اردو
हिन्दी
مئی 4, 2026
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں

خبروں کی منڈی میں صحافت برائے فروخت

5 سال پہلے
‏‏‎ ‎‏‏‎ ‎|‏‏‎ ‎‏‏‎ ‎ گراونڈ رپورٹ, مضامین
A A
0
خبروں کی منڈی میں صحافت برائے فروخت
181
مشاہدات
Share on FacebookShare on TwitterShare on Whatsapp

’’صحافت ختم ہورہی ہے اور صحافی بڑھ رہے ہیں! ’ٹھیک اسی طرح کھیت ختم ہو رہے ہیں اور زرعی مزدور بڑھ رہے ہیں۔ کھیتی کی زمین بڑے گھرانے خرید رہے ہیں اور اب وہ ہی طے کرنے والے ہیں کہ اس پر کونی سی فصلیں اگانی ہیں۔‘‘


کولکاتا سے نکلنے والے انگریزی اخبار ‘’دی ٹیلی گراف‘ کے پیر (29 مارچ 2021) کے شمارے میں صفحہ اول پر ایک خصوصی خبر شائع ہوئی ہے۔ خبر گوہاٹی کی ہے اور اس کا تعلق 27 مارچ کو آسام میں اختتام ٖپذیر ہوئی اسمبلی انتخابات کے پہلے مرحلہ کی ووٹنگ سے ہے۔ آسام میں تین مرحلے میں ووٹنگ ہونی ہے۔تیسرے و آخری مرحلے کی ووٹنگ چھ اپریل کو ہونے والی ہے۔
ٹیلی گراف کے مطابق آسام کے نو سر فہرست اخبارات (سات آسامی ، ایک انگریزی میں اور ایک ہندی) میں پہلے مرحلے کی ووٹنگ کے ٹھیک اگلےہی دن صفحہ اول پر سب سے اوپر ایک کونے سے دوسرے کونے تک پھیلی ایک ’خبر‘ نمایاں طور پر شائع ہوئی ہے۔ سبھی میں ایک جیسے چوکانے والے عنوان کے ساتھ شائع مبینہ خبر حقیقت میں اشتہار ہے۔
’خبر‘کے بائیں جانب بی جے پی کا نام اور اس کا انتخابی نشان بھی دیا گیا ہے۔ ان تمام اخبارات نے خبر کی شکل میں ایک جیسا جو کچھ شائع ہوا ہے ( بی جے پی اوپری آسام علاقے کی وہ سبھی 47 سیٹوں پر کامیابی حاصل کرنے جارہی ہے جہاں پہلے مرحلے میں ووٹنگ ہوئی ہے۔ )

منصفانہ صحافت؟

مذکورہ اشاعت کے ذریعہ مبینہ انتخابی ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کے معاملہ پر آسام کی تمام سیاسی جماعتوں نے ایف آئی آر درج کرائی ہے اور دیگر کارروائی بھی کی جارہی ہے۔ مگر ہمارا سوال برعکس ہے۔ وہ یہ کہ کیا اخبارات کے ایڈیٹرز نے یہ کام نادانستہ طور پرکیا (یا ہونے دیا)اور انہیں اس بات کی جانکاری نہیں تھی کہ قارئین کے ساتھ منصفانہ صحافت کے نام پر ’دھوکہ دہی‘ کی جارہی ہے؟ یا پھر کسی دباؤ کی وجہ سے ،سب کچھ جانتے ہوئے ہونے دیا گیا؟
ضابطہ اخلاق کے مطابق انتخابات ختم ہونے تک ایسی کوئی معلومات ، تخمینہ یا سروے شائع یا نشر نہیں کیے جاسکتے ہیں۔
رویش کمار کا شمار ملک کے ایماندار اور ممتاز مدیروں میں ہوتا ہے۔ وہ اور ان جیسے بہت سے دیگر صحافی کثیر تعداد میں نہ ہونے کے باوجود اظہار رائے کی آزادی کے لئے مسلسل لڑرہے ہیں۔ رویش اپنی گفتگو میں اس بات کا اعادہ کرتے ہیں کہ لوگوں کو ’گودی‘ میڈیا دیکھنا (اور پڑھنا) بند کردینا چاہئے۔ ’گودی‘ میڈیا سے ان کا مطلب یقینی طور پر اس میڈیا سے ہے جو پوری طرح سے سسٹم کی گود میں بیٹھا ہوا ہے اور جان بوجھ کر ’سنجے کے بجائے ’دھرتراشٹر‘ کی شکل اپنائے ہوئے ہے۔
رویش کمار یہ نہیں کہتے (یا بتانا چاہتے ) کہ جس طرح کا میڈیا اس وقت خبروں کی منڈی میں بک رہا ہے ، اس میں ناظرین اور قارئین کو کیا دیکھنا اور پڑھنا چاہئے؟ یہ بتانا ایک بہت ہی مشکل اور چیلنج سے بھرا کام ہے ، خاص طور پر ایسی صورتحال میں جہاں تقریباً تمام بڑے کنوؤں میں وفاداری کی بھانگ ڈال دی گئی ہو۔ ایمرجنسی کے دوران میڈیا سنسرشپ کے باوجود کافی کچھ کنویں باقی تھے جن کے پانی پر بھروسہ کیا جاسکتا تھا۔

انڈین ایکسپریس کی فہرست سے غائب

ایمرجنسی کی بات چلی ہے تو اس وقت کے بے خوف وبے باک اخباروں میں ایک’ ‘انڈین ایکسپریس‘ کے ایڈیٹرز اور صحافیوں کا کافی نام تھا۔( خوش قسمتی سے میں اس دوران وہیں کام کرتا تھا) اندرا گاندھی کے خلاف لڑنے والے اس انگریزی اخبار نے حال ہی میں سال 2021 کے لئے ملک کے طاقتور ترین سو افراد کی فہرست جاری کی ہے۔
پوری فہرست میں ایک سو پینتیس کروڑ لوگوں کے ملک میں مشرق سے مغرب اور شمال سے جنوب تک ایک بھی ‘’طاقتور‘ایڈیٹر یا صحافی کانام موجود نہیں ہے۔ کیا یقینی طور پر ایسی بدقسمتی کی صورتحال پیدا ہورہی ہے کہ اس وقت ملک میں کوئی طاقتور صحافی؍ ایڈیٹر باقی بچا نہیں ہے؟ یا اس فہرست میں شامل سو افراد اتنے طاقتور ہوچکے ہیں کہ کوئی بھی صحافی یا ایڈیٹر ان کے بیچ جگہ بنا ہی نہیں سکتا تھا؟
رویش کمار اور ان جیسےایک سو -پچاس یا ہزار دوہزار معلوم -نامعلوم صحافیوں یا ‘’ایڈیٹرز گلڈ‘ جیسی کچھ تنظیموں کی بات چھوڑ دیں جو ہر طرح کے حملوں کو برداشت کرتے ہوئے بھی آزادی اظہار رائے میں مصروف ہیں۔ تو کیا کوئی پوچھنا نہیں چاہئے کہ ملک میں لاکھوں کی تعداد میں جو باقی صحافی اور ایڈیٹرز ہیں وہ اس وقت حقیقت میں کیا کام کررہے ہوں گے؟ کس اخبار اور کس چینل میں کس طرح کی خبروں کے لیے وہ اپنام خون پسینہ ایک کررہے ہوں گے ؟
’’صحافت ختم ہورہی ہے اور صحافی بڑھ رہے ہیں! ’ٹھیک اسی طرح کھیت ختم ہو رہے ہیں اور زرعی مزدور بڑھ رہے ہیں۔ کھیتی کی زمین بڑے گھرانے خرید رہے ہیں اور اب وہ ہی طے کرنے والے ہیںکہ اس پر کونی سی فصلیں اگانی ہیں۔‘‘
کارپوریٹ سیکٹر کے ذریعے میڈیا اداروں کو بھی حاصل کیا جارہا ہے اور صحافیوں کو بکنے والی خبروں کے حساب سے لکھوایا جارہا ہے۔ کسان اپنی زمین کو خریدے جانے کے خلاف جد وجہد کررہے ہیں ۔ میڈیا کی پوری زمین ہی کھسک رہی ہے مگر وہ مین ہے۔ غور کرنا چاہئے کہ کسانوں کے آندولن کو میڈیا میں اس وقت کتنی جگہ دی جارہی ہے؟ د ی بھی جارہی ہے یا نہیں ؟ جبکہ اصلی آندولن ختم نہیں ہوا ہے۔ صرف میڈیا میں ختم کردیا گیا ہے۔
آسام کے کچھ اخبارات میں جو تجربہ ہوا ہے۔ وہ ملک کے دوسرے اخبارات اور چینلوں میں آپ نے الگ الگ شکل میں برسوں سے مسلسل چل رہا ہے۔ وہ ٹھنڈ، گرمی ،برسات کی طرح ناظرین اور قارئین کو کبھی کبھی محسوس ضرور ہوتا ہے ، لیکن خدا کی طرح نظر نہیں آتا۔

میڈیا کنٹرول

ہنگامی صورتحال کسی بھی طرح کا حال ، عوام بعد میں خوفزدہ ہوتے ہیں۔میڈیا کاایک بڑا طبقہ تو ڈرنے کی ضرورت پیدا ہونے سے پہلے ہی کانپنے لگتا ہے۔ سرکاریں جانتی ہیں کہ میڈیا پر کنٹرول کس دیاجائے تو پھر ملک کو چلانے کے لیے عوام کی حمایت کی ضرورت بھی ایک بڑی حد تک اپنے آپ کنٹرول ہوجاتی ہے۔ آپ بھی سوچئے کہ آخر کیوں؟ ’د ی ٹیلی گراف ‘ جیسا اخبار کہیں اور پڑھنے یا دیکھنے کو نہیں مل پاتا ہے۔

قارئین سے ایک گزارش

سچ کے ساتھ آزاد میڈیا وقت کی اہم ضرورت ہےـ روزنامہ خبریں سخت ترین چیلنجوں کے سایے میں گزشتہ دس سال سے یہ خدمت انجام دے رہا ہے۔ اردو، ہندی ویب سائٹ کے ساتھ یو ٹیوب چینل بھی۔ جلد انگریزی پورٹل شروع کرنے کا منصوبہ ہے۔ یہ کاز عوامی تعاون کے بغیر نہیں ہوسکتا۔ اسے جاری رکھنے کے لیے ہمیں آپ کے تعاون کی ضرورت ہے۔

سپورٹ کریں سبسکرائب کریں

مزید خبریں

US Iran War Strategic Defeat News
مضامین

امریکہ – اسرائیل – ایران جنگ میں امریکہ کی اسٹریٹجک ہار پہلے سے طے

23 مارچ
Hormuz Strait Iran Speech
مضامین

ایران میں قیادت کی تبدیلی اور مجتبیٰ خامنہ ای: ایک تجزیاتی مطالعہ

12 مارچ
Modi Israel Gaza Questions Debate
مضامین

پی ایم مودی کے دورہ اسرائیل میں غزہ کے مصائب کا ذکر تک نہ ہونے پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔ کیا چاہتا ہے بھارت ؟

28 فروری
  • ٹرینڈنگ
  • تبصرے
  • تازہ ترین
Humayun Kabir Owaisi Video Row

ہمایوں کبیر کے خفیہ ویڈیو نے اویسی پر بی جے پی کی بی ٹیم کے الزام کو تقویت دی، اتحاد ٹوٹا ، سیاسی بصیرت پر بھی سوال

اپریل 10, 2026
یوپی کے 558 مدارس میں مڈ ڈے میل کون کھا رہا ہے؟ چونکاتی گراؤنڈ رپورٹ

یوپی کے 558 مدارس میں مڈ ڈے میل کون کھا رہا ہے؟ چونکاتی گراؤنڈ رپورٹ

اپریل 10, 2026
DD News Anchor Controversy News

پبلک ٹیکس سے چلنے والے ‘ڈی ڈی نیوز’ کے اینکر نے کہا” ساورکر کے چپل کی دھول بھی نہیں راہل گادھی

اپریل 13, 2026
طالبان ميں پھوٹ کی خبريں، حقيقت يا پروپيگنڈہ؟

طالبان ميں پھوٹ کی خبريں، حقيقت يا پروپيگنڈہ؟

ستمبر 19, 2021
امریکہ ایران کشیدگی خبر

امریکہ–ایران کشیدگی ایک بار پھر سرخیوں میں، جنگ بندی میں توسیع کے باوجود بڑے معاہدے کا مستقبل خطرے میں

الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

دہلی میں بڑھتے جرائم پولیس الرٹ

دہلی-NCR میں جرائم کے واقعات میں اضافہ، پولیس الرٹ

امریکہ ایران کشیدگی خبر

ایران–امریکہ مذاکرات میں محدود پیش رفت، اختلافات بدستور برقرار: قالیباف

امریکہ ایران کشیدگی خبر

امریکہ–ایران کشیدگی ایک بار پھر سرخیوں میں، جنگ بندی میں توسیع کے باوجود بڑے معاہدے کا مستقبل خطرے میں

اپریل 22, 2026
الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

اپریل 21, 2026
دہلی میں بڑھتے جرائم پولیس الرٹ

دہلی-NCR میں جرائم کے واقعات میں اضافہ، پولیس الرٹ

اپریل 21, 2026
امریکہ ایران کشیدگی خبر

ایران–امریکہ مذاکرات میں محدود پیش رفت، اختلافات بدستور برقرار: قالیباف

اپریل 19, 2026

حالیہ خبریں

امریکہ ایران کشیدگی خبر

امریکہ–ایران کشیدگی ایک بار پھر سرخیوں میں، جنگ بندی میں توسیع کے باوجود بڑے معاہدے کا مستقبل خطرے میں

اپریل 22, 2026
الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

اپریل 21, 2026
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein

روزنامہ خبریں مفاد عامہ ‘ جمہوری اقدار وآئین کی پاسداری کا پابند ہے۔ اس نے مختصر مدت میں ہی سنجیدہ رویے‘غیر جانبدارانہ پالیسی ‘ملک و ملت کے مسائل معروضی انداز میں ابھارنے اور خبروں و تجزیوں کے اعلی معیار کی بدولت سماج کے ہر طبقہ میں اپنی جگہ بنالی۔ اب روزنامہ خبریں نے حالات کے تقاضوں کے تحت اردو کے ساتھ ہندی میں24x7کے ڈائمنگ ویب سائٹ شروع کی ہے۔ ہمیں یقین ہے کہ یہ آپ کی توقعات پر پوری اترے گی۔

اہم لنک

  • ABOUT US
  • SUPPORT US
  • TERMS AND CONDITIONS
  • PRIVACY POLICY
  • GRIEVANCE
  • CONTACT US
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے

.ALL RIGHTS RESERVED © COPYRIGHT ROZNAMA KHABREIN

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password?

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In

Add New Playlist

کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے

.ALL RIGHTS RESERVED © COPYRIGHT ROZNAMA KHABREIN