نئی دہلی (ایجنسی)
مرکزی وزیر راج ناتھ سنگھ نے گزشتہ روز ایک پروگرام سے خطاب کرتے ہوئے گاندھی جی اور ویر ساورکر کے بارے میں ایک بیان دیا تھا جس کی وجہ سے وہ سرخیوں میں آگئے ہیں۔ راج ناتھ سنگھ نے کہا تھا کہ ویر ساورکر نے صرف گاندھی جی کے کہنے پر انگریزوں کے سامنے معافی کی درخواست دائر کی تھی۔ اب مشہور مصنف اور نغمہ نگار جاوید اختر نے بھی اسے اس معاملے پر طنز کیا ہے۔ جاوید اختر نے ٹوئٹر پر راج ناتھ سنگھ کے بیان کا جواب دیا ، جس میں انہوں نے مرکزی وزیر کے دعوے کو مکمل طور پر جھوٹا اور فضول قرار دیا۔
جاوید اختر نے راج ناتھ سنگھ کے بیان پر طنز کرتے ہوئے لکھا ، ’ویر ساورکر کی طرف سے انگریزوں کو پیش کی گئی دو معافی کی درخواستیں 1911 اور 1913 میں دائر کی گئیں (جب وہ کالاپانی گئے تھے)۔ گاندھی جی جو کہ جنوبی افریقہ میں تھے ،وہ ہندوستانی تحریک آزادی مہم سے 1915 میں جڑے تھے ۔ تو یہ پوری طرح غلط ہے کہ انہوں نے گاندھی جی کی وجہ سے رحم کی درخواست دائر کی تھی ۔ بکواس ۔‘
جاوید اختر یہیں نہیں رکے انہوں نے اپنے ایک ٹویٹ میں راج ناتھ سنگھ پر جوابی وار کرتے ہوئے لکھا :’یہ دعویٰ کرتے پوئے کہ ساوکر نےگاندھی جی کے مشورہ پر برٹش حکومت کو معافی نامہ بھیجا تھا ، ہمارے وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ جی گاندھی جی سے فخر اور شان لے کر ساورکر کو دینا چاہ رہے ہیں ،لیکن یہ کام نہیں آیا۔ ‘
اب سوشل میڈیا صارفین بھی جاوید اختر کے ان ٹوئٹس پر کافی تبصرہ کر رہے ہیں۔ جاوید اختر کے ٹویٹ کا جواب دیتے ہوئے ، نکھل یادو نامی ایک صارف نے لکھا ، ’انہیں گاندھی جی کی ضرورت ہے کہ وہ ونائک ساورکر کا جواز پیش کرسکیں، لیکن ساتھ ہی وہ گاندھی کی یوم پیدائش پر گوڈسے امر رہے کا ٹرینڈ کرتے ہیں ۔ بی جے پی کے پاس راج ناتھ سنگھ کے بیان کو وثابت کرنے کے لیے کچھ نہیں ہے ۔‘
جاوید اختر کے ٹویٹ کا جواب دیتے ہوئے ڈاکٹر اروند نامی یوزر نے لکھا ،’ساورکر جی ایک بڑے اور فراست فہم شخص تھے ۔ مجھے امید ہے کہ گاندھی جی نےانہیں رحم کی اپیل کرنے کامشورہ نہیں دیا تھا۔‘ ایک صارف نے جاوید اختر کے ٹویٹ پر طنز کیا اور لکھا ، ’مجھے لگتا ہے کہ آپ ملک کے سیاسی ماحول کو سمجھنے سے قاصر ہیں۔‘









