نئی دہلی: بھارتی حکومت نے واٹس ایپ کے مجوزہ Username فیچر پر عارضی روک لگاتے ہوئے اس کی پیرنٹ کمپنی میٹا سے تین دن کے اندر تفصیلی جواب طلب کیا ہے۔ حکومت کو خدشہ ہے کہ اس فیچر کے ذریعے موبائل نمبر چھپانے کی سہولت سائبر جرائم، فراڈ اور شناخت چھپا کر غیر قانونی سرگرمیوں میں اضافہ کر سکتی ہے۔
حکومت کا یہ قدم ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب حال ہی میں نیٹ (NEET) پیپر لیک معاملے کے بعد صرف یوزرنیم کی بنیاد پر اکاؤنٹ بنانے کی سہولت فراہم کرنے والے پلیٹ فارم ٹیلی گرام پر بھی سخت کارروائی کی گئی تھی۔ اسی پس منظر میں حکومت نے واٹس ایپ کے نئے فیچر کا بھی جائزہ لینے کا فیصلہ کیا ہے۔
واٹس ایپ کا نیا فیچر کیا ہے؟
واٹس ایپ ایک ایسے فیچر پر کام کر رہا ہے جس کے تحت صارفین اپنا موبائل نمبر شیئر کیے بغیر صرف ایک منفرد Username کے ذریعے دوسروں سے رابطہ کر سکیں گے۔ یہ نظام ٹیلی گرام اور دیگر میسجنگ ایپس کی طرز پر ہوگا، جہاں گفتگو شروع کرنے کے لیے فون نمبر ظاہر کرنا ضروری نہیں ہوتا۔
حکومت کو کن باتوں پر اعتراض ہے؟
حکام نے میٹا سے پوچھا ہے کہ اس فیچر میں صارفین کی تصدیق کیسے ہوگی، جعلی یا ملتے جلتے ناموں والے اکاؤنٹس کو کیسے روکا جائے گا، آن لائن فراڈ اور سائبر جرائم کی روک تھام کے لیے کیا حفاظتی اقدامات کیے جائیں گے، اور ضرورت پڑنے پر قانون نافذ کرنے والے ادارے مجرموں تک کیسے پہنچ سکیں گے۔
حکومت نے واضح کیا ہے کہ جب تک ان تمام سوالات کے تسلی بخش جواب نہیں مل جاتے اور باضابطہ منظوری نہیں دی جاتی، اس فیچر کو بھارت میں متعارف نہ کرایا جائے۔
میٹا کا کیا کہنا ہے؟
حکومت کے نوٹس کے بعد واٹس ایپ کے ترجمان نے کہا کہ Username فیچر آنے کے باوجود اکاؤنٹ بنانے کے لیے موبائل نمبر لازمی رہے گا۔ کمپنی کے مطابق صارفین کو صرف اپنا پسندیدہ یوزرنیم محفوظ (Reserve) کرنے کی سہولت دی جائے گی، جبکہ یہ فیچر ابھی لانچ نہیں ہوا ہے اور اسے رواں سال مرحلہ وار متعارف کرانے کا منصوبہ ہے۔









