چنئی : (ایجنسی)
مدراس ہائی کورٹ نے نئے انفارمیشن نئے انفارمیشن ٹیکنالوجی ایکٹ کی ان دفعات پر لگادی ہے کہ جن کے تحت میڈیا کو کنٹرول کرنے کی کوشش کی جا سکتی ہے۔
عدالت نے مشاہدہ کیا ہے کہ پہلی نظر میں ایسا لگتا ہے کہ میڈیا کوکنٹرول کرنے کی سرکاری کارروائی ( اورسائٹ میکنزم ) سے میڈیا کی آزادی چھینی جا سکتی ہے ، اور جمہوریت کا چوتھاستون اپنی جگہ نہیں ٹک پائے گا۔
اس سے قبل بمبئی ہائی کورٹ نے 16 اگست کو ایک حکم میں اس قانون کی ان دفعات پر روک لگا دی تھی جس سے میڈیا کو کنٹرول کیا جا سکتا ہے۔
ان دفعات میں کہا گیا ہے کہ میڈیا کو پریس کونسل کی ہدایات پر عمل کرنا ہو گا اور ٹی وی چینلز کو ان کے ادارہ کی رہنما ہدایت کو ماننا ہوگا۔
درخواست گزار نے کہا تھا کہ اور سائٹ میکنزم میں سرکار کے لوگوں کے رہنے سے ریاست کو میڈیا کے ادارتی فیصلوں میں مداخلت کا موقع دے سکتا ہے ۔ کئی عدالتوں نے کہا ہے کہ ان پبلشرز کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی جا سکتی جو ان ہدایات پر عمل نہیں کرتے۔
یہ درخواستیں میوزک کمپوزر ٹی ایم کرشنا ، ڈیجیٹل نیوز پبلشرز ایسوسی ایشن اور مکندا پدمانابھ نے دائر کی تھیں۔ جسٹس سنج بنرجی اور جسٹس پی ڈی ادیکیشالو نے کہا کہ درخواست گزار کواور سائٹ میکنزم سے خدشات ہیں ۔










