نئی دہلی : (ایجنسی)
مرکزی حکومت کی طرف سے جاری حالیہ ہدایات کے مطابق بھارت میں رہنے والے افغان شہریوں کو بھارت چھوڑنے سے پہلے مرکزی وزارت داخلہ ( ایم ایچ اے) سے منظوری لینی ہوگی۔ یہ قدم افغان پارلیمنٹ کی 20 سالہ خاتون رکن رنگینا کارگر کو غیر قانونی دستاویز کے باوجود آئی جی آئی ایئر پورٹ سے استنبول بھیجے جانے کے کچھ دنوں بعداٹھایا گیا ہے ۔ سرکار نے بعد میں کارگر سے معافی مانگی تھی۔
گائیڈ لائن کے مطابق ،’ کسی بھی زمرے کے ویزا پر بھارت میں رہنے والے افغان شہریوں کو متعلقہ غیر ملکی ریجنل رجسٹریشن آفس کےذریعہ اگلے حکم تک ویزا کی توسیع دی جائے گی۔ ‘ کئی افغان شہری ، جو افغانستان پر طالبان کے قبضے سے پہلے بھارت آئے تھے، کچھ مہینے سے زیادہ وقت سے بھارت میں رہ رہے ہیں۔ مارچ 2020 میں پہلے لاک ڈاؤن کے اعلان کے بعد سے بھارت میں پھنسے ہیں، کو گزشتہ ہفتے ایم ایچ اے نے ویزا میں توسیع دی ہے۔ کورونا بحران کی وجہ سے یہاں پھنسے افغانوں سمیت تمام غیرملکی شہریوں کو 30 ستمبر تک ویزا کی توسیع کردی گئی ہے ۔
ایک عہدیدار نے کہاکہ بھارت میں افغان شہریوں کو ویزا میں توسیع دی گئی ہے، لیکن اب ہم انہیں ای ویزا کے تحت لانے کی اسکیم پر کام کررہے ہیں تاکہ وہ بغیر کسی پریشانی کے آن لائن درخواست کرسکیں۔ افغانستان میں موجودہ صورت حال کی وجہ سےانہیں ایم ایچ اے کی منظوری کے بغیر ملک سے نکالنے یا باہر نہیں کیا جاسکتا ہے ۔ افغان شہریوں کے لیے ای ویزا گزشتہ مہینہ کابل میں بھارتیہ سفارت خانہ کو بند کرنے کے بعد شروع کیا گیا تھا۔ اس میں سیکورٹی ایجنسیوں کے ذریعہ لازمی تصدیق نامہ شامل کیا گیا ہے ۔
اس سے قبل اپنے ویزا کی مدت کے اندر بھارت چھوڑنےوالے افغان شہریوں کو ایگزٹ پرمٹ کی ضرورت نہیں تھی۔ ساتھ پی ان کے لیے ای ویزا کا کوئی التزام نہیں تھا۔ 17 اگست کو ایم ایچ اے نے ایک خاص قسم کے ایمرجنسی ویزا کااعلان کیا ۔ جس کے تحت افغان شہریوں کے لیے قبضے اوررہائیش کا ثبوت دینا لازمی نہیں تھا۔ بعد میں ایم ایچ اے نے افغانستان میں نازک سیکورٹی صورت حال کا حوالہ دیتے ہوئے بھارت میں نہیں رہنے والے افغان شہریوں کو پہلے جاری کئے گئے تمام ویزا رد کردئے۔
ویزا گائڈ لائن کے مطابق افغانیوں کو اپنے اور اپنے پریوار کے فرد کو بھارت آنے کے14 دنوں کے اندر مقامی پولیس میں رجسٹرکرناچاہئے، سوا ئے ان لوگوں کو جنہیں اس سے چھوٹ دی گئی ہے ۔ کئی افغان شہریوں نے طالبان کے ہاتھوں استحصال کے ڈر سے بھارت میں رہنے کی خواہش ظاہر کی ہے۔ سرکار نے دوہرایا ہے کہ وہ طالبان انتظامیہ سے بھاگنے والے تمام لوگوں کو قبول کرے گی، لیکن سکھوں اور ہندوؤں کو ترجیج دی جائے گی۔ ان کا ویزا چھ مہینہ کے لیے جواز ہوگا۔











