ممبئی: بمبئی ہائی کورٹ نے اختلافِ رائے کے آئینی حق کی حمایت کرتے ہوئے ایک اہم فیصلہ سنایا ہے۔ عدالت نے کہا کہ صرف حکومت یا کسی سیاسی جماعت کے خلاف نعرے لگانے کی بنیاد پر کسی شہری کو ضلع بدر نہیں کیا جا سکتا۔ عدالت نے ایک سیاسی کارکن کے خلاف جاری ضلع بدری کا حکم منسوخ کرتے ہوئے واضح کیا کہ ہر شہری کو اپنی رائے کے اظہار، احتجاج کرنے اور باوقار زندگی گزارنے کا آئینی حق حاصل ہے۔

‘بی جے پی مردہ باد’ یا ‘امت شاہ مردہ باد’ کے نعرے ضلع بدر کی بنیاد نہیں
سماعت کے دوران جسٹس مادھو جمدار نے کہا کہ "بی جے پی مردہ باد” یا "امت شاہ مردہ باد” جیسے نعرے لگانا بذاتِ خود ایسا جرم نہیں جس کی بنیاد پر کسی شخص کو اپنے علاقے سے بے دخل کر دیا جائے۔ عدالت نے کہا کہ جمہوری نظام میں حکومت یا سیاسی جماعتوں پر تنقید اور ان کے خلاف پرامن احتجاج آئین کی طرف سے دیا گیا بنیادی حق ہے، اسے مجرمانہ سرگرمی نہیں قرار دیا جا سکتا۔
معاملہ کیا تھا؟
یہ مقدمہ سوشلسٹ ڈیموکریٹک پارٹی آف انڈیا (SDPI) کے جنرل سیکریٹری سید احمد عبد الواحد چودھری سے متعلق ہے۔ ان پر شہریت ترمیمی قانون (CAA) اور گیان واپی مسجد سمیت مرکزی حکومت کے مختلف فیصلوں کے خلاف احتجاج اور مظاہرے منعقد کرنے کے الزامات تھے۔ ممبئی پولیس نے ان کے خلاف درج پانچ ایف آئی آرز کا حوالہ دیتے ہوئے انہیں ایک سال کے لیے ضلع بدر کرنے کا حکم جاری کیا تھا، جسے بعد میں متعلقہ انتظامی حکام نے بھی برقرار رکھا۔ اس کے بعد چودھری نے ہائی کورٹ سے رجوع کیا۔
عدالت نے پولیس کو بھی سخت سوالات کیے
سماعت کے دوران جسٹس مادھو جمدار نے پولیس سے سوال کیا کہ آخر صرف حکومت کے خلاف احتجاج کرنے یا نعرے لگانے کی بنیاد پر کسی شہری کو ضلع بدر کیسے کیا جا سکتا ہے؟ عدالت نے سخت ریمارکس دیتے ہوئے کہا، "یہ کیا ہو رہا ہے؟ کیا تمام شہریوں کو حکومت کا غلام بنایا جا رہا ہے؟ اگر لوگ احتجاج کریں گے تو ان پر مقدمے درج کر دیے جائیں گے؟ یہ جمہوریت کا طریقہ نہیں ہو سکتا۔”









