایک قبائلی نوجوان کنہیا لال کو ایک چھوٹےپک اپ ٹرک سے باندھ کر گھسیٹا گیا ، جس کے بعد اس کی موت ہوگئی۔ باہوبلیوں کو شبہ تھا کہ اس نے چوری کی ہے۔
28 اگست کو اجین کے مہید پور میں ایک کباڑی والے عبدالرشید سے کچھ لوگوں نے جبراً ’جے شری رام ‘ کےنعرے لگوائے، 26 اگست کو دیواس کےہاٹپیلیا میں ٹوسٹ اور زیرہ بیچنے والے 45 سالہ زاہد خاں کو دی نوجوانوں نے بے رحمی سے پٹائی کردی۔ نوجوانوںنے زاہد خاں سے آدھار کارڈ دکھانے کے لیے کہا تھا۔ 22 اگست کو رکشا بندھن کے دن اندورمیں ہندو علاقے میں چوڑی بیچنے گئے مسلم شخص کی پٹائی کردی گئی ۔











