تحریر: دلیپ کمار شرما
آسام کے ضلع درنگ کے دھول پور گاؤں میں ریاستی حکومت کی بے دخلی مہم کے دوران پرتشدد جھڑپوں کے بعد گاؤں میں سناٹا چھایا ہواہے ۔ پولیس انتظامیہ کے خوف سے گاؤں کے لوگ سوتا ندی کے کنارے ایلومینیم کی چادروں سے بنی عارضی چھت کے نیچے اپنے بچوں ، بوڑھوں اور خواتین کے ساتھ ڈیرے ڈالے ہوئےہیں۔ سپہاجھار شہر سے اندر تقریباً 14 کلومیٹر پر پڑنے والی نو اور سوتا ندی کے درمیان علاقے میں 3نمبر دھول پور گاؤں میں داخل ہوتےہی توڑے اور جلائے گئے سیکڑوں گھر نظر آتے ہیں ۔
کچھ لوگ بچا سامان ندی کےراستے دوسری جگہ لے جارہےہیں ، لیکن زیادہ تر بے گھر ہوئے لوگ کھلے آسمان کے نیچے کھیتوں میں اپنے بچوں اور بزرگوں کے ساتھ رہ رہے ہیں ۔ ضلع انتظامیہ کا دعویٰ ہے کہ درنگ کی سپہا جھار کے ماتحت 77 ہزار بیگھہ سرکاری زمین پر لوگوں کا قبضہ ہے ، لیکن گاؤں والوں کا کہنا ہے کہ وہ قریب 40-50برسوں سے اس چار علاقے (ندی کنارے) میں آباد ہیں ۔ 23 ستمبر کو تجاوزات ہٹاؤ مہم کے دوران پولیس انتظامیہ اور مقامی لوگوں میں تشدد ہوگیا تھا ۔
سوتا ندی کے کنارے گاؤں میں جھونپڑیوں سے رونے کی آواز آرہی تھی۔یہاں پولیس گولی سے مرنے والے معین الحق (28) کا پریوار رہتا ہے ۔ ایک کیمرہ مین کے معین الحق پر کودنے کی ویڈیو کافی بحث کا موضوع بنی ہوئی تھی۔ معین الحق کی ماں مومنہ بیگم روتے ہوئے کہتی ہیں کہ مجھے اپنا بیٹا چاہئے۔ میرے بیٹے کے ساتھ بہت برا کیا ۔ 3 نمبر گاؤں کی 38 سالہ میسران بیگم کہتی ہیں کہ گزشتہ رات ہم بچوںکو لے کر کھیت میں سوئےتھے ۔ مجھے معلوم نہیں ، اب آگے کیا کروں گی۔ ہم ووٹ دیتے ہیں ۔ ہم سب کا نام این آر سی میں ہے۔ اب ہمارے سارے کاغذات جلا دئے گئے ہیں۔
دھول پور گاؤں میں جلے ہوئے مکانات میں کچھ خواتین اپنے تباہ شدہ گھروں کے باہر گھر کا بچا سامان تلاش کررہی تھیں ۔ دوسری طرف گاؤں کے دورے پر آئے آسام پردیش کانگریس کے صدر بھوپین بورا کا کہنا ہے کہ بے قصوروں کا قتل کرنے کے لیے ہم ریاستی سرکار کو لائسنس نہیں دے سکتے ۔ آسام کے وزیر اعلیٰ خوف کا ماحول پیدا کر رہے ہیں۔
وہیں وزیر اعلیٰ ہمنت بسوا سرما نے کہا کہ ہم سرکاری اراضی پر قبضے میں نرمی نہیں دے سکتے۔ کل کو کوئی کاماکھیا مندر پر قبضہ کر لے گا ، پھر میں کچھ نہیں کر سکوں گا ، یہ ماننے والی بات نہیں ہے۔ وزیر اعلیٰ سرما نے چار علاقے کی سرکاری اراضی سے قبضے ہٹانے کے لیے پروجیکٹ گوروکھوٹی شروع کیا ہے۔
گرامین کا الزام ہے کہ 3 مساجد اور ایک مدرسہ کو بھی مسمار کردیا گیا ۔ دو نمبر دھول پور گاؤں کے عمر علی کہتے ہیں کہ ہمارے گھر کے پاس توڑی گئی مساجد میں نماز ادا کی جاتی تھی۔ دو نمبر گاؤں کے ہی محمد طیب کہتے ہیں کہ اس سرکاری زمین پر لوگ 60-70سال سے آباد ہیں ۔ سرکار نے اتنے دنوںتک کچھ نہیں کیا۔ اگر سرکار چاہے گی تو ہم زمین چھوڑنے کو تیار ہیں ۔ ہم آسام کےہی ہیں۔ سرکارہماری شہریت کے دستاویزات جانچ کرلے ۔
(بشکریہ: دینک بھاسکر)










