بغداد: مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے درمیان ایران نے آبنائے ہرمز سے متعلق بڑا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ آئندہ 30 دن تک اس اہم آبی گزرگاہ کی نگرانی اور انتظام مکمل طور پر ایران کے ہاتھ میں رہے گا۔ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور دیگر بیرونی طاقتوں کو خبردار کرتے ہوئے کہا کہ اس معاملے میں کسی بھی قسم کی مداخلت برداشت نہیں کی جائے گی۔
"آبنائے ہرمز پر صرف ایران کا اختیار”
عراقی وزیر خارجہ فؤاد حسین کے ساتھ بغداد میں مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے عباس عراقچی نے کہا کہ آبنائے ہرمز آئندہ 30 دن تک مکمل طور پر ایران کی نگرانی اور انتظام میں رہے گی۔ ان کے مطابق تمام رکاوٹیں دور ہونے کے بعد اس آبی راستے کی مکمل صلاحیت بحال کر دی جائے گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ مفاہمتی یادداشت (MoU) کے تحت اس ذمہ داری کا اختیار صرف اسلامی جمہوریہ ایران کے پاس ہے اور کسی دوسرے ملک کو اس میں مداخلت کا حق نہیں۔
انہوں نے خبردار کیا کہ اگر کسی بیرونی ملک نے یکطرفہ کارروائی یا مداخلت کی کوشش کی تو صورتحال مزید پیچیدہ ہو جائے گی اور آبنائے ہرمز کو مکمل طور پر بحال کرنے میں مزید تاخیر ہو سکتی ہے۔
امریکہ اسرائیل پر دباؤ ڈالے: ایران
عباس عراقچی نے کہا کہ امریکہ کو ایران کے ساتھ طے شدہ مفاہمتی یادداشت کی تمام شقوں پر عمل درآمد یقینی بنانا چاہیے، جن میں لبنان سے متعلق نکات بھی شامل ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اسرائیل اب بھی لبنان پر فضائی حملے کر رہا ہے، حالانکہ اس نے بھی مفاہمتی یادداشت کو قبول کیا تھا۔ ایرانی وزیر خارجہ نے واشنگٹن سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی ذمہ داری ادا کرے، اسرائیل پر دباؤ ڈالے کہ وہ لبنان پر حملے بند کرے اور زیر قبضہ علاقوں سے اپنی فوج واپس بلائے۔










