لکھنؤ: برصغیر کے ممتاز عالمِ دین، مصنف اور ماہرِ تعلیم مولانا سید سلمان حسینی ندوی مختصر علالت کے بعد پیر کے روز لکھنؤ میں انتقال کر گئے۔ وہ 72 برس کے تھے۔ ان کے انتقال کی خبر سے علمی، دینی اور سماجی حلقوں میں گہرے رنج و غم کی لہر دوڑ گئی ہے۔
مولانا سلمان حسینی ندوی 1954 میں لکھنؤ کے ایک ممتاز علمی و دینی خانوادے میں پیدا ہوئے۔ ان کا سلسلۂ نسب حضرت امام حسینؓ سے جا ملتا ہے۔ انہوں نے ابتدائی تعلیم دارالعلوم ندوۃ العلماء میں حاصل کی، قرآنِ کریم حفظ کیا اور بعد ازاں شریعت، حدیث، فقہ اور اسلامی علوم میں اعلیٰ تعلیم حاصل کی۔ وہ اسلامی تعلیمات، سیرتِ نبویؐ اور فقہی مسائل پر اپنی گہری علمی بصیرت کے باعث دنیا بھر میں پہچانے جاتے تھے۔
تعلیم و تحقیق کے میدان میں نمایاں خدمات
مولانا ندوی نے تدریس، تصنیف اور مختلف تعلیمی اداروں کے قیام کے ذریعے اسلامی تعلیم کے فروغ میں اہم کردار ادا کیا۔ وہ ڈاکٹر عبدالعلی یونانی میڈیکل کالج اینڈ اسپتال کے چیئرمین، دارالعلوم سید احمد شہید، کٹولی کے چانسلر اور جمعیت شباب الاسلام کے صدر بھی رہے۔ اس کے علاوہ انہوں نے ملک بھر میں کئی طبی، انجینئرنگ اور انفارمیشن ٹیکنالوجی کے اداروں کے قیام میں بھی فعال کردار ادا کیا۔
واضح مؤقف رکھنے والے عالم
مولانا سلمان حسینی ندوی اپنے بے باک خیالات کے لیے بھی معروف تھے۔ وہ مسلم دنیا خصوصاً بعض عرب ممالک کی پالیسیوں پر کھل کر اظہارِ خیال کرتے تھے اور امتِ مسلمہ کو درپیش مسائل پر مسلسل آواز بلند کرتے رہے۔ ان کی علمی خدمات، خطابات اور تصنیفات نے اسلامی فکر اور تعلیم کے میدان میں گہرے اثرات مرتب کیے۔
ان کے انتقال کے بعد ملک و بیرونِ ملک سے علما، دینی مدارس، تعلیمی اداروں، سابق طلبہ اور مختلف سماجی شخصیات نے گہرے رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے انہیں خراجِ عقیدت پیش کیا۔ ذرائع کے مطابق ان کی نمازِ جنازہ پیر کو لکھنؤ کے قریب ملیح آباد میں ادا کی جائے گی۔











