سلطان نپور : (ایجنسی)
یوپی انتخابات میں مسلمانوں کو لبھانے کی کوشش میں مصروف اے آئی ایم آئی ایم کے سربراہ اسدالدین اویسی نے پھر بڑا بیان دیا ہے ۔ سلطان پور دورے کے دوران انہوں نے پھر کھل کر مسلمانوں کا ووٹ مانگا ہے ۔ انہوں نے زور دے کر کہا ہے کہ اس سماج کو متحد ہونا ہوگا۔ ان کی پوری کوشش ہےکہ یوپی کے 19 فیصد مسلمانوں کو اپنی پارٹی کی طرف کیاجائے۔
اویسی نے کہا کہ یوپی سب سے بڑی ریاست ہے ، 19 فیصد مسلمان ہیں ، آپ سب کو ایک طرف آنا ہوگا۔ یوپی میں جہاں پر ہر کمیونٹی کی سیاسی آواز ہے ، نمائندہ ہے ، مسلمانوں کاکون ہے ، آپ نے کسے اپنا لیڈر بنایا ، برسوں پہلے ڈاکٹر عبدالجلیل جنہوں نے مجلس بنائی تھی تب سے آج تک مسلمانوں کے لیے کچھ نہیں ہوا۔ ہم یہی چاہتے ہیں کہ آپ کے درمیان سے لیڈر بنایا جائے۔ آپ کو مضبوط کیا جائے،جس سماج کے پاس اس کا لیڈر ہوگا اسی کی آواز کو سنی جائےگی۔
ان کی جانب سے یہ بھی دلیل دی گئی کہ ہم مسلمانوں کو ووٹ بینک نہیں بلکہ ایک طاقت بنانا چاہتے ہیں۔ مرکز نے اقلیتوں کے لیے 116 کروڑ دیالیکن بابا (یوگی) نے 10 کروڑ خرچ کیا۔ میں وزیر اعلیٰ کو بابا کہتا ہوں۔ یہ ’سب کا ساتھ ، سب کا وکاس‘ کہتے ہیں۔ یہ کہتے ہیں ہم نے مسلمانوں کو پی ایم آواس یوجنا (گرامین ) میں گھر دیا۔ یوپی میں 7 لاکھ 65 ہزار گھر ملے، اس میں صرف 10 گھر مسلمانوں کو ملے۔ یہ سب کا ساتھ ، سب کا وکاس ہے ۔
اویسی نے ایس پی پر بھی طنز کیا اور کہا کہ مسلم سماج ان کی پارٹی کاغلام نہیںہے، ان کی نظروں میں اے آئی ایم آئی ایم نے کبھی ووٹوں کی سیاست نہیں کی،لیکن باقی تمام پارٹیوں نے صرف اور صرف ووٹ کے لیے ذاتیوں کو تقسیم کیا۔ انہوں نے کہاکہ بی جے پی مسلمانوں کے ووٹ سے نہیں جیت رہی ہے، اگر ہم بی جے پی کو وو ٹ نہیں دے رہے ہیں تو وہ کیسے جیت رہی ہے ذرا سوچئے۔
ایس پی نے کبھی یہ نہیں کہاکہ یادو ہم کو ووٹ نہیں دیا، اس لئے ہم ہار گئے،کیا مسلمان ان کے غلام ہیں؟ لوک سبھا کے انتخاب میں ہم نے 3 سیٹوں پر الیکشن لڑا ۔ ان میں ہم 2 سیٹیوں پر جیت گئے۔ مجھے ہرانے مودی، امت شاہ آئے لیکن دال نہیں گلی۔ اورنگ آباد میں شیوسینا کو اے آئی ایم آئی ایم نے ہرایا ۔ کشن گنج میںہمیں 3 لاکھ ووٹ ملے ، کشن گنج میں بی جے پی نہیں جیت سکی۔
تقریر کے دوران اویسی نے آر ایس ایس سربراہ موہن بھاگوت کو بھی نشانہ بنایا۔ انہوں نے اپنی طرف سے واضح کردیا کہ بھارت میں تلوار کے دم پر اسلام کو نہیں لایا گیا تھا۔ انہوں نے کہاکہ آر ایس ایس کے موہن بھاگوت نے کہاکہ اسلام حملہ آور سے بھارت میں آیا ہے ۔ بھاگوت تاریخ نہیں جانتے۔ اسلام اس ملک میں بادشاہوں کی وجہ سے نہیں آیا، صوفیا کرام کی وجہ سے آیا۔ اسلام بھارت میں محبت سے آیا۔ تلوار کے دم پر نہیں آیا۔











