نئی دہلی ( پریس ریلیز)
رابعہ کے معاملے کو دس دن گزرجانے کے بعد بھی نہ تو اسے معاوضہ ملا،نہ مجرم پکڑے گئے،نہ جانچ کا حکم صادر ہوا،آخر یہ جنگل راج کب ختم ہوگا؟رابعہ کو مکمل انصاف ملنے تک مجلس کی لڑائی جاری رہے گی ۔ہم گونگی بہری سرکاروں کو سنا کر رہیں گے۔ان خیالات کا اظہارکل ہند مجلس اتحاد المسلمین دہلی کے صدر کلیم الحفیظ نے کل شام کینڈل مارچ کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔
شاہین باغ پولس اسٹیشن سے شروع ہوکر شاہین باغ مارکیٹ سے ہوتا ہوا کینڈل مارچ چالیس فٹا چوراہے پر ختم ہوا۔ مارچ میں بڑی تعداد میں مردو خواتین نے شرکت کی ۔اسی طرح کے کینڈل مارچ مجلس دہلی کی جانب سے گزشتہ دو دنوں میں کئی مقامات پر نکالے گئے۔مصطفیٰ آباد،سیما پوری،جیت پور،سیلم پور،بدرپور،جامع مسجد،قریش نگر،کبیر نگر،بابر پور،شری رام کالونی،کراول نگرمیں مجلس کے کارکنان نے رابعہ سیفی کے لیے کینڈل مارچ نکالے اور احتجاج کیا۔
شرکاء نے اپنے ہاتھوں میں پلے کارڈ اٹھا رکھے تھے اور وہ رابعہ کے قاتل کو پھانسی دو،کیجریوال ہوش میں آئو،رابعہ کے گھر والوں کو ایک کروڑ روپے کا معاوضہ دو کے نعرے لگا رہے تھے ۔دہلی مجلس کے مختلف ذمہ داران مارچ کی قیادت کررہے تھے۔شاہین باغ مارچ کی قیادت مجلس دہلی کے صدر کلیم الحفیظ نے کی ۔
اس موقع پر حاضرین سے خطاب کرتے ہوئے صدر مجلس نے کہا کہ دہلی حکومت کے یہاں انصاف کے پیمانے دوہرے ہیں ،سول ڈیفینس کے ہی کرمچاری پرویش کمار کو ایک سال پہلے ایک کروڑ کا معاوضہ دینے والی کیجریوال سرکار رابعہ کو معاوضہ نہیں دے رہی ہے ،ہزاروں کروڑ روپے اشتہار پر خرچ کرنے والے ایک کروڑ روپے مستحق کو نہیں دے رہے ہیں کیوں کہ وہ مسلمان ہے۔ابھی تک ایک مجرم پکڑا گیا ہے ،اس کے دوسرے ساتھی آزاد گھوم رہے ہیں ۔سی بی آئی جانچ کی مانگ بھی ان سنی کی جارہی ہے ،دہلی حکومت کم سے کم ایس آئی ٹی کے ذریعے تو جانچ کرا سکتی ہے۔لیکن جانچ کے نام پر حکومت اس لیے گھبرارہی ہے کہ رابعہ کے قتل میں سول ڈیفنس کے بڑے بڑے منصب دار ملوث ہیں۔
کلیم الحفیظ نے کہا کہ انصاف ملنے تک دہلی مجلس اسی طرح سڑکوں پر اپنا احتجاج جاری رکھے گی۔ضرورت پڑی تو ہم دہلی ودھان سبھا اور وزیر اعلیٰ کا گھیرائو بھی کریں گے۔ہمارا مطالبہ ہے کہ اس معاملے کی سی بی آئی جانچ ہو،رابعہ کو ایک کروڑ کا معاوضہ ملے اور مجرموں کو فاسٹ ٹریک کورٹ میں مقدمہ چلا کر عبرت ناک سزا دی جائے۔











