نئی دہلی : (ایجنسی)
ملک میں ایک بار پھر ذات پر مبنی مردم شماری کی مانگ بڑھنے لگی ہے۔ منڈل تحریک سے نکلنے والی تمام سیاسی جماعتیں ذات پر مبنی مردم شماری کے مطالبے کے لیے آواز بلند کر رہی ہیں اور اب مسلمان بھی ان کی آواز میں شامل ہو رہے ہیں۔ مسلمانوں کی آل انڈیا پسماندہ مسلم محاذ تنظیم ذات پرمبنی مردم شماری میں ہندوؤں کی او بی سی ذاتوں کی طرح مسلمانوں کے پسماندہ ذاتوں کی بھی گنتی کرانے کی مانگ کررہی ہے ۔
مسلم سماج کے پسماندہ طبقات کے لیے کام کرنے والی ایک غیر سیاسی تنظیم آل انڈیا پسماندہ مسلم محاذ نے بہار حکومت کی جانب سے فلاحی اسکیموں کے لیے مسلم سماج کو او بی سی (دیگر پسماندہ طبقات) اورای بی سی (معاشی طور پر پسماندہ طبقات) کے طور پر درج کئے جانے کاحوالہ دیتے ہوئے ذات پر مبنی مردم شماری میں مسلمانوں کو بھی شامل کرنے کی مانگ رکھ دی ہے۔
واضح رہے کہ مردم شماری میں مذہبی بنیادوں پر مسلمانوں کی گنتی کی جاتی ہے، لیکن مسلمانوں میں شامل ذاتوں کی گنتی نہیں ہوتی ہے۔ سال 2021 میں ہونے والی مردم شماری کے ساتھ ذاتوں کے شمار کئے جانے کی مانگ تیز ہوگئی ہے۔ ایسے میں پسماندہ مسلم محاذ کے صدر سابق ممبر پارلیمنٹ علی انور مسلمانوں کی ذاتوں کی مردم شماری کی مانگ کو تیز کرنے کے لیے دہلی میں جمعرات کو میٹنگ کی۔
دہلی گاندھی پیس فاؤنڈیشن میں 15 مسلم او بی سی ذاتوں کی تنظیم مسلم محاذ کی قیادت میں ہونے والی میں مسلم او بی سی کی تعلیمی، معاشی ،سیاسی اور سماجی حیثیت پر بات ہوئی اس دوران مسلم او بی سی ذاتوں کی بنیاد پر پر ایک کتابچہ بھی جاری کی ہے ۔
علی انور کہتے ہیں کہ ہندو اور مسلمان دونوںمیں پسماندہ اور دلت گروہ ہیں۔ جن میں تمام کئی ذیلی ذاتیں ہیں۔ ایسے میں ذات کی بنیاد پر مردم شماری میں ہندوؤں کے ساتھ ساتھ مسلمانوں کی بھی ذاتوںکی گنتی کی جائےتاکہ ان کی پوزیشن کا سہی اندازہ ہوسکے۔ اس کےعلاوہ بہار کی طرز پر ملک بھر میں او بی سی کو دو حصوں میں پسماندہ طبقہ ( او بی سی ) اور انتہائی پسما ندہ طبقات ( ای بی سی ) میں تقسیم کیاجانا چاہئے۔
وہ کہتے ہیں کہ ہندوؤں کی طرح مسلمانوں میں بھی او بی سی کا صحیح اعداد وشمار سامنے آنا چاہئے۔ مسلمانوں کے نام پر تمام سہولتوں کا فائدہ مسلم سماج کی کچھ اعلیٰ ذاتوں کو مل رہا ہے، ایسے میں مسلم او بی سی ذاتوںکی صورت حال ہندوؤں سے بھی خراب ہے۔
ایسی صورتحال میں مردم شماری کے ذریعے درست اعداد و شمار سامنے آسکیں گے۔ اس کے علاوہ ہریانہ ، دہلی ، بہار اور اتر پردیش میںتمام مسلم ذاتیں ہیں، جوہندوؤں میں دلتوں میں شامل ہے ،ایسے میں ہماری مانگ ہے کہ مسلمانوں کی ان ذاتوںکو بھی دلتوں کے زمرے میں شامل کیا جائے ۔
انہوں نے کہاکہ گزشتہ دنوں جب بہار سرکار کے ذریعہ 50 سے زیادہ ای بی سی گروپس اور 15 او بی سی کو قبول کیاگیا تھا، تو مسلمانوں کو ذات پر مبنی مردم شماری میں شامل کئے جانے کا مناسب بنیاد ہے ۔ ہمیں امید ہے کہ وزیر اعظم نریندر مودی ایک جامع نقطہ نظر اپنائیں گے اورتمام مذاہب میں شامل ذاتوں کی مردم شماری کوگرین سگنل دیں گے ۔
ہندوستانی مسلمان بھی نسلی تین اہم طبقات اور سیکڑوں برادریوں میں تقسیم ہے۔ اعلیٰ درجہ کے مسلمانوں کو اشراف کہاجاتا ہے ، جس میں سید، شیخ ،مغل،پٹھان، رنگڑ یا مسلم راجپوت، تیاگی مسلمان آتے ہیں۔ وہیں او بی سی مسلمانوں کو پسماندہ مسلم کہا جا تاہے۔ جن میںکجڑے (راعین) ، جولاہے (انصاری) ، دھونیا (منصوری) ، قصائی (قریشی) ، فقیر (علوی) ، حجام (سلمانی) ، مہتر (حلال خور) ، گئوالا (گھوسی)، دھوبی ( ہواری) ، لوہار-بڑھئی (سیفی) ،منہار (صدیقی)، درزی ( ادریسی)، ون گوجر وغیرہ اس کے دلت مسلم کو اجلال کہا جاتا ہے ۔
مسلم معاشرے میں رائج ذات پات کے حوالے سے ڈاکٹر آر امبیڈکر سے لے کر ڈاکٹر رام منوہر لوہیا اور کانشی رام نے بھی کھل کر اپنی رائے کا اظہار کیا ہے۔ ڈاکٹر امبیڈکر لکھتے ہیں کہ… ’’غلامی بھلے ہی ودع ہو گئی ہو ذات تو مسلمانوں میں قائم ہے ہی۔ ‘‘کانشی رام نے کہاکہ مسلمانوں میں نمائندگی کے نام پر صرف اعلیٰ طبقے کے ہی مسلمانوں کی بھاگیدار ی ہے اور او بی سی مسلمان محروم ہیں۔ ایسے میں مسلمانوں کے درمیان ذاتوںکی گنتی کی مانگ اٹھا کر او بی سی مسلمان کے اعداد وشمار کو سب کے سامنے لانے کا ارادہ ہے ۔










