لکھنؤ :(ایجنسی)
اترپردیش میں ڈینگو اور وائرل بخار کاقہر رک نہیں رہاہے ۔ فیروزآباد میں اب تک کئی بچوں سمیت 62 سے زیادہ لوگوں کی موت ہوچکی ہے۔ متھرا اور میرٹھ میں بھی ڈینگو کے مریض ہیں۔ پورے یوپی میں اب تک 100 سے زیادہ موتیں ہو چکی ہیں۔ وہیں متھرا میں 15 سے زیادہ اموات ہوئی ہیں۔ میرٹھ میں ڈینگو کے نئے مریض تشویش میں اضافہ کررہے ہیں۔ تقریباً 80 مریض اب بھی اسپتال میں بھرتی ہیں۔ یہاں ضلع انتظامیہ ڈینگو کی روک تھام کے لیے لوگوں کو بیدار کرنے میں مصروف ہے ۔ اس کے علاوہ وارانسی میںڈینگو کے معاملے کم ہیں،لیکن وہاں وائرل بخار کے مریضوں کی تعداد زیادہ ہے ۔
اترپردیش کے میرٹھ میں مسلسل ڈینگو کے مریضوں کی تعداد بڑھتی جارہی ہے ۔ ہفتہ کو 17 نئے مریض ملنے سے ضلع میں ڈینگو کے مریضوں کی تعداد 150 کےپاس پہنچ گئی ہے ۔ میرٹھ کے چیف میڈیکل افسر نے بتایا کہ میرٹھ میں 84 ایکٹو کیسز ہیں، جبکہ 75 مریض صحت یاب ہونے کے بعد گھر واپس لوٹ گئے ہیں۔ اگر ہم کل کی بات کریں تو میرٹھ میں 17 نئے ڈینگو مریض پائے گئے۔ انہوں نے کہا کہ لوگ پہلے سے زیادہ باشعور ہو رہے ہیں۔ ہر جگہ لوگوں نے صفائی رکھنا شروع کر دی ہے۔
میرٹھ سی ایم او نے کہا کہ ہمیں دیہی علاقوں میں لاروا ملا ہے۔ محکمہ صحت کی ٹیم جس گھر میں ڈینگو نکلتا ہے اس کے آس پاس کے 50 گھروں کا معائنہ کرتی ہے ۔ وہیں ڈینگو کے مریض کے گھر کے آس پاس فوگنگ اور اسی طرح کا کام کیا جا رہا ہے۔ ٹیم مسلسل فوگنگ اور اینٹی لاروا سپرے کر رہی ہے جس سے ہمیں اچھے نتائج ملے ہیں۔وہیں ڈور ٹو ڈور سروے کے بارے میں بات کریں تو بخار کے مزید مریض پائے گئے۔ جس میںتقریباً 3200 کیس ہمیں بخار کے ملے ۔ وہیں اگر بات کریں تو زکام متاثر ہ مریضوں کی تعداد 12 سو تھی۔ جس میں سے 2 ہفتہ سے زیادہ کھانسی والے مریضوں کی تعداد 222 ہے، جن کی بلغم کی جانچ کرائی گئی ۔
وارانسی میں ڈینگو کےانفیکشن میں وقت اور احتیاطی تدابیر کے ساتھ تھوڑی کمی آئی ہے ، لیکن وائرل بخار نے لوگوں کو جھلسارکھاہے ۔ وارانسی کے اسپتالوں میں ڈینگو کے مریض اب آہستہ آہستہ کم ہونے لگے ہیں ۔ ڈاکٹر بھی بتاتے ہیں کہ ڈینگو کا بخار وقت کے ساتھ کم ہونے لگے گا بس اگر کچھ احتیاطی تدابیر اختیار کی جائے ۔ ڈینگو کے انفیکشن وارانسی میں اس قدر پھیلا تھا کہ ڈینگوکے لیے علیحدہ سے اسپتال میں وارڈ بنا نا پڑا تھا، لیکن راحت کی بات یہ ہے کہ اب آہستہ آہستہ ڈینگو کے مریضوں کی تعداد کم ہونے لگی ہے ۔ اسپتال سے مریضوں کی چھٹی ہونے لگی ہے ، لیکن وائرل بخار میں لوگ ابھی مبتلا ہے ۔ اسپتال میں بھرتی ہونے والے زیادہ تر مریض اب وائرل بخار کے ہیں ۔










