لکھنؤ : (ایجنسی)
اتر پردیش میں ہونے والے اسمبلی انتخابات سے عین قبل ایک اور سروے سامنے آیا ہے۔ اے بی پی-سی ووٹر کے تازہ سروے میں بھی بتایا گیا ہے کہ یوپی میں بی جے پی ایک بار پھر حکومت بنا سکتی ہے، لیکن اس بار نشستوں کی تعداد کافی کم ہوگی۔
سروے کے مطابق بی جے پی کو کل 403 سیٹوں میں سے241 سے 249 سیٹیں مل سکتی ہیں۔ وہیں سماج وادی پارٹی کو 130-138 نشستیں ملنے کی توقع ہے۔ مایاوتی کی بی ایس پی تیسرے نمبر پر ہے، جسے 15-19 سیٹیں مل سکتی ہیں۔کانگریس کو 3 سے 7 سیٹیں ملتی نظر آرہی ہیں۔
ووٹ شیئر کی بات کریں تو بی جے پی کو 41 فیصد ووٹ شیئر ملتانظر آرہاہے ۔ وہیں سماج پارٹی کو 32 فیصد، بی ایس پی کو 15 فیصد اور کانگریس کو 6 فیصد ووٹ مل سکتا ہے ۔
اس سروے میں لکھیم پور تشدد کے حوالے سے بھی سوال پوچھا گیاتھا ، لوگوں سے پوچھا گیا کہ کیا مرکزی وزیر اجے مشرا کے بیان سے لکھیم پور میں تشدد بھڑکا؟ اس سوال پر 61 فیصد لوگوں نے ہاں میں جواب دیا۔ جبکہ باقی 39 فیصد لوگوں نے نہیں کہا۔ جب لوگوں سے پوچھا گیا کہ کیا لکھیم پور واقعہ سے بی جے پی کو نقصان ہوا ہے؟ اس پر 70 فیصد لوگوں نے مانا کہ ہاں بی جے پی کو اس سے نقصان ہواہے۔ 30 فیصد لوگوں نے نہیں میں جواب دیا۔
اتنا ہی نہیں ، سروے میں بتایا گیا ہے کہ لوگوںکو اب یوپی میں امن و امان کی صورت حال کو خراب ہوتے نظر آرہے ہیں ۔ جب لوگوں سے پوچھا گیا کہ پچھلے کچھ دنوں میں یو پی میں امن و امان کی صورت حال کیا خراب ہوئی ہے … اس پر 63 فیصد لوگوں نے اتفاق کیا، جبکہ باقی 37 فیصد نے اس کی تردید کی۔
یوپی انتخابات سے عین قبل جب ریاست کے لوگوں سے یہ سوال پوچھا گیا کہ کسانوں کی تحریک کے بارے میں کون صحیح ہے … حکومت یا کسان؟ اس کے جواب میں زیادہ تر لوگوں نے اپنا ووٹ کسانوں کے حق میں دیا۔ 59 فیصد لوگوں نے کسانوں کو صحیح کہا ، باقی 41 فیصد لوگ حکومت کی طرف کھڑے نظر آئے۔










